وقار کا مغالطہ: حقیقت کیا ہے؟

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی

آج کل ایک نیا فتنہ ہمارے معاشرے میں سراٹھا رہا ہے: "وقار" کے نام پر بے عملی، بے حیائی اور دینی ذمہ داریوں سے فرار کا رجحان۔ بعض لوگ دین پر عمل کو، خصوصاً سنت پر کاربند رہنے کو، اپنی "عزت" اور "وقار" کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ دین پر چلنے لگے تو ان کا سماجی مقام، ان کی "شان و شوکت" اور دنیاوی مرتبہ مجروح ہو جائے گا۔ حالانکہ یہ سوچ سراسر جہالت اور دین فہمی سے محرومی کا نتیجہ ہے۔

وقار کی اصل حقیقت کیا ہے؟

قرآن و حدیث کی روشنی میں اصل وقار وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان پر عمل کرنے سے حاصل ہو۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

"وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ"

ترجمہ: "عزت تو صرف اللہ، اُس کے رسول اور اہلِ ایمان کے لیے ہے۔" (سورہ منافقون: 8)

حقیقی عزت اور وقار تو اللہ کی اطاعت میں ہے، نہ کہ گناہ اور غفلت میں۔

نبی ﷺ کی سنت اور وقار

کیا حضرت محمد ﷺ کا کوئی عمل بھی ایسا تھا جو "وقار" کے خلاف ہو؟ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگائی، صحابہ کرام کے ساتھ ہنسی مذاق فرمایا، بچوں کو کندھوں پر بٹھایا، فقراء سے خندہ پیشانی سے ملاقات کی — کیا ان میں سے کوئی بات بے وقاری کہلائی؟ ہرگز نہیں! بلکہ یہ تو کامل وقار، انکساری اور حسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین مثالیں تھیں۔

وقار کی آڑ میں سنت کا انکار؟

بدقسمتی سے آج بعض افراد سنتِ نبوی ﷺ کو یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ "یہ عمل ہماری شخصیت کے وقار کے خلاف ہے۔" مثلاً عمامہ باندھنا، پائنچے اوپر رکھنا، مسواک کرنا، داڑھی رکھنا — سب سنتیں ہیں مگر انہیں چھوڑنے والے کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے لوگ مذاق اُڑائیں گے یا ہم چھوٹے لگیں گے۔

یہ وہی سوچ ہے جس کے خلاف اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:

"مَن رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"

ترجمہ: "جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں۔" (صحیح بخاری)

تقلیدِ رسول ﷺ ہی وقار کا اعلیٰ مقام ہے

آج اگر ہم اپنی بیوی سے خوش اخلاقی سے بات کرتے ہیں، تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ "وقار" کے خلاف ہے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي"

ترجمہ: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر ہو، اور میں اپنے اہل کے ساتھ سب سے بہتر ہوں۔" (سنن ترمذی)

یعنی اخلاق، نرمی، عاجزی، سنت کی پیروی — یہی اصل وقار ہے، نہ کہ گھمنڈ، خود پسندی، یا دینی ذمہ داریوں سے انکار۔

ہمیں چاہیئے کہ "وقار" کے مغالطے سے نکل کر سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔ جو شخصیت نبی ﷺ کے طریقے پر ہوگی، وہی اصل میں باوقار اور معزز ہے، اور جو اس کے خلاف چلے گا، وہ گو دنیا میں معزز سمجھا جائے، آخرت میں وہ ذلیل و خوار ہوگا۔

اللہ ہمیں سنت سے محبت، اور وقار کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین۔