.........آج امت مسلمہ کیا کریں ؟؟ .........


سیــد حســان قــــاسمــــی


دور جہالت کی جانب گامزن یہ زندگی کے مراحل ہے ۔ کمزوروں پر ظلم و نا انصافی کا دور دورہ ہے ، مال دار اور طاقتور ، غریبوں پر علمِ ظلم بلند کیے ہوئے ہیں ، حق کے لیے آواز اٹھانا گویا اپنی پر سکوں اور آزاد زندگی کو ختم کر دینا ہے ، اگر قرآن وحدیث میں تفکر و تدبر کیا جائے اور تعلیماتِ اسلامی کو مد نظر رکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔ کہ اسلام میں ایمان کے بعد عدل و انصاف سے زیادہ کوئی چیز پسندیدہ نہیں ہے۔ اور ظلم و نا انصافی کی کوئی گنجائش نہیں ۔


قرآن کریم میں جگہ جگہ ظلم کی بالواسطہ یا بلا واسطہ مذمت کی گئی ہے ، متعدد بار فرمایا گیا کہ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ، ان الله لا يحب الظالمین (آل عمران : 57 ) ظلم کرنے والے،اللہ کے وعدۂ انعام کو نہیں پا سکتے، لا ینال عهدى الظالمين ، ( البقرۃ : 124) ظلم کرنے والے اللہ کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں . و الله لا يهدی القوم الظالمين (البقرة : 258) ظالموں کے لیے آخر کار ناکامی ہی مقدر ہے . انه لا يفلح الظلمون ) (الانعام : 21) ظالمین پر اللہ کی لعنت ہیں . الا لعنة الله على الظالمين (هود : 18)


مطالعہ قرآن سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ جن قوموں کو عذاب الٰہی نے اپنی لپیٹ میں لیا ، اسکی وجہ صرف کفرو شرک اور انکارِ ایمان ہی نہیں تھا ، بلکہ ظلم کا اپنی حدوں سے پار ہو جانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اپنے بندوں کے لیے دارالامتحان بنایا ہے اسی وجہ سے کفر و شرک کو ایک حد تک برداشت کیا گیا ، لیکن ظلم کرنے والوں کے حق میں اللہ تعالٰی نے سخت سزائیں مقرر کی ہے ، قوم نوح نے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے مصاحبین پر پتھر برسائے ، نمرود نے خلیلِ خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں زندہ ڈالدیا ، حضرت لوط علیہ السلام" کی قوم نے خلاف فطرت کاموں کو اپنا مشعلہ بنا لیا ، حضرت شعیب علیہ السلام " کی قوم پیمانہ میں کمی کے باعث مجرم ٹہری، فرعون نے حضرت موسی " پر ایمان کا انکار ہی نہیں کیا، بلکہ بنی اسرائیل پر ظلم کے بد ترین پہاڑ ڈھائے ، جسے اللہ تعالی نے قران مجید میں الگ الگ انداز میں بیان فرمایا: حتی کہ وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کر دیتا تھا ، اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا (سورۃ البقرہ: 49)


جب ظلم کی حدیں پار ہو جائے تو اسلام نے ظالموں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا ہے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا ان میں سے مظلوموں کی مدد کرنا ہے (بخاری : 2440) آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا میں نے اپنی امت کے لیے عرفات میں مغفرت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے ان کی مغفرت کی، سوائے ظالمین کے ( ابن ماجہ 3013) حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ حضور کا ارشاد نقل کرتے ہیں اللہ تعالی ظالم کو ڈھیل دیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب اسکی پکڑ ہوتی ہے تو پھر اسے نجات نہیں ملتی ( بخاری : 4686) ایک موقع پر آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جب لوگ کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اسکے ہاتھ نہ روکیں، تو قریب ہے کہ عذاب الہٰی انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے(ترمذی : 3057) غور کرنے سے پتہ چلا کہ ظلم کا ارتکاب جتنا بڑا گناہ ہے اسی طرح ظالم کی مدد کرنا یا اس کو تقویت پہنچانا اور ظلم پر خاموش بیٹھنا بھی کچھ کم نہیں ہے .


*یوں تو اسلام و کفر کے درمیان ہمیشہ سے ٹکراؤ رہا ہے ، لیکن اس وقت اس عالم فانی میں ظلم و بربریت کا جو ننگا ناچ برپا ہے ، تاریخ میں ایسی نظیر ملنی مشکل ہے ، مسلمانوں کے خلاف اتحادِ کفار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ، اس وقت امریکا کی پشت پناہی میں ظالم اسرائیل مسلمانان غزہ اور فلسطین پر جو فرعونیت قائم کیے ہوئے ہے، چشم فلک نے کبھی ایسے مناظر نہیں دیکھے ہوں گے، گھروں کی تباہی ، اجتماعی قتل ، چھوٹے چھوٹے بچوں کی بھوک کی وجہ سے آہیں اور سسکیاں ، ایک ایک لقمہ کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے والے ننھے بچوں سے لیکر ضعیف و معمر حضرات پر گولیوں کی بوچھار ، لمحوں میں خاندان کے خاندان تباہ ، تڑپتی لاشیں ہے ، آسمانوں میں اڑتے جسموں کے حصے ہیں ، ہر روز لاکھوں افراد کی نقل مکانی ، اجتماعی جنازے ، اجتماعی قبریں، ایسے ہولناک مناظر جنہیں دیکھ کر آنکھیں بند کرتے ہوئے بھی منظر ذہن سے نہ ہٹے ـــــــ جیسے وقت وہیں تھم گیا ہو*


*سلام ہے ان ماؤں ، بچوں پر اور خصوصا ان مجاہدین پر کہ اس ماحول میں بھی ان کی زبانوں پر حسبی اللہ اور الحمدللہ کے کلمات جاری ہے، جن کی بہادری عہد نبوی اور عہد صحابہ کی یادیں تازہ کر دیتی ہے ، ہفتوں بھوکے رہ کر بھی ایک ایک مجاہد درجنوں دشمن پر بھاری ہے، اور انکی استقامت اورثابت قدمی نے یہودیوں کے کھوکھلے دعوؤں کو راکھ میں تبدیل کر دیا ہے وہ اب بھی فولاد کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں، مجاہدین ان کے ظلم کے خلاف عزم و ہمت کی تاریخ رقم کر رہے ہیں* ۔


اسکے برعکس جہاں مظلوموں کا خون چیخ چیخ کر کر مدد مانگ رہا ہے ، وہاں اسلامی دنیا اپنی بے حسی پر سینہ تان کر کھڑی ہے ، ان کے ضمیر سو چکے ہیں ، ان کی غیرت کو گویا زنگ لگ چکا ہے۔ ہر کوئی اپنے مفادات اور مقاصد کے اسیر ہو گئے ہیں ، ان کے مفادات کے شور میں مظلوموں کی پکار دب چکی ہے۔ یہ سیاست کے سوداگر اپنی تجوریاں بھرنے میں مگن ہیں ،


حالانکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کی مثال ایک جسم کے اعضاء کی ہے جیسے تلوے میں کانٹا چبتا ہے اور آنکھیں اس کے لیے بے سکون ہو جاتی ہے ،اسی طرح اگر مسلمان اخوت و بھائی چارے کا دامن تھام لیں تو کفار ویہود کا ظلم نہ صرف صفحہ ہستی سے مٹ سکتا ہے بلکہ دنیا عدل و انصاف کا گہوارہ بن سکتی ہے ، اب ظلم کا خاتمہ اتحاد سے ہی ممکن ہے اور مسلمان جب متحد ہوں گے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیر نہیں کر سکے گی .