اسلام کو جب بھی للکارا گیا وہ صفائی دینے نہیں آیا بلکہ وہ دلیل لے کر آیا
✍🏻 محمد پالن پوری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تاریخ کے ہر موڑ پر باطل نے سوال اٹھایا اور حق نے جواب دینے پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ یہ کوئی جذباتی تسلی نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جو قرآن کی آیت سے شروع ہو کر تاریخ کی کتابوں تک پھیلی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔
نمرود نے ربوبیت پر مناظرہ کیا تو ابراہیم نے ایک ہی سوال میں نمرود کی پوری خدائی کو لرزا دیا۔ سورج کے طلوع و غروب پر رکھی گئی یہ دلیل آج بھی فلسفے کی بڑی بڑی عمارتوں کو ہلا دیتی ہے۔ قرآن نے اس لمحے کو محفوظ کر لیا ( فبھت الذی کفر )کافر مبہوت رہ گیا۔۔۔۔۔۔
پھر مصر کے دربار میں علم کے نام پر جادو کھڑا تھا۔ ریاست اس کی پشت پر تھی مگر موسیٰ کے عصا نے جب حرکت کی تو علم سحر کا غرور باطل ثابت ہو گیا۔ سورۃ الاعراف کی آیات اس واقعے کو محض قصہ نہیں بلکہ اصول بنا دیتی ہیں کہ جب حق آتا ہے تو باطل اپنی ساری چمک کے ساتھ بھی مٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
مکہ میں وجودِ خدا، وحی اور آخرت کو للکارا گیا۔ سوال بھی وہی تھے جو آج دہرائے جا رہے ہیں۔ زبان بدل گئی مگر شبہات وہی رہے۔ قرآن نے ان اعتراضات کو محفوظ کر کے ہر دور کے منکروں کے لیے جواب بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سورۃ الطور اور سورۃ یٰس پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ مکالمہ زندہ ہے، ختم نہیں ہوا۔
جب الحاد نے فلسفے کا لبادہ اوڑھا اور دہریوں نے کہا کہ کائنات خود بخود بن گئی تو امام ابو حنیفہ نے نہ وعظ کیا نہ جذباتی تقریر صرف عقل کو مخاطب کیا۔ کشتی کی مثال دی، سبب و مسبب کی بات کی اور دہریے خاموش ہو گئے۔ تاریخ بغداد اور مناقب الامام الاعظم گواہ ہیں کہ اسلام نے ہمیشہ عقل ہی کے میدان میں عقل کو شکست دی ہے۔۔۔۔۔
عباسی دور میں زنادقہ کھلے عام مناظروں میں آئے، ریاستی سطح پر چیلنج دیا گیا مگر امام احمد بن حنبل نے الرد علی الجھمیۃ و الزنادقة لکھ کر یہ واضح کر دیا کہ ایمان اندھا نہیں ہوتا۔ وہ سوال بھی سنتا ہے اور جواب بھی رکھتا ہے۔ معتزلہ عقل پرستی کے عروج پر پہنچے مگر جب تاریخ نے پلٹ کر دیکھا تو وہ صرف کتب میں رہ گئے اور اہلِ سنت کا موقف امت کے ضمیر میں زندہ رہا۔۔۔۔۔۔
یونانی فلسفہ آیا، منطق آئی، وجود و عدم کے سوالات اٹھے۔ امام غزالی نے فلسفہ کو رد نہیں کیا بلکہ اسی کی زبان میں اس کے تضادات بے نقاب کر دیے۔ تہافت الفلاسفہ محض ایک کتاب نہیں یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام دلیل سے نہیں ڈرتا۔۔۔۔
یہی روایت جدید دور تک پہنچی۔ مادیت، نیچریت اور سائنسی الحاد نے سر اٹھایا مگر شبلی نعمانی سے لے کر اقبال اور قاسم نانوتوی تک اسلام نے انکار نہیں بلکہ تجزیہ کیا۔ اس نے بتایا کہ سائنس کیسے بتاتی ہے مگر کیوں کا جواب آج بھی وحی کے پاس ہے۔۔۔۔۔
آج 20 دسمبر کو ہونے والا مناظرہ اسی تاریخ کا ایک ورق ہے کوئی نیا باب نہیں۔ مفتی شمائل ندوی کسی ایک نشست کے نمائندہ نہیں بلکہ وہ اس تسلسل کی آواز ہیں جو ابراہیم علیہ السلام سے امام ابو حنیفہ اور امام غزالی تک پھیلا ہوا ہے۔ ایسے میں گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام کو جب بھی للکارا گیا اس نے دفاعی پوزیشن اختیار نہیں کی اس نے دلیل کے ساتھ برتری ثابت کی۔
میں اس یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ یہ مناظرہ بھی اسی روایت کی کڑی ہے۔ ہم دعا بھی کرتے ہیں اور مطمئن بھی ہیں۔ اس لیے کہ حق کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ خود اپنی دلیل بن جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد پالن پوری
https://www.facebook.com/share/1DC89ZQgqv/