🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ


تنہائی محض لوگوں سے دوری کا نام نہیں، یہ دراصل انسان کا اپنے آپ کے قریب آ جانا ہے۔

جب ہجوم کی آوازیں خاموش ہو جائیں اور دنیا کی چمک دمک نگاہوں سے اوجھل ہو جائے، تب دل کے نہاں خانے بولنے لگتے ہیں۔

تنہائی میں انسان خود سے سوال کرتا ہے، خود کو پرکھتا ہے اور اپنی اصل پہچان سے آشنا ہوتا ہے۔

یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب آنکھیں صرف باہر نہیں، اندر بھی دیکھنے لگتی ہیں۔

یادیں، خواب، کوتاہیاں اور امیدیں سب ایک ایک کر کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔

تنہائی کبھی بوجھ بن کر دل پر اترتی ہے اور کبھی رحمت بن کر روح کو سکون بخشتی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

تنہائی میں انسان سیکھتا ہے کہ ہر درد شکایت نہیں مانگتا، اور ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔

بعض اوقات خاموش رہ کر ہی دل کے زخم بھر جاتے ہیں، اور آنسوؤں کے بغیر بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔

یہی وہ ساعتیں ہیں جہاں انسان اللہ سے قریب ہوتا ہے، کیونکہ جب دنیا پیچھے ہٹتی ہے تو رب کی قربت آگے بڑھتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تنہائی اگر اللہ کی یاد سے بھر جائے تو وحشت نہیں رہتی، بلکہ عبادت بن جاتی ہے۔

پھر یہ تنہائی انسان کو توڑتی نہیں، سنوارتی ہے؛ کمزور نہیں کرتی، مضبوط بناتی ہے۔

ایسے ہی لمحوں میں انسان خود کو پاتا ہے اور اپنے رب کو پہچانتا ہے۔

تنہائی سے ڈرنے کے بجائے اگر اسے سمجھ لیا جائے تو یہی تنہائی انسان کی سب سے بڑی معلم بن جاتی ہے

خاموش، مگر نہایت گہری۔


جــزاکم اللہ خیراً کثیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ