یہ جہاں چیز ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔


اس ناقابل تردید حقیقت کا کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا کہ یہ دنیوی زندگی ایک عارضی شے ہے ، یہاں کی ہرہر چیز کو زوال آنا ہے ، دنیا کا ہر ایک ذرہ فنا ہونے والا ہے ، یہ مہر و مہ و انجم سب ایک نہ ایک دن ختم ہوجائیں گے ، اس حقیقت سے سب واقف اور آشنا ہیں کہ حیات دنیویہ کی نعمتیں ابدی ہیں اور نہ رنج وآلام ۔۔۔۔۔۔۔غرض ایک صادق مومن کے لیے یہ جہاں مثل حباب اور بلبلے کے ہے، جس کا بجھنا اور ختم ہونا یقینی ہے ۔

تو اے میرے سچے مومن ! جب یہ انعام یہ خوشیاں یہ غم واندوہ یہ مصائب و تکالیف سب ختم ہوجانے والے ہیں ، یہ محلات ، عمارات، بنگلے یہ بڑی بڑی گاڑیاں سب زوال پذیر ہیں ، تو ان میں دل کیوں لگانا ، کیا خداے عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد نہیں فرمایا؟ " کل من علیہا فان " ، جب یہاں کے آلام ومصائب - آزمائشیں ،‌بیماریاں یہ انسانوں کا مکرو فریب ابدی نہیں ، تو ان آزمائشوں پر کیوں رونا دھونا ؟ ان انسانی مکائد پر کیوں آنسو بہانا ؟ ، کیا یہ حیات غیر اصلیہ نہیں ؟۔۔۔۔۔۔۔

اے عقل و خرد کے مالک انسان ! یہ بچگانہ عادت ترک کردے ، غبارے کو دیکھ دیکھ کر خوش ہونا چھوڑ دے - جب کہ تجھے معلوم ہے یہ غبارہ ایک دن بجھ جاے گا - تیرگی و تاریکی کی آمد پر گریہ و زاری نہ کر ! - جب کہ تو جانتا ہے کہ صبح ضرور بالضرور طلوع ہوگی ، یقیناً ہر رات کے بعد سحر ہے اور ہر روشن دن کے بعد ایک شب تاریک ۔۔۔۔۔۔۔۔ غالب کا خوب صورت شعر ہے : 
  بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے 
  ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے 

اللہ ہمیں دنیوں زندگی پر بھروسہ کرنے سے باز رکھے ، اور ہمیں آخرت اور صرف آخرت کےلیے محنت کرنے کی تو فیق دے ۔۔۔۔آمین یارب العالمین ۔

ازقلم : عبیداللہ صندل مظفر نگری