نوجوان اور اصلاحِ امت: ایک اہم
ذمہ داری

از قلم✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی
 

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

تمہید:
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم میں انقلاب آیا ہے، اس کی پشت پر نوجوانوں کی ہمت، ولولہ اور قربانی کا جذبہ کارفرما رہا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں بھی حضرت علیؓ، حضرت اسامہ بن زیدؓ اور محمد بن قاسم جیسے نوجوانوں نے وہ عظیم کارنامے انجام دیے جن سے امت کی تقدیر بدل گئی۔ آج کے دور میں بھی امتِ مسلمہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا حل نوجوانوں کی مثبت کوششوں میں پنہاں ہے۔
اصلاحِ امت کے لیے عملی اقدامات
1. خود کی اصلاح اور علم کا حصول:
اصلاح کا سفر ہمیشہ "اپنی ذات" سے شروع ہوتا ہے۔ ایک نوجوان جب تک خود دین کے بنیادی احکام، اخلاقیات اور تقویٰ سے آراستہ نہیں ہوگا، وہ دوسروں کی اصلاح نہیں کر سکتا۔ اسے چاہیے کہ:
قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ کرے۔
جدید علوم (سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت) میں مہارت حاصل کرے تاکہ وہ دنیا کا مقابلہ کر سکے۔
2. سیرتِ طیبہ اور کردار سازی:
نوجوانوں کے لیے بہترین نمونہ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہے۔ اگر نوجوان اپنے اخلاق میں سچائی، امانت داری، عاجزی اور ہمدردی پیدا کر لیں، تو ان کا خاموش کردار ہی تبلیغ بن جائے گا۔ جب لوگ ایک نوجوان کو باکردار دیکھیں گے تو وہ خود بخود دین کی طرف راغب ہوں گے۔
3. سوشل میڈیا کا مثبت استعمال:
آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ نوجوان اس پلیٹ فارم کو:
اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے استعمال کریں۔
نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کا ذریعہ بنائیں۔
تعمیری گفتگو اور علمی مباحثوں کو فروغ دیں۔
4. سماجی خدمت (Social Service):
امت کی اصلاح صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عملی خدمت سے ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقے میں:
غریبوں اور یتیموں کی مدد کے لیے چھوٹے چھوٹے گروپ بنائیں۔
تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لیے ٹیوشن سینٹرز یا لائبریریاں قائم کریں۔
منشیات اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف مہم چلائیں۔
5. اتحادِ امت کی کوشش:
آج امت فرقہ واریت اور گروہ بندیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ نوجوانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ تنگ نظری سے اوپر اٹھ کر "وحدتِ امت" کی بات کریں۔ وہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان پل کا کردار ادا کریں اور فروعی اختلافات کے بجائے مشترکات پر توجہ دیں۔

خلاصہ یہ کہ نوجوان امت کے بازو ہیں۔ اگر نوجوانوں میں مقصدیت، لگن اور اللہ کا خوف پیدا ہو جائے، تو وہ معاشرے کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ اقبال نے اسی لیے نوجوانوں کو "شاہین" سے تشبیہ دی تھی جو اپنی پرواز سے آسمانوں کو چھونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

"نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی"