*جاوید اختر کے تصورِ لامتناہیت کی علمی تردید حق و باطل کا فیصلہ مد مقابل کی کامیابی*کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو سننے میں بڑے فلسفیانہ، پراثر اور ذہین معلوم ہوتے ہیں، مگر جب انہیں عقل، منطق اور علم کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو وہ محض الفاظ کا شور ثابت ہوتے ہیں جاوید اختر کا یہ دعویٰ کہ *ہر چیز لامتناہی ہے* (Infinite Regress (of Existence)) بھی اسی نوعیت کا جملہ ہے، یہ جملہ مائیک پر تو داد سمیٹ لیتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ جملہ فلسفے، سائنس اور عقلِ سلیم کے سامنے بھی ٹھہر سکتا ہے؟ جواب صاف ہے نہیں۔لامتناہی (Infinite) کوئی شاعرانہ استعارہ نہیں بلکہ ایک سخت فلسفیانہ اصطلاح ہے، لامتناہی وہ ہوتا ہے *جس میں ابتدا نہ ہو، انتہا نہ ہو، تغیر نہ ہو، زوال نہ ہو، کمی بیشی نہ ہو* اب اگر اس تعریف کو سامنے رکھ کر دنیا، انسان اور کائنات کو پرکھا جائے تو سب سے پہلے خود انسان اس دعوے کی نفی کرتا ہوا نظر آتا ہے، انسان پیدا ہوتا ہے، بڑھتا ہے، بوڑھا ہوتا ہے، بیمار پڑتا ہے اور آخرکار مر جاتا ہے،جو خود فنا کے قانون کے ماتحت ہو،وہ لامتناہی کیسے ہو سکتا ہے؟کائنات پر نگاہ ڈالئے ستارے بنتے ہیں، ایندھن ختم ہونے پر پھٹ جاتے ہیں، کہکشائیں بکھرتی ہیں، اور سائنس خود یہ مانتی ہے کہ کائنات ایک دن Heat Death یا حرکی زوال کا شکار ہوگی،وقت لمحوں میں تقسیم ہوتا ہے، گزرتا ہے، ماضی بن جاتا ہے،جو چیز خود ختم ہو رہی ہو، وہ لامتناہی کیسے ہو سکتی ہے؟ مادہ اور توانائی بھی تبدیل ہوتی ہیں، خرچ ہوتی ہیں، محدود ہیں، یہ سب اس بات کی شہادت ہے کہ کائنات حادث ہے، ازلی نہیں۔
فلسفے کا ایک بنیادی اصول ہے
Whatever changes, cannot be Eternalجو بدلتا ہے، وہ ازلی نہیں ہو سکتا دن اور رات، موسم قوموں کا عروج و زوال، کائنات کا مسلسل پھیلاؤ،یہ سب چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیں کہ یہ نظام جامد نہیں، اگر سب کچھ ازل سے ہوتا تو یہ تغیر کیوں ہوتا؟ تغیر خود اس بات کا اعلان ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ایسا وجود ہے جو خود تغیر سے پاک ہے،اب سائنس کا حوالہ دیا جاتا ہے *اور اس جاوید اخترذلیل نے بھی دیا* مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس ہی اس نظریے کی نفی کرتی ہے(Big Bang) کائنات کے آغاز کی بات کرتا ہے(Entropy) ہر نظام کے زوال کی گواہی دیتی ہے، اور جدید طبیعیات یہ مانتی ہے کہ Time اور Space خود پیدا کیے گئے ہیں،اگر ہر چیز لامتناہی ہوتی تو آغاز، زوال اور اختتام کا تصور ہی بے معنی ہو جاتا،اگر سائنس کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سائنس خدا سے نہیں لڑتی،بلکہ کائنات کے محدود ہونے کی شہادت دیتی ہے۔اس کے بعد ایک لفظی مغالطہ سامنے آیا ہے *جو جاوید خنزیر نے بھی کیا* اگر خدا ہمیشہ سے ہے تو (ہمیشہ) بھی تو وقت ہے لہٰذا خدا کے ساتھ دنیا بھی ہمیشہ سے ہے؟
یہ دلیل نہیں بلکہ Semantic Fallacy ہے، یعنی لفظ کا غلط مفہوم لے کر نتیجہ نکالنا،فلسفے میں واضح فرق ہے(Eternal) ازلی و ابد(Timeless) (Everlasting) وقت کے اندر ہمیشہ چلنے والا (Temporal) وقت کے تابع (Timeless) وقت سے ماورااللہ Eternal اور Timeless ہے، جبکہ کائنات Temporal ہے،خدا کا *ہمیشہ* ہونا اس معنی میں نہیں کہ وہ وقت میں ہے، بلکہ اس معنی میں ہے کہ وقت اس کی مخلوق ہے، وقت خدا پر لاگو ہی نہیں ہوتا،تو یہ تصور سرے سے ہی غلط ہے،اگر صرف فرض کی حد تک خدا کو وقت کے اندر مان لیا جائے تو پھر اس پر Before اور After لاگو ہوگا، وہ بدلے گا، اور جو بدلتا ہے وہ محدود ہوتا ہے،محدود خدا، خدا نہیں رہتا بلکہ کائنات کا ایک حصہ بن جاتا ہے،پھر دعا سننے میں انتظار، فیصلوں میں تاخیر اور علم میں تدریج لازم آئے گی، یہی وجہ ہے کہ عقل مجبور کرتی ہے کہ خدا کو Timeless مانا جائے، ورنہ خدا کا تصور ہی ٹوٹ جاتا ہے۔پھر ایک جذباتی سوال خنزیر نے اچھالا:*اگر خدا ہے تو فلسطین میں بچے کیوں مر رہے ہیں؟*یہ فلسفیانہ دلیل نہیں بلکہ Emotional Argument ہے، جسے فلسفے میں Problem of Evil کہا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا جنت نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے، ظلم انسان کرتا ہے، بم انسان گراتا ہے، گولی انسان چلاتا ہے، اسلام کے نزدیک مظلوم بچوں کا مرنا عذاب نہیں اصل گرفت ظالم پر ہے، اور اگر خدا نہ ہو تو یہ ظلم محض ایک اندھا حادثہ بن جاتا ہے،نہ حساب، نہ انصاف، ظلم پر احتجاج خود اس بات کی دلیل ہے کہ انسان ایک عدلِ مطلق کو مانتا ہے۔یہاں مد مقابل کا مؤقف واضح، متوازن اور علمی ہے،وہ خدا کو کائنات سے الگ، وقت سے ماورا اور خالق مانتے ہیں، جبکہ جاوید اختر کا مؤقف لفظی چمک کے سوا کوئی ٹھوس بنیاد نہیں رکھتا،ایک طرف دلیل، منطق، فلسفہ اور سائنس کا ہم آہنگ نظریہ ہے، اور دوسری طرف محض نعرہ، یہ جہالت کے سوا کچھ بھی نہیں آخرکار فیصلہ صاف ہے۔لامتناہی کائنات نہیں، لامتناہی خدا ہے،خدا کی ابتدا یا انتہا کا تصور کرنا ہی غلط سوال ہے، کیونکہ وہ وقت کا پابند نہیں بلکہ وقت کا خالق ہے۔ خدا کو وقت میں قید کرنا سمندر کو پیمانے میں بند کرنے جیسا ہے۔حاصل کلام یہ ہے وہ جاوید اختر جاہل مطلق ایک بات بھی ثابت نہ کر سکا اور مد مقابل کے تمام سوالات اپنی جگہ مسلم اور قابل فخر رہے،اور مد مقابل ہر سوال کا جواب دیتا رہا جو خود حق و باطل کے درمیان خود ہی فاصل ہے *الحمد للہ* اسکی جہالت کا اندازہ ہو گیا۔اللہ کریم مسلمانوں کو ہر فتنے سے محفوظ رکھے،اور اسلام کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنے کی توفیق بخشے آمیـــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریمﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*