عورتوں کے حقوق: ایک سسکتی حقیقت

از🖋️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی 


(جس گھر میں ہو عورت کی تکریم اور سکون}
{خدا کی رحمتیں برستی ہیں اس گھر پہ مدام)

کائنات کی تخلیق میں اگر رنگ، مٹھاس اور نرمی ہے تو وہ عورت کے وجود سے ہے۔ عورت کبھی ماں بن کر قدموں تلے جنت بچھاتی ہے، کبھی بہن بن کر دعاؤں کا سایہ بنتی ہے اور کبھی بیٹی بن کر گھر کی رونق ٹھہرتی ہے۔ لیکن افسوس کہ جس ہستی کے دم سے انسانیت کی بقا ہے، وہی صدیوں سے ظلم، بے حسی اور معاشرتی جبر کی چکی میں پس رہی ہے۔
جہالت اور معاشرتی رویے
آج بھی ہمارے معاشرے کے کئی حصوں میں بیٹی کی پیدائش پر ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں۔ اسے "پرایا دھن" سمجھ کر تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے اور کم عمری میں ہی اس کے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ دل دہلا دینے والی حقیقت تو یہ ہے کہ جس عورت کو اسلام نے وراثت میں حق دیا، اسے "غیرت" اور "رواج" کے نام پر اپنے جائز حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
تشدد کا ناسور
اخبارات کی سرخیاں ہوں یا گلی محلوں کی کہانیاں، ہر جگہ عورت کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔ کہیں جہیز کی کم مقدار پر اسے زندہ جلا دیا جاتا ہے، تو کہیں سرِ عام اس کی عزت پامال کی جاتی ہے۔ کیا عورت کوئی بے جان شے ہے جسے جب چاہا توڑ دیا اور جب چاہا پھینک دیا؟
مردانہ وار معاشرے کی انا جب زخمی ہوتی ہے تو اس کا بدلہ اکثر عورت سے ہی لیا جاتا ہے۔ تیزاب گردی، گھریلو تشدد اور نفسیاتی اذیت وہ ناسور ہیں جو ہماری انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔
اسلامی تعلیمات اور ہماری روش
دینِ اسلام نے عورت کو وہ مقام عطا کیا جس کا تصور بھی زمانہِ جاہلیت میں ناممکن تھا۔
تعلیم: عورت پر بھی علم حاصل کرنا اتنا ہی فرض ہے جتنا مرد پر۔
حقِ انتخاب: اسے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا پورا اختیار دیا گیا۔
احترام: اسے معاشرے کا معزز ترین رکن بنایا گیا۔
مگر ہم نے مذہب کی روح کو پسِ پشت ڈال کر اپنی خود ساختہ روایات کو مقدم کر لیا۔ ہم بھول گئے کہ ایک عورت کا قتل صرف ایک انسان کا قتل نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی تباہی ہے۔
حاصلِ کلام
عورت کے حقوق کی پامالی محض ایک سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ جب تک ہم عورت کو ایک "انسان" کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے، تب تک معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو اعتماد اور اپنے بیٹوں کو احترام سکھانا ہوگا۔
خدارا! اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، عورت کے وجود کی قدر کریں، کیونکہ جس گھر میں عورت کی تذلیل ہوتی ہے، وہاں سے برکت اور سکون کوچ کر جاتے ہیں۔
"وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ"
"اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں"

"اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے اور آپ معاشرے کی اصلاح کے لیے ایسی ہی فکر انگیز تحاریر پڑھنا چاہتے ہیں، تو میرے پیج کو 'فالو' (Follow) ضرور کریں تاکہ حق کی یہ آواز دبنے نہ پائے۔ جزاک اللہ!"