قبولِ اسلام سے قبل آزادی بعد از قبول ذمہ داری

✍🏻 محمد عادل ارریاوی 
_________________________________
محترم قارئین آج کل غیر مسلم حضرات نہ جانے کیسی کیسی افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں ان کا پیشہ ہے کہ ہمیشہ اسلام کے بارے میں کچھ سے کچھ بولتے رہیں الحمدللہ ہمارے اکابرین بھی ان کی ہر باتوں کا اپنے دلائل کے ساتھ رد کرتے رہیں ہیں ان کو کون سمجھائیں کہ اسلام انسان کو سوچنے سمجھنے اور آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دیتا ہے ایمان کسی جبر یا دباؤ کا نام نہیں بلکہ دل کی رضا اور شعوری انتخاب کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے دعوت کا دروازہ کھلا رکھا مگر زبردستی کو قطعی طور پر رد کیا تاہم جب کوئی شخص حق کو پہچان کر اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیتا ہے تو پھر یہ محض ایک نظریہ نہیں رہتا بلکہ ایک ذمہ دارانہ عہد بن جاتا ہے جس کے تقاضے فرد اور معاشرے دونوں سے وابستہ ہوتے ہیں اسلام میں دعوت و تبلیغ کا حکم ضرور ہے مگر جبر و اکراہ کی قطعی اجازت نہیں قرآنِ کریم اس اصول کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ارشاد فرماتا ہے کیا آپ لوگوں کو زبردستی مؤمن بنانا چاہتے ہیں؟
أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (یونس آیت ۹۹)اور ایک اور مقام پر فرمایا کہ کہہ دیجیے یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ
اسی طرح صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغی (البقرہ ۲۵۶) دین میں کوئی زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے۔
ان آیات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام جبر تشدد اور زبردستی کا مذہب نہیں کسی شخص کو قہر و اکراہ کے ذریعے اسلام میں داخل کرنا نہ جائز ہے اور نہ ہی ایسا اسلام عنداللہ معتبر ہوتا ہے۔ قرآن و حدیث اس امر پر متفق ہیں کہ ایمان وہی معتبر ہے جو دل کی گہرائی سے اور کامل رضا مندی کے ساتھ اختیار کیا جائے۔ محض ظاہری اقرار جبکہ دل ایمان سے خالی ہو قرآنی اصطلاح میں نفاق کہلاتا ہے اور منافقین کے بارے میں قرآن کا فیصلہ نہایت سخت ہے
اِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء ۱۴۵)
یقیناً منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ لہٰذا اسلام کا واضح اور دوٹوک اصول یہ ہے کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور جو شخص اسلام قبول نہ کرے اس کے ساتھ بھی ظلم یا ناروا سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔
البتہ اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص اپنی مکمل رضامندی، شعور اور ارادے کے ساتھ اسلام قبول کر لے وہ محض ایک نظریاتی وابستگی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ دینی و اخلاقی ذمہ داری کو قبول کرتا ہے۔ اسلام میں ارتداد کا مسئلہ اسی تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔
یہ بات ایک معروف دنیاوی مثال سے سمجھی جا سکتی ہے۔ کسی شخص کو فوج میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جاتا لیکن جب وہ اپنی رضا و رغبت سے فوج میں بھرتی ہو جائے تو پھر وہ فوجی نظم و ضبط قوانین اور ذمہ داریوں کا پابند ہو جاتا ہے ایسی صورت میں اسے یہ اختیار نہیں دیا جاتا کہ وہ جب چاہے بغیر کسی ضابطے کے فوج چھوڑ دے اگر دنیا کے یہ قوانین معقول اور قابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں تو اسلام کا یہ اصول غیر معقول کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ مزید یہ کہ اگر کسی شخص کو اسلام یا اس کی تعلیمات کے بارے میں شکوک و شبہات تھے تو اس نے اسلام قبول کرنے میں عجلت کیوں کی؟ ارتداد محض ایک ذاتی عمل نہیں رہتا بلکہ اس کے ذریعے دینِ اسلام اسلامی شریعت اور مسلم معاشرے کو نقصان پہنچانے اسلام کو بدنام کرنے اور نو مسلموں کو بددل کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اسی وجہ سے فقہِ اسلامی میں اسے ایک سنگین اجتماعی جرم قرار دیا گیا ہے۔
اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ شخص ایک آزاد غیر مسلم تھا، لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد وہ اسلامی معاشرے کا حصہ اور اس کے نظم و قانون کا پابند بن جاتا ہے۔ دنیا کا مسلمہ اصول بھی یہی ہے کہ جو شخص کسی ریاست کی شہریت اختیار کر لیتا ہے، وہ اس کے آئین و قوانین کا پابند ہوتا ہے۔ اگر کوئی شہری ریاستی قوانین اور نظام کے خلاف بغاوت کا اعلان کرے تو اسے سخت ترین سزا دی جاتی ہے، حتیٰ کہ بعض صورتوں میں سزائے موت بھی۔ پس اگر کسی ملک، اس کے قوانین یا سربراہ کے خلاف بغاوت کو سنگین جرم سمجھا جاتا ہے، تو پھر اسلام، اس کے قوانین اور پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اعلانیہ بغاوت کو محض ایک معمولی عمل کیسے تصور کیا جا سکتا ہے؟
کچھ سالوں سے شرپسندوں نے ہمارے قائد و رہبر داعیِ اسلام حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب پر زبردستی اسلام قبول کروانے کے جھوٹے الزامات لگا کر انہیں قید کر رکھا ہے حالانکہ اسلام زور زبردستی سے نہیں بلکہ محبت اخلاق اور نیک سیرت سے قبول کیا جاتا ہے چودہ سو سال سے اب تک ایسا کوئی واقعہ نہیں ملے گا کہ کسی نے زبردستی کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہو ایسا کوئی کر ہی نہیں سکتا کیونکہ ہمارے اسلام کی یہ تعلیمات نہیں ہیں۔ ایک دن پوری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجے گا اِن شاء اللہ۔ الحق یعلو ولا یُعلیٰ حق ہمیشہ غالب اور سربلند رہتا ہے۔ اس کو کوئی چیز مغلوب نہیں کرسکتی آج کل یہ شرپسند کہتے ہیں کہ اسلام کو مٹا دیں گے یہ کریں گے وہ کریں گے حالانکہ یہ صرف ان کا وہم و گمان ہے جو صبحِ قیامت تک پورا نہیں ہوگا اِن شاء اللہ العزیز۔
اللہ ربّ العزت حضرت مولانا کو جلد از جلد رہائی نصیب فرمائے اور ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اسلام پر قائم و دائم رکھے۔
آمین یا ربّ العالمین۔