خواتین میں جہالت کا خاتمہ: وقت کی اہم ضرورت

"تمہید"

کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی خواتین کتنی باشعور اور تعلیم یافتہ ہیں۔ مشہور قول ہے کہ "اگر تم ایک مرد کو پڑھاتے ہو تو ایک فرد کو پڑھاتے ہو، لیکن اگر تم ایک عورت کو پڑھاتے ہو تو پورے خاندان کو پڑھاتے ہو۔" خواتین کی جہالت صرف ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ پوری نسل کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے خواتین سے جہالت کا اندھیرا دور کرنا معاشرے کی اولین ذمہ داری ہے۔

خواتین میں جہالت کی وجوہات


ہمارے معاشرے میں خواتین کی ناخواندگی اور جہالت کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
فرسودہ رسم و رواج: بہت سے علاقوں میں آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کو برا سمجھا جاتا ہے۔
غربت: مالی مشکلات کی وجہ سے والدین لڑکوں کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں اور لڑکیوں کو گھر کے کاموں تک محدود کر دیتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی کمی: دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے لیے الگ اور محفوظ تعلیمی اداروں کا نہ ہونا بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

جہالت دور کرنے کے طریقے

خواتین کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
1. دینی اور دنیاوی تعلیم کا امتزاج:
خواتین کو صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ دین کی صحیح سمجھ بوجھ بھی دینی چاہیے۔ جب خواتین کو اپنے حقوق اور فرائض کا علم ہوگا، تو وہ خود کو کمزور نہیں سمجھیں گی۔ اسلام نے مرد اور عورت دونوں پر علم کا حصول فرض کیا ہے۔
2. شعور و آگہی کی مہم:
والدین کی ذہن سازی کے لیے مہم چلانی چاہیے تاکہ وہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں۔ میڈیا اور سماجی ادارے اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
3. ہنر مندی کے مراکز (Vocational Training):
صرف اسکول کی تعلیم ہی کافی نہیں، خواتین کو مختلف ہنر (جیسے سلائی کڑھائی، کمپیوٹر کورسز، گرافک ڈیزائننگ) سکھانے چاہئیں تاکہ وہ معاشی طور پر خود مختار بن سکیں اور ان کا اعتماد بڑھے۔
4. خواتین کے لیے مخصوص تعلیمی نظام:
حکومت کو چاہیے کہ دیہی علاقوں میں خواتین کے لیے مفت اور محفوظ تعلیمی مراکز قائم کرے جہاں وہ بغیر کسی خوف کے علم حاصل کر سکیں۔

باشعور عورت کے فوائد


جب ایک عورت جاہلیت سے نکل کر شعور کی منزل پاتی ہے، تو:
وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کرتی ہے، جس سے ایک مہذب معاشرہ جنم لیتا ہے۔
وہ صحت اور صفائی کے اصولوں سے واقف ہوتی ہے، جس سے خاندان کی صحت بہتر رہتی ہے۔
وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتی ہے اور
ظلم و ستم کا شکار ہونے سے بچتی ہے۔

حاصلِ کلام

خواتین کی جہالت دور کرنا کسی ایک فرد کا کام نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک جاہل عورت کبھی بھی ایک روشن خیال نسل تیار نہیں کر سکتی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا مستقبل تابناک ہو، تو ہمیں اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے ہاتھ میں قلم دینا ہوگا اور ان کے ذہنوں کو علم کی روشنی سے منور کرنا ہوگا۔
از قلم✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی