آج بروز پیر 15 دسمبر، دوپہر دو بجے جھنگ میں عظیم روحانی پیشوا، مصلحِ امت اور صوفیِ باصفا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جسے اب ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے۔ اس جنازے میں ملک بھر سے علم و عرفان کے متلاشی، علماء کرام، دینی مدارس کے طلبہ، مشائخِ طریقت اور عامۃ المسلمین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
خصوصی طور پر جامعہ خیرالمدارس ملتان کی جانب سے بھرپور اور نمایاں شرکت دیکھنے میں آئی۔ درالافتاء کے معزز اساتذہ کرام میں سے حضرت اقدس مولانا مفتی محمد عبداللہ صاحب، مفتی عبدالحکیم صاحب اور مفتی زیشان ندیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے نمازِ جنازہ میں شرکت کر کے مرحوم کے ساتھ اپنے قلبی تعلق اور عقیدت کا عملی اظہار کیا۔ اسی طرح تخصص فی الفقہ سالِ دوم کے تقریباً سات طلبہ کے علاوہ جامعہ کے مختلف درجات سے تعلق رکھنے والے متعدد طلبہ، اساتذہ کرام اور منتظمین حضرات بھی جھنگ پہنچے۔
یہ غیر معمولی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ کا فیض محض خانقاہی حلقوں تک محدود نہ تھا، بلکہ دینی مدارس، اہلِ علم، فقہاء اور طالبانِ حق کے قلوب میں بھی ان کا مقام نہایت بلند اور مسلم تھا۔
دولت، اختیار اور دنیا — پھر فقیری کا انتخاب کیوں؟
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ یکم اپریل 1953ء کو جھنگ کے معزز کھرل خاندان میں پیدا ہوئے۔ گھر میں دینی ماحول، ذکر و عبادت کی فضا اور روحانی اقدار موجود تھیں، جنہوں نے ابتدا ہی سے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے جدید تعلیم میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
1972ء میں BSc الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، جبکہ مزید تعلیم UET لاہور سے مکمل کی۔ عملی زندگی میں وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئر کے طور پر ابھرے، جن کے زیرِ انتظام 35 سے زائد فیکٹریاں تھیں۔ 1990ء کے لگ بھگ ان کی یومیہ آمدن ایک لاکھ روپے کے قریب بتائی جاتی ہے، اور ان کے اپنے بیانات کے مطابق وہ ٹیکس بھی پوری دیانت داری سے ادا کرتے تھے۔
زندگی کا فیصلہ کن موڑ:
کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی کا اصل ٹرننگ پوائنٹ لاہور میں آیا، جہاں ان کی ملاقات مولانا سید زوار حسین رحمہ اللہ سے ہوئی۔ اسی دور میں انہوں نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات کا گہرا مطالعہ کیا، جنہوں نے ان کے باطن میں انقلاب برپا کر دیا۔
وہ خود بیان فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے دل میں عہد کر رکھا تھا کہ
جیسے ہی چالیس برس کے ہوں گے، دنیاوی زندگی سے ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔
اور پھر انہوں نے بلا کسی حیل و حجت کے، عین چالیس برس کی عمر میں اس وعدے کو پورا کر دکھایا۔
یہی وہ باطنی انقلاب تھا جس نے انہیں محض ایک شخص نہیں بلکہ ایک تحریک بنا دیا۔
پاک و ہند کے ہزاروں علماء، اہلِ علم اور اہلِ دل ان کی صحبت اور نسبت میں آئے۔ ان کے حلقۂ ارادت میں مدارس کے فضلاء، اساتذہ اور خطباء کی بڑی تعداد شامل رہی۔
سال 2013-14ء میں دنیا کے بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست
“The 500 Most Powerful Muslims” میں بھی ان کا نام شامل کیا گیا
تصانیف اور فکری وراثت::
موجودہ ریکارڈ کے مطابق پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ نے 140 سے زائد کتب تصنیف فرمائیں، جن میں چند نمایاں یہ ہیں:
1. خطباتِ فقیر
2. باادب بانصیب
3. تمنائے دل
4. زادِ حرم
5. قرآن مجید کے ادبی اسرار و رموز
ان کی تحریروں اور بیانات میں تزکیۂ نفس، اخلاص، اتباعِ سنت اور باطنی اصلاح کا پیغام نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
طلبۂ مدارس کے حق میں جرأت مندانہ موقف:
ایک موقع پر جب ایک کمشنر نے مدارس کے طلبہ کو نکمے اور ناکارہ قرار دیا تو پیر صاحب رحمہ اللہ نے نہایت درد مندانہ انداز میں فرمایا (بمفہوم):
جب دنیا کے معاملات دیکھ کر اللہ اپنی ناراضی ظاہر کرتا ہے،
اور انہی لمحوں میں کوئی طالبِ علم اللہ کا نام لیتا ہے،
تو ربِ کریم کو پیار آتا ہے۔
انہی طلبہ کی برکت سے تم پر کرم ہے،
ان کی قدر کرو۔”
علامہ اقبالؒ اور فقیرانہ نسبت:
وہ فرمایا کرتے تھے کہ علامہ اقبالؒ کی ایک رباعی ان کے دل میں اتر گئی تھی، جو بظاہر ان کی پسندیدہ بھی تھی:
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہِ مصطفیٰؐ پنہاں بگیر
ترجمہ:
اے اللہ! تو دونوں جہانوں سے بے نیاز ہے اور میں ایک فقیر ہوں۔
قیامت کے دن بس میری ایک گزارش قبول فرما لینا۔
اگر میرا حساب لینا ناگزیر ہو ہی جائے،
تو مجھے مصطفیٰ ﷺ کی نگاہوں سے اوجھل رکھ کر حساب لینا۔
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددیؒ کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ محض وقت سے نہیں بھرے گا۔ وہ ایک ایسے صوفی تھے جنہوں نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو فقر کا مفہوم سمجھایا اور اہلِ دین کو عمل کی روح سے جوڑا۔
آج جھنگ کی مٹی نے ایک ایسا چراغ اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے جس کی روشنی مدتوں دلوں کو منور کرتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد اویس رسول