🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ


اللہ پر یقینِ کامل وہ نور ہے جو دل کی تاریکیوں کو چیر کر انسان کو اطمینان، حوصلہ اور مقصدِ حیات عطا کرتا ہے۔ یہ یقین محض زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں میں پیوست وہ مضبوط رشتہ ہے جو بندے کو ہر حال میں اپنے رب سے جوڑے رکھتا ہے۔ جب انسان کا دل اس یقین سے معمور ہو جاتا ہے تو حالات کی سختیاں، زمانے کے نشیب و فراز اور آزمائشوں کے طوفان بھی اس کے عزم کو متزلزل نہیں کر پاتے۔
یقینِ کامل کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ کائنات کا ہر ذرّہ اللہ کے حکم سے حرکت میں ہے۔ سورج کی روشنی، چاند کی ٹھنڈی چمک، ہواؤں کی روانی اور دل کی دھڑکن سب اسی قادرِ مطلق کی قدرت کے مظاہر ہیں۔ جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ نفع و نقصان، عزت و ذلت، زندگی و موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں تو اس کا دل مخلوق کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے اور وہ صرف خالق پر توکل کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اللہ پر یقینِ کامل انسان کو صبر کی دولت عطا کرتا ہے۔ مصیبت کے لمحات میں وہ شکوہ نہیں کرتا، بلکہ رب کی حکمت پر اعتماد رکھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ ہر آزمائش کے پسِ پردہ کوئی نہ کوئی خیر پوشیدہ ہے، اور ہر اندھیری رات کے بعد سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔ یہی یقین آنسوؤں کو دعا میں بدل دیتا ہے اور بے بسی کو بندگی کا حسن عطا کرتا ہے۔
یہ یقین انسان کے عمل کو بھی سنوارتا ہے۔ جب دل میں یہ پختہ اعتقاد راسخ ہو کہ اللہ ہر چیز دیکھ رہا ہے، ہر نیت سے واقف ہے اور ہر عمل کا حساب لینے والا ہے، تو انسان گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اس کا کردار سچائی، امانت اور عدل سے مزین ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل کامیابی دنیا کی واہ واہ نہیں بلکہ رب کی رضا میں ہے۔
اللہ پر یقینِ کامل مایوسی کو امید میں بدل دیتا ہے۔ جب تمام دروازے بند نظر آتے ہیں، تب یہ یقین دل کو تسلی دیتا ہے کہ اللہ کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ وہی مشکل کشا ہے، وہی حاجت روا، اور وہی دلوں کے بھید جاننے والا۔ اسی یقین کے سہارے انبیاء علیہم السلام نے طوفانوں کا مقابلہ کیا، آگ میں ڈالا جانا قبول کیا، اور ہجرت و مصائب کی راہوں کو عزم و استقامت سے طے کیا۔
آخرکار، اللہ پر یقینِ کامل انسان کو حقیقی آزادی عطا کرتا ہےخواہشات کی غلامی سے، لوگوں کی پروا سے اور دنیا کی فانی چمک سے آزادی۔ یہ یقین بندے کو رب کے در کا فقیر بنا دیتا ہے، اور یہی فقر دراصل سب سے بڑی دولت ہے۔ جس دل میں یہ یقین بس جائے، وہ دل کبھی ویران نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں اللہ کی معرفت کا چراغ روشن رہتا ہے۔
پس، خوش نصیب ہے وہ انسان جس کا دل اللہ پر یقینِ کامل سے لبریز ہو، کیونکہ یہی یقین اس کی زندگی کا سہارا، اس کے عمل کی روح ہے

اللہ پر یقین کامل رکھیں یقیناً اسکے کُن سے زندگیاں فوراً بدل جاتی ہے 

جزاکم اللہ خیراً کثیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ