واۓ ناکامی ۔۔۔۔۔۔


زبان سکتے میں آجاتی ہے ، قلم خون کے آنسو روتا ہے ، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ، ایک تاریخ کے اوراق پلٹنے والا شخص حیران و ششدر رہ جاتا ہے ، جب وہ دیکھتا ہے کہ مسلمانان ہند کو ساڑھے سات سو سال ملک پر حکومت کرنے کےباوجود ، اس ملک کے گوشے گوشے کو اپنے خونِ جگر سے سینچنے اور سیراب کرنے کے بعد ، اس کی آزادی کے لیے اپنی جان ، مال ، آل و اولاد سب کچھ نثار اور نچھاور کرکے بھی کیا ہاتھ لگا ؟۔۔۔۔۔۔۔ناکامی ہی ناکامی ، ٹھیک ویسی ہی ناکامی جو ایک باغ باں کو اس کے چمن کے چھن جانے یا برباد ہونے کےبعد حاصل ہوتی ہے ، ایسا چمن‌ جس کو مالی نے گونا گوں بیل بوٹوں ، متنوع اور مختلف قسم کے گلوں اور درختوں سے آراستہ و پیراستہ کیا ہو ۔۔۔۔عین یہ ہی بات مسلمانان ہند اور ملک ہند پر روا اور صادق آتی ہے ۔

انگریزی حکومت سے ملک کی آزادی کے لیے مسلم علماو عوام نے جو قربانی پیش کی اس کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی ، اس چمن کو سرسبز وشاداب بنانے کے لیے انھوں اپنی جان و دل کے نذرانے پیش کیے ، زندان کی سلاخوں کو اپنا مقدر بنالیا -اسیران مالٹا حضرت شیخ الہند و شیخ الاسلام کی قابل رشک زیست کو کون بھلا سکتا ہے -اپنی نسلوں کو آزادی کے لیے موت کے بھینٹ چڑھا دیا ،غرض۔۔۔۔۔کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا اور تقریباً ایک صدی تک اس وطن کو آزاد کرانے میں لگے رہے ، اور اس کو انگریز بھیڑیے کے قبضے اور اس کے بے رحم چنگل سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائی ؛ لیکن اس قربانی ، جہد متواصل اور سعی پیہم کا انعام کیا یہ ناکامی ہے جو آج ہندی مسلمانوں کے حصے میں ہے ؟ ۔۔۔۔۔نہیں ہرگز نہیں ۔

اس جاں گداز و جاں گسل محنت اور جدوجہد کا ثمرہ و صلہ تو یہ تھا کہ مسلمانوں کویہاں کا حاکم و والی بنایا جاتا ، ان کے احکام کو سرمو تسلیم کیاجاتا ، زمین ،جاے داد ، عمارتیں اور محلات ان کے قبضے میں ہوتے اور ان کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گذارنے کا پورا پورا حق دیاجاتا ؛لیکن یہ سب چیزیں مسلمانان ہند کے لیے ایک خواب وخیال بن کر رہیں اور وہ ہمیشہ اسی محرومی و ناکامی کا سامنا کرتے رہے !!۔۔۔۔۔۔۔افسوس اس بات پر زیادہ نہیں کہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ کے پہاڑ توڑے گئے ؛ بل کہ المیہ تویہ ہے کہ ہم مسلمان تمام تر اختیارات اور مکمل اسباب و وسائل ہونے کے باوجود اس جوروجفا کو سہتے رہے ، غیر مسلموں اور ظالم حکمرانوں کو برادران وطن گردان کر ہمیشہ نظر انداز کرتے رہے ، آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ ہنود کے یہ شعلے آگ بھڑکانے لگے ، مسجدوں ، مدرسوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ، تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا گیا ، اور اس کے سینۂ اطہر پر رام مندر کو تعمیر کردیا گیا ، لا کھوں کروڑوں لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا- جو سراسر ناحق تھا - اس کے علاوہ گاے ، لَو جہاد اور دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔غرض سب کچھ کیا اور ظلم و تشدد کی ساری حدیں بھلا دی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف مسلمان ہر مرتبہ پیچھے ہٹتے رہے ، چشم پوشی کرتے رہے ، انجام کار ان کو غلامی کا طوق پہنا دیا گیا ، اب مسلمان کس مپرسی کے عالم میں ہیں ۔۔۔۔۔۔واے ناکامی !!، اور اس کا احساس تک ان کو نہیں ،

واے ناکامی متاعِ کارواں جاتارہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

اب وطن عزیز کے حالات یہ ہیں کہ مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا جانے لگا ، وندے ماترم کو لازمی قراردیا جارہاہے - جو بالیقین ہمارے عقائد کے خلاف ہے - ۔۔۔۔۔۔یہ حالات چیخ چیخ کر کہ رہے ہیں کہ اے مسلم رہنماؤ ، نوجوانو! جاگو ، اپنے حق کو پہچانوں ، اپنے عزائم کو مہمیز لگاؤ اور طارق بن زیاد ،محمد بن قاسم کی داستان دہراؤ ، حجۃالاسلام ، شیخ الہند و شیخ الاسلام کے کارنامے یاد کرو !
اپنی نسلوں کے لیے ایک سنہری اور زریں تاریخ رقم کردو ورنہ ۔۔۔۔۔ع
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔

اللہ ہمارے سینوں میں عزائم کو بیدار کردے ، اور اس چمن کو نغمۂ توحید سے معمور کردے ۔۔۔۔۔۔آمین یارب العالمین ۔

از قلم :عبیداللہ صندل مظفر نگری ۔