اٹل بہاری واجپئی: شخصیت و فکر اور خدمات

عبداللہ رفیق قاسمی 
استاذ فقہ و ادب جامعہ عبداللہ بن مسعود وجے واڑہ 

 *ابتدائیہ* 

ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں جن شخصیات نے اپنی فکر، گفتار اور کردار سے گہرے نقوش چھوڑے، اُن میں جناب اٹل بہاری واجپئی کا نام نہایت سر فہرست ہے ۔ آپ ایک مدبر سیاست دان، زیرک رہنما، قادرالکلام مقرر، صاحبِ طرز شاعر اور امن کے علمبردار اسم با مسمی قائد تھے ۔ ا
آپ کی شخصیت میں سیاست اور شرافت، اقتدار اور انکساری، قوت اور تحمل کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔

 *نام و نسب* 

آپ کا پورا نام اٹل بہاری واجپئی تھا۔ آپ ایک معزز برہمن خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام پنڈت کرشن بہاری واجپئی تھا جو خود بھی ایک تعلیم یافتہ اور باوقار شخصیت تھے۔

 *ولادت* 

اٹل بہاری واجپئی کی ولادت 25 دسمبر 1924ء کو گوالیار (مدھیہ پردیش) میں ہوئی۔ آپ ہی کی یوم پیدائش کو بھارت میں یومِ گڈ گورننس کے طور پر بھی منایا جانے لگا ہے ۔

 *تعلیم و تربیت* 

آپ نے ابتدائی تعلیم گوالیار میں حاصل کی۔ بعد ازاں وکٹوریہ کالج، گوالیار اور پھر ڈی اے وی کالج، کانپور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ نے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ کی فکری اور ادبی تربیت بھی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوئی۔

عملی خدمات

واجپئی صاحب نے عملی زندگی کا آغاز صحافت اور عوامی خدمت سے کیا۔ وہ ابتدا ہی سے قوم و ملت کے مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قلم و زبان دونوں سے اظہارِ خیال پر قدرت رکھتے تھےچنانچہ سب سے پہلے 1947 میں بحیثیت ایڈیٹر « راشٹر دھرم» 1948 میں ایڈیٹر پانچیہ جنیہ اور 1952میں ایڈیٹر« سودیش» سے وابستہ رہے ۔

سیاسی سفر کا آغاز

آپ نے سیاست میں قدم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) سے وابستگی کے ذریعے رکھا۔ بعد ازاں بھارتیہ جن سنگھ اور پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے بانی و سرکردہ رہنما بنے۔ آپ کئی بار لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور حزبِ اختلاف کے ایک مثالی قائد بھی ثابت ہوئے آپ کی سیاسی کیریئر چار دہائیوں پر محیط ہے لوک سبھا (ایوان زیریں) کی لیے نو (9) اور راجیہ سبھا (ایوان بالا) کی لیے دو (2) مرتبہ منتخب ہوئے عمر کی چالیسویں بہار میں سیاست میں قدم رکھا پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ہمیشہ ترقی کا خواب دیکھتے رہے پوری زندگی سیاسی خدمات کے لیے وقف کردیا آپ نے شادی تک نہ کیا پوری زندگی غیر شادی شدہ رہے اور مکمل چوالیس سال تک اس میدان نہ تھکنے والا مسافر کی حیثیت سے سیاسی سفر مکمل کیا ۔

وزارتِ عظمیٰ

اٹل بہاری واجپئی تین مرتبہ بھارت کے وزیر اعظم بنے،
ان کا پہلا دور 1996ء میں 13 دن کا تھا، دوسری مرتبہ 1998ء سے 1999ء تک 11 ماہ تک وہ وزیر اعظم رہے اور تیسری بار 1999ء سے 2004ء تک انھوں نے اپنی میعاد مکمل کی جو نہایت اہم دور تھا اس دور میں انہوں نے مضبوط، مستحکم اور ہمہ گیر ترقی پر مبنی حکومت فراہم کی۔

 *امن و شانتی کا پیکرِ مجسم
(لاہور اعلامیہ)* 

واجپئی صاحب امن کے سچے داعی تھے۔ 1999ء میں انہوں نے بس کے ذریعے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا اور لاہور اعلامیہ پر دستخط کیے۔ یہ اقدام برصغیر میں امن، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کی ایک روشن مثال تھا۔

 *ملک کو جوہری (ایٹمی) طاقت سے لیس کیا* 

آپ کے دورِ حکومت میں 1998ء میں پوکران راجستھان میں ایٹمی تجربات کیے گئے، جس کے نتیجے میں بھارت ایک ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس فیصلے نے ملک کی دفاعی خودمختاری کو مضبوط کیا۔

 *غریبوں کا مسیحا* 

اٹل بہاری واجپئی نے غریبوں اور پسماندہ طبقات کی فلاح کے لیے کئی اسکیمیں شروع کیں، جن میں پردھان منتری گرام سڑک یوجنا اور دیہی ترقی کے منصوبے نمایاں ہیں۔ ان کا مقصد ترقی کو نچلی سطح تک پہنچانا تھا۔جس کا اظہار انہوں نے اپنے سرکاری خطاب میں کیا ہے 
 «ایک اہم معاملہ غریبوں کی حالت سدھارنے کا ہے۔ ہمارے پاس قدرتی وسائیل ہونے کے باوجود ملک کے عوام غریب ہیں۔ جنہیں اُن کے بہتر مواقع سے دور رکھا گیا ہے اور وہ آج بھی غربت کا شکار ہیں۔ میں خود بھی ان میں سے ایک ہوں۔ میں اُس دور سے گزرا ہوں اور ان کے درد کو بخوبی سمجھتا ہوں۔
(اٹل بہاری واجپائی ص: 48)

 *ادبی ذوق اور اعلیٰ و ارفع شاعرانہ تخیل* 

آنجہانی اٹل بہاری واجپئی محض سیاست دان ہی نہیں بلکہ ایک حساس شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں قومیت، انسان دوستی، امید اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کا عکس ملتا ہے۔ ان کا ادبی ذوق ان کی شخصیت کو مزید نکھارتا ہے۔

نمونہ کلام 

جنگ نہ ہونے دیں گے
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا
کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر
دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرا
کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری
ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے
جو ہم پر گذری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے

یہ اشعار ان کی امید، حوصلے اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

 اہم اعزازات

اٹل بہاری واجپئی کو کئی قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا،
ہندوستان میں باوقار بھارت رتن سے بڑا کوئی اور ایوارڈ نہیں ہے۔ 

  *بڑے بڑے اعزازات و ایوارڈز ۔* 

بھارت رتن (2015)

پدم وبھوشن (1992)

شاندار پارلیمنٹیرین ایوارڈ (1994)

 *غیر ملکی اعزازات* 
 بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کا اعزاز (2016)

مراکش گرینڈ کورڈن آف دی آرڈر آف اویسام الاوائث (13) فروری 1999
لوک مانیا تلک ایوارڈ


 *علالت، علاج و معالجہ* 

زندگی کے آخری برسوں میں وہ شدید علیل رہے اور طویل عرصے تک بیماری کے سبب عملی زندگی سے دور رہے ذیابیطس کے مریض تھے ۔ انہیں دہلی کے ایمس (AIIMS) اسپتال میں زیر علاج رکھا گیا۔

 *وفات* 

یہ عظیم رہنما 16 اگست 2018ء کو دہلی میں بہ عمر 93 سال انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر پورا ملک سوگوار ہو گیا۔

اختتامیہ

اٹل بہاری واجپئی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے سیاست کو اخلاق، اقدار اور شرافت عطا کی۔ وہ اختلاف کے باوجود احترام، طاقت کے ساتھ تحمل اور قیادت کے ساتھ انسانیت کا درس دیتے رہے۔ ان کی خدمات اور افکار ہمیشہ ہندوستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔