منافقت کا نقاب... کب تک؟
✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
آج کے دور کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ ہر شخص صرف اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ذاتی مفاد، خود غرضی اور نمود و نمائش کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ دین، اخلاق اور سچائی سب پسِ پشت جا چکے ہیں۔
تعجب اس بات پر ہے کہ بظاہر نیک، دیندار، بڑے عہدوں پر فائز اور دینی خدمات کے دعویدار لوگ—جب ان کی نجی مجلسوں میں بیٹھا جائے، تو ان کی حقیقت ایسی کھلتی ہے کہ انسان اللہ کی پناہ مانگے۔ وہ چہرے جنہیں ہم تقویٰ اور اخلاص کا آئینہ سمجھتے تھے، دراصل دوغلے پن اور منافقت کا ایک تلخ نمونہ نکلتے ہیں۔
یہ دوہرا معیار، یہ ظاہری نیکی اور باطنی ریاکاری، آخر کب تک؟
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم دین کے نام پر کیا کر رہے ہیں؟ سوشل میڈیا پر وعظ و نصیحت کی باتیں، "دین کی خدمت" کے نام پر پوسٹیں، لائیو لیکچرز، اور ویڈیوز—لیکن نجی زندگی میں وہی شخص انہی گناہوں، انہی خودغرضیوں، اور انہی اخلاقی گراوٹوں میں ملوث ہوتا ہے جن کے خلاف وہ زبان استعمال کر رہا ہوتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنی نیتوں کا محاسبہ کریں، اور اس منافقت کا قلع قمع کریں۔ اصلاح کا آغاز "دوسروں کو بدلنے سے نہیں بلکہ خود کو بدلنے سے" ہوتا ہے۔
یا تو اپنے دل و عمل کو خالص کرلو، یا پھر زبان کو خاموش کرلو!
اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری و باطنی سچائی، اخلاص، اور عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ریاکاری، منافقت، اور دوغلے پن سے محفوظ رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔