اگر خدا ایک ہے تو قیامت کیوں؟ _ ایک فیصلہ کن فکری مکالمہ
        مضمون (59)
بسم اللہ الرحمن الرحیم__جب انسان کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلا اور بنیادی سوال یہی آتا ہے:کیا اس عظیم، منظم اورمربوط کائنات کا خالق ایک ہی ہے یا کئی؟اسلام کا دوٹوک جواب ہے: نہیں، خالق ایک ہی ہے —اور وہ اللہ ہے۔
اگر خالق کئی ہوتے تو ہر ایک اپنی مرضی، اپنا قانون اور اپنا نظام نافذ کرنا چاہتا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ کائنات میں ٹکراؤ. ،انتشار اور ٹوٹ پھوٹ نظر آتی۔ آپ مضمون (58)میں پڑھ چکے ہیں اسی حقیقت کو قرآن ایک فیصلہ کن دلیل کے ساتھ بیان کرتا ہے:
﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾(الأنبیاء: 22)اگر آسمان اورزمین میں اللہ کے سوا اور
معبود ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔
یہاں ایک اہم فکری غلط فہمی جنم لیتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں:
“اگر قرآن کہتا ہے کہ کئی خدا ہوتے تو فساد ہوتا، تو شاید کئی خدا موجود ہیں، اور انہی کے انتشار کا نام قیامت ہے؟”
یہ بات سننے میں گہری لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک واضح منطقی مغالطہ ہے۔
پہلا نکتہ: آیت امکان نہیں، ناممکنیت بیان کر رہی ہے
قرآن یہاں کئی خداؤں کے وجود کو ثابت نہیں کر رہا بلکہ ان کے وجود کو عقلاً ناممکن قرار دے رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے:“اگر ایک گاڑی کے دو ڈرائیور ہوں توحادثہ ہو جائے گا۔”
اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ دو ڈرائیور ہونا ممکن ہے، بلکہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ گاڑی کا محفوظ چلنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ ڈرائیور ایک ہی ہےبالکل اسی طرح، کائنات کا مسلسل، منظم اور متوازن انداز میں چلنا اس بات کی گواہی ہے کہ حکم ایک کا ہے، فیصلہ ایک کا ہے، اور خالق بھی ایک ہی ہے۔
لہٰذا آیت﴿لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا﴾
کسی خداؤں کی ممکنہ لڑائی کا منظر نہیں کھینچتی، بلکہ ایک اٹل عقلی قانون بیان کرتی ہے کہ:دو حاکم ایک نظام نہیں چلا سکتے۔
دوسرا نکتہ: قیامت انتشار نہیں، عدلِ الٰہی ہے. 
قرآن نے قیامت کو اندھا عقیدہ نہیں بنایا بلکہ عقل کی بنیاد پر قبول کی جانے والی حقیقت قرار دیا ہے۔ قیامت کو نہ دیکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر معقول ہے، بلکہ یہ کہ وہ مستقبل کا واقعہ ہے — جیسے موت، جسے سب مانتے ہیں مگر کسی نے اپنی موت کو پیشگی دیکھ کر نہیں مانا۔ سائنس “کیا ہے” بتا سکتی ہے، مگر “کیوں ہے” اس کا دائرہ نہیں۔ سائنس یہ تو بتا سکتی ہے کہ جسم کیسے مرتا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ انسان کیوں جواب دہ ہے۔ قیامت کا تعلق تجربہ گاہ سے نہیں، بلکہ انصاف کے تقاضے سے ہے۔اگر آخری جواب دہی نہ ہو تو:زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے.اخلاق بے معنی ہو جاتا ہے.ظالم اور مظلوم برابر ٹھہرتے ہیں.کیا یہ ممکن ہے؟
ہرگز نہیں۔اسی لیے قرآن کہتا ہے:﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُه
(الأنبیاء: 104)
جس طرح ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا، اسی طرح دوبارہ لوٹائیں گے۔
تیسرا نکتہ: قیامت ایک منظم اور طے شدہ واقعہ ہے
اگر قیامت خداؤں کے انتشار کا نتیجہ ہوتی تو: اس کا کوئی نظام نہ ہوتا. اس کے مراحل مقرر نہ ہوتے. یہ ایک بے ربط حادثہ ہوتی
لیکن قرآن اس کے برعکس اعلان کرتا ہے:
﴿إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا﴾(طه: 15)
قیامت آنے والی ہے، میں نے اسے (حکمت کے تحت) پوشیدہ رکھا ہے۔اور مزید فرمایا:﴿يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ﴾(الأنبیاء: 104)
یہاں “ہم” عظمت کا صیغہ ہے، جو واضح کرتا ہے کہ قیامت اللہ کے مکمل کنٹرول میں ایک منظم عمل ہے۔ جس نے کائنات کو ترتیب سے پیدا کیا، وہی اسے ترتیب سے ختم بھی کرے گا۔
قرآن فیصلہ کن انداز میں فرماتا ہے:
﴿كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ﴾(القصص: 88)
یعنی فنا بھی ایک قانون کے تحت ہے، انتشار کے تحت نہیں۔
لہٰذا :قیامت اس لیے نہیں آئے گی کہ خدا نظام چلا نہ سکا،
بلکہ اس لیے آئے گی کہ نظام قائم کرنے کے بعد حساب لیا جائے
﴿أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا
(المؤمنون: 115)
اور:﴿لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا﴾
(النجم: 31)
لہٰذا نتیجہ بالکل واضح ہے:
خالق ایک ہی ہے. اسلیئے. کائنات منظم ہے. حاکم ایک ہی ہے.. اسلیئے؛ قانون واحد ہے
منصف ایک ہی ہے.. اسلیئے. قیامت برپا ہوگی. قرآن اس فیصلے پرمہر ثبت کرتا ہے:﴿ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ﴾(الأنعام: 102)اور
﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾پس قیامت فساد کا ثبوت نہیں، بلکہ توحیدقدرت اور عدلِ الٰہی کا آخری اورقطعی اعلان ہے۔
_______________
اے ربِ واحد: ہمارے دلوں کو توحید کی روشنی سے منور رکھ اور ہمیں یومِ حساب کے لیے تیار فرما۔آمین یا رب العالمین۔
     بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com