*تاریخ سے دوری اور ہمارا زوال*
*از: مفتی نسیم حسین لکھیم پوری*
مسلمانوں کا زوال اور تاریخ سے دوری تقریبا ایک ساتھ ہی ہوا اس طرح یہ سچ ثابت ہوا کہ جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے وہ اپنی پہچان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ۔کچھ صدیوں سے مسلمانوں کی تاریخ میں بڑا الٹ پھیر ہوا اور انہی صدیوں میں مسلمانوں کی زوال کی داستانی لکھی گئیں ۔ چاہے وہ زوال مغلیہ دور کے خاتمے کی ہو یا سلطنت عثمانیہ کے سقوط کی جس طرح مسلم قوم نے تاریخ کے دامن کو مضبوطی سے تھاما تھا اسی طرح چھوڑ بھی دیا حالانکہ تاریخ کی تاریخ قدیم ہے دور قدیم کا انسان پڑھا لکھا نہیں تھا تو اسے اپنے ابا اور اجداد کے قصے کہانیاں سننے کا شوق تھا۔
قبیلوں کی مائیں اور بزرگ بچوں کو پرانے دور کے واقعات نامور اور بہادر لوگوں کی داستانیں سناتے تھے اسی طرح بہادر لوگوں کے کارناموں کو اشعار میں بیان کیا جاتا تھا اس طرح یہ سارے واقعات سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے تھے۔
اسی وجہ سے ان میں کمی زیادتی ہو جایا کرتی تھی دھیرے دھیرے ان واقعات میں اتنی تبدیلی اگئی کہ وہ واقعات اصلی حالت میں نہ رہے بالکل من گھڑت ہو گئے
اور جب زمانے نے کچھ ترقی کی اور پڑھنے لکھنے کا دور ایا تو لکھنے والوں نے وہی من گھڑت واقعات تاریخی حیثیت سے لکھ دئے اس طرح دنیا میں بعض مذاہب ایسے ہیں جن کی تاریخ اور مذہب کی بنیاد من گھڑت واقعات اور قصے کہانیوں پر ٹکی ہے
اس دور کی کتابیں بائبل بھگوت گیتا مہا بھارت اور رامائن مشہور ہیں یہ کتاب تحریفات اور من گھڑت واقعات پر مبنی ہونے کے باوجود قدیم دور کے حالات کے بنیادی ماخذ سمجھے جاتے ہیں تاریخ نویسی نے ایک قدم اگے اس وقت بڑھایا جب دنیا کی مختلف قوموں میں پڑھنے لکھنے کا کچھ رواج بڑھ گیا ۔
لیکن صحیح معنوں میں تاریخ نویسی نے اپنی تاریخی شناخت اسلامی دور حکومت میں بنائی کیونکہ اسلام سے پہلے ہر قوم کی تاریخ مبالغہ امیز خود ساختہ حکایات سے بھری ہوئی تھی تاریخ کو جانچنے کا کوئی اصول نہ تھا اسلام میں تاریخ نگاری کی بنیاد سیرت نگاری سے شروع ہوتی ہے
مسلمانوں نے جس طرح سیرت نگاری کی اس طرح دنیا میں کسی کی تاریخ نہیں لکھی گئی رفتہ رفتہ اس فن نے عروج پکڑا یہاں تک کہ مسلمانوں نے ایسے ایسے مورخ دنیا کو دیے جن کی مثال نہیں ملتی تاریخ پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئیں اور بہت چھان اور تحقیقات کے بعد واقعات قلم بند کیے جاتے تاریخ جب عروج پر تھی تو مسلمانوں کا دور بھی سنہرا تھا لیکن دھیرے دھیرے تاریخ کے اصل محافظ جو علمائے کرام تھے رخصت ہوتے گئے۔
نو صدیوں تک محدثین مفسرین مورخین نے اس فن کو پوری ایمانداری سے ائندہ نسلوں کے حوالے کر دیا محدثین اور مورخین نے یہ فن بڑی ایمانداری سے اپنے مت اخرین کی سپرد کیا تیسری صدی ہجری کے بعد اسماء رجال پر کافی کام کیا گیا جس کی وجہ سے اصل تاریخ اور اصل واقعات اب تک محفوظ ہیں اور یہ اہل اسلام کی ہی خوبی ہے کہ فن اسماء رجال پر انہوں نے کام کیا ان کے علاوہ دنیا کی دیگر قوموں اور مذہبوں میں یہ فن ہی نہیں ہے چنانچہ اس فن میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں اور اس فن نے ہی تاریخ کو اپنی اصل حالت پر باقی رکھا یہ دور تاریخ کے عروج کا دور تھا رفتہ رفتہ تاریخ پر گرفت کر رکھنے والے علماء دنیا سے رخصت ہو گئے یہاں تک کہ ایک دور ایسا بھی ایا کہ مسلمان قوم فنی تاریخ کے ماہرین سے خالی ہو گئی نہ ہی تاریخ نویس رہے اور نہ تاریخ پڑھنے والے یہاں تک کہ ہندوستان میں انگریزوں کے دور حکومت میں کوئی کتاب رسالہ یا کوئی کاغذ پر لکھنا جرم ہو گیا حکومت کو جیسے ہی معلوم ہوتا وہ کتاب یا رسالہ فورا ضبط کر لیتے ان ایام میں تاریخ سے مسلمان مزید دور ہو گئے اس پر مزید ظلم یہ ہوا کہ ہماری تاریخ پر اغیار نے قبضہ کر لیا مستشرقین نے اسلامی تاریخ کو بازیچہ اطفال بنا دیا پھر ان کے تلامذہ میں میدان میں ائے ان کے ہاتھوں تاریخ بری طرح پامال ہوئی ان لوگوں نے تاریخ کو بگاڑنے اور مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اس طرح اسلام کو ب** کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا انہوں نے اسلاف اکابر کو ب** کرنے اور مسلم فاتحین کو رہزن قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور مسلسل اس پر کام ہو رہا ہے اس طرح صحیح تاریخ سے غفلت عام ہوتی جا رہی ہے اور صحیح تاریخ کی جگہ غلط تاریخ وجود پاتی جا رہی ہے اورنگزیب عالمگیر کے بعد مغلیہ حکومت دم توڑنے لگی رفتہ رفتہ 1857 میں مغلیہ دور بالکل ختم ہو گیا اور حکومت کی باگدور انگریزوں کے ہاتھوں میں اگئی اس دوران تاریخ پر کوئی باقاعدہ کام نہ ہو سکا کیونکہ اس دور کے اکثر علماء جہاد میں مصروف رہے اگر وہ انگریزوں کے ظلم اور ان کی تانا شاہی کے خلاف اواز یا قلم اٹھاتے تو ان کو اذیت دی جاتی اور ان کے قلم کو توڑ دیا جاتا اخبار کو بند کر دیا جاتا صحائف نذر اتش کر دیے جاتے ہیں اسی کشمکش کے عالم میں ہندوستان کا ازادی کا سورج طلوع ہوا وہ حکومت جو صدیوں تک مسلمانوں کے سر کا تاج رہی پھر انگریزوں نے اس کو تاراج کیا اگریضوں سے دوبارہ واپس پانے کے لیے سب سے پہلے مسلمانوں
نے قدم اگے بڑھایا اور یہ فطری بات ہے کہ حکومت مسلمانوں سے چھینی گئی تھی تو درد بھی سب سے زیادہ ان کو ہی ہونا تھا مسلمانوں نے اس ملک کو ازاد کرایا اور تقسیم کر کے ایک حصہ اپنے لیے لے کر بقیہ سارا اپنے ہم وطنوں کے سپرد کر دیا پھر تاریخ نے ایک نئی تاریخ رقم کی
وہ ملک جس کو مغلوں نے صدیوں تک سنوارا اس کے بال وپر تراش کر سونے کی چڑیا بنایا جنت نشاں بنایا انگریزوں نے اسکو بری طرح پامال کیا اور انگریز جاتے جاتے اس قدر اجاڑ گئے کہ سونے کی چڑیا کہنے کت قابل بھی نہ چھوڑا
رفتہ رفتہ حکومت پر ان لوگوں کا قبضہ ہو گیا جو مسلمانوں کی تاریخ سے شدید نفرت رکھتے تھے انہوں نے نصاب کی کتابوں سے لے کر عمارتوں کے نام سڑکوں کے نام تک مٹا دیے یہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اس میں وہ عمارتیں جن کو مسلمانوں نے عبادت گاہ کے طور پر بنایا تھا جو صدیوں پرانی عمارتیں تھیں برسری اقتدار جماعت نے انہیں اپنی عبادت گاہ کہہ کر اور تاریخ کو غلط لکھ کر قبض میں کر لیا لہذا کئی معبد خانوں پر ان کی نظریں ہیں اور کئی عبادت گاہوں کو مقفل کروا دیا گیا اور کئی عبادت گاہوں کو منہدم کروا دیا گیا یہ تاریخ کا بدترین دورتا ہنوز جاری ہے اور رفتہ رفتہ اندر خانہ تاریخ میں خلط ملت کر کے نئی نئی من گھڑت باتیں تاریخ میں شامل کر کے مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کو بدلا کر کے لوگوں میں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ یہی لوگ غدار ہیں
ایک طرف تاریخ کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور اس پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے کہ جھوٹ کو اتنا پھیلاؤ کہ وہ سچ لگنے لگے دوسری جانب تاریخ سے مسلم قوم کی دوری نے اس پر پیٹرول ڈالنے کا کام کیا کہ نہ تو ہم تاریخ پڑھتے ہیں اور نہ ہی بچوں کو ترغیب دیتے ہیں یونیورسٹی اور کالجوں میں شعبہ تاریخ ایک مستقل شعبہ ہوتا ہے جس میں اسلامی اور مسلمانوں کی تاریخ کیسے پڑھائی جاتی ہوگی اس کا اندازہ ہم موجودہ حالات سے بخوبی کر سکتے ہیں لیکن زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ہمارے مدارس میں تاریخ کے نام پر کوئی مستقل شعبہ نہیں ملے گا شعبے تاریخ کے بعد تو چھوڑیے فن تاریخ پر پڑھائی جانے والی کتاب ہی شاز و نادر ملے گی جو داخل نصاب ہو موجودہ زمانے کے لوگوں نے فن تاریخ پر کوئی خاص کام نہیں کیا نہ ہی بڑے مدارس میں شعبہ تاریخیت قائم کی اور نہ ہی ان مداری کے لیے چھوٹے ہیں ان کو اپنا لکھا ہوا نصاب ہی تیار کر سکے جو چھوٹے بچوں کے ذہنوں کو تاریخ کے لیے تیار کیا جا سکے ہمیشہ غیروں کے لکھے نصاب مدارس اسلامیہ میں بھی چلاتے رہے جنکی بہت سی باتیں ہماری مذہب سے متضاد ہیں اج ضرورت ہے کہ ہم مدارس میں شعبہ تاریخ کا مستقل شعبہ قائم کریں اگر ہمیں اپنی تاریخ اور اپنا وجود قائم رکھنا ہے