*قرآن کریم اور دو بچوں کا فیصلہ*
انسانی تاریخ میں غرور ہمیشہ علم کے لبادے میں جلوہ گر ہوا ہے،اور مذہب اسلام پر انگلیاں اٹھانے والے لوگ ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں،اور آج تک وہ اسلام کا تعقب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، انہیں ہمیشہ اپنے علم پر غرور رہا اور ہر حربہ وہ استعمال کرتے رہے ہیں اسلام کو بد نام کرنے کے لیے،اور سب سے زیادہ خطرناک وہ غرور ہوتا ہے جو عقل، تحقیق اور تجربے کے نام پر حق کو جھٹلانے لگے، جدید دور میں طب و سائنس نے بے شمار کامیابیاں حاصل کیں، مگر اسی کے ساتھ بعض اذہان میں یہ گمان بھی راسخ ہوتا چلا گیا کہ انسان اب ہر راز کا مالک بن چکا ہے،اور وحیِ الٰہی محض ایک قدیم روایت بن کر رہ گئی ہے، بالخصوص کچھ یہودی ڈاکٹرز اور مغربی طبی مفکرین نے اپنی سائنسی برتری کو حتمی سچ سمجھ کر قرآنِ کریم کی آفاقی صداقتوں پر سوال اٹھانے کی جسارت کی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہی غرور تحقیق کی کسوٹی پر پگھلتا چلا گیا،قرآنِ کریم نہ کسی لیبارٹری کا محتاج ہے اور نہ کسی تجربہ گاہ کی تصدیق کا طالب،وہ تو اس ذات کا کلام ہے جو انسان کے ظاہر و باطن، مرض و شفا، آغاز و انجام سب کو ایک ہی نگاہ میں دیکھتا ہے، جب جدید میڈیکل سائنس نے ترقی کے مختلف مراحل طے کیے تو کئی ایسے حقائق سامنے آئے جن کی طرف قرآن صدیوں پہلے اشارہ کر چکا تھا،یوں وہی علم، جس پر کچھ یہودی ڈاکٹرز کو ناز تھا، بالآخر قرآن کی حکمت کے سامنے سرنگوں نظر آیا اور ان کا سائنسی غرور رفتہ رفتہ حقیقت کے بوجھ تلے ٹوٹنے لگا،اور ہمارے علماء ربانیین انکو منہ توڑ جواب دیتے رہے ہیں۔یہ موضوع دراصل اسی ٹوٹتے ہوئے غرور،بدلتے ہوئے اعترافات اور قرآنِ کریم کی ابدی حقانیت کی ایک فکری داستان ہے،جس میں وحی عقل پر غالب آتی ہے،یوں تو ہر مذہب والے نے اپنے حق ہونے دعویٰ کرتے ہیں اور جو جسکا پیروکار ہے اسے یہ حق بھی ہے کہ اپنے مذہب کی حقانیت کو بیان کرے،اور میں ذکر کر چکا ہوں کہ دنیا کے تمام یہودی و نصرانی اور تمام مذاہب فقط اسلام کی عروجیت کو کم کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے دنیا کی تمام آندھیاں ماند ہو گئیں اور اسلام کا چراغ آج بھی روشن ہے اور قیامت تک روشن رہے گا، *کیونکہ ہر ایک مذہب اپنے پیروکار کی بنا پر وجود میں آیا ہے جبکہ اسلام اپنے پیروکار کی بنا پر نہیں بلکہ اسلام کے پیروکار خود اسلام کی وجہ سے ہیں تو اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان یہی بہت بڑا خط فاصل ہے کہ باقی مذاہب انکے پیروکار کے ساتھ ختم ہو جائیں گے اور اسلام اگر اسکے پیروکار بھی ختم ہو جائیں تو اسلام ختم ہونے والا نہیں ہے۔*
مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداء تیرے
نـہ مـٹـا ہـے نـہ مـٹـے گـا کـبـھـی چـرچا تـیـرا۔
*یہودی ڈاکٹرز انکا ٹوٹتا ہوا غرور*
امریکہ میں ایک یہودی ہوسپیٹل تھا اور اس میں تمام ڈاکٹرز یہودی و عیسائی تھے،انہیں کے درمیان میں ایک اور بہت بڑے ڈاکٹر مسلم تھے جن کا نام ڈاکٹر یحیٰ تھا جب وہ اپنی ٹولی کے درمیان میں بیٹھا کرتے تھے تو اسلام کی حقانیت کو بتاتے تھے اور سمجھاتے تھے،اور اسلام کی یہ شان بھی ہے کہ اسکے پیروکار اسکی باتیں ہر پلاٹ فارم پر کریں،اسلام کوئی ایرے غیروں کا مذہب نہیں بلکہ مذہب اسلام وہ مذہب ہے جسکی بنیاد خود خالق ارض و سماوات نے رکھی ہے اللہ کریم خود فرماتا ہے(انّ الدّين عند الله الاسلام) الله کے نزدیک مذہب صرف اسلام ہے،اور اصول ہے حق چڑھ کے بولتا ہے تو یقینا ڈاکٹر یحیٰ کیوں اسلام کی بات نہ کریں جس حق و صداقت کو تمام کائنات جانتی ہے۔یہودی ڈاکٹرز بہت پریشان تھے کہ یہ جب بھی ہمارے درمیان میں بیٹھتا ہے اسلام کی بات کرتا ہے اپنے مذہب کی سچائی بیان کرتا ہے اپنے مذہب کو سچا بتاتا ہے،نبی اکرم ﷺ کی حق و صداقت کی بات کرتا ہے وہ یہ سب کہاں گوارہ کر سکتے تھے،اور جب وہ قرآن کریم کی بات کرتے تھے تو فرماتے تھے قرآن وہ معزز کتاب ہے جس میں(Past,Perfect, Future )ماضی، حال، مستقبل تینوں زمانے پائے جاتے ہیں گویا وہ یہ کہنا چاہتے تھے قرآن میں ہر چیز کا بیان ہے،ہر زمانے کی خبر قرآن اپنے سینے میں لیے ہوئے ہے،گویا وہ اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتے تھے،اور کرنا بھی چاہیے الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔چند دن بعد ہوا کچھ یوں کہ ہوسپیٹل میں دو عورتیں آئیں(Pregnant)جنکے بچے پیدا ہونے تھے اب اتفاق یہ ہوا دونوں کو ایک ہی روم میں رکھا،ڈلیوری ہوئی اور دونوں کے بچوں کو ایک ہی بینچ پر لٹا دیا گیا، ان میں ایک لڑکی تھی اور ایک لڑکا تھا،اب ڈاکٹرنی یہ بھول گئی کس کا لڑکا تھا اور کس کی لڑکی تھی،اور معاشرہ کی حالت بھی کچھ یوں ہے کہ لڑکے کو سب لینا چاہتے ہیں لڑکی کو کوئی لینا نہیں چاہتا،یہ معاشرہ کی جاہلہ احماقنہ بے بنیاد حماقت ہے،خیر آگے، وہاں جھگڑا ہونے لگا ایک مریضہ(Patient) کے گھر والے بولے لڑکا ہمیں چاہیے دوسری مریضہ (Patient)کے گھر والے بولے لڑکا ہمیں چاہیے،اب ڈاکٹرز پریشان سوچ میں پڑ گئے آخر کیا کیا جائے، کس کو لڑکا دیا جائے کس کو لڑکی دی جائے،ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا اور کہاں دونوں پشینٹ اپنے گھر جائیں جب فیصلہ ہو جائے گا بچوں کو آپکے حوالے کر دیا جائے گا،فیصلہ ہوا وہ اپنے گھر چلے گئے۔اب یہودیوں کو شوشہ مل گیا اسلام کو بدنام کرنے، کا اللہ کی وحدانیت کو نہ ماننے کا،نبی اکرم ﷺ کی رسالت کے انکار کرنے کا، قرآن کی تکذیب کرنے کا، ان یہودی ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا آج اچھا موقع ہے اسلام کو بدنام کرنے اور قرآن پر کذب کے حکم لگانے کا،اور ڈاکٹر یحیٰ کی زبان کو خاموش کرنے کا،وہ بہت اسلام اسلام اور خدا وحدہ لا شریک کی باتیں کرتے ہیں،ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر تمہارا خدا اتنا ہی سچا ہے،اگر تمہارا اسلام ہی یقیناً سچا مذہب ہے،اگر تمہارے رسول ﷺ سچے نبی ہیں، اگر تمہارا قرآن اتنا ہی سچا ہے تم دعوے کرتے ہو کہ قرآن میں ماضی حال مستقبل تمام زمانے پائے جاتے ہیں، یعنی ہر چیز کا ذکر موجود ہے تو ہمیں بتاؤ ان دو بچوں کا ذکر قرآن میں کہاں ہے؟وہ یہودی ڈاکٹرز آئے اور سوال قائم کر دیا اور پوچھنے لگے ہمارے ہوسپیٹل کا ماحول آپکو پتا ہے دو بچوں کے درمیان یہ تمیز نہیں ہو پا رہی ہے کس کے لڑکا اور کس کے لڑکی ہے اگر تمہارا قرآن سچا ہے تو ہمیں قرآن سے بتاؤ ان دو بچوں کا ذکر قرآن میں کہاں ہے؟یعنی ہم کس کو لڑکا دیں اور کس کو لڑکی دیں،ڈاکٹر یحیٰ صرف ایک ڈاکٹر تھے کوئی عالم نہیں، لیکن انہیں اسلام کی حقانیت پر یقین کامل تھا انہوں نے کہا مجھے کچھ دن کا ٹائم دیا جائے تاکہ میں قرآن سے جواب حاصل کر سکوں، تو ڈاکٹرز نے پوچھا کتنا ٹائم چاہیے کہا مجھے 40 دن کا ٹائم دیا جائے،ڈاکٹرز نے کہا ٹھیک ہے آپکو 40 دن کا ٹائم دیا جاتا ہے، وہ ظالم یہ سمجھ رہے تھے کہ اسلام کوئی معمولی مذہب ہے۔ڈاکٹر یحیٰ اللہ کی بارگاہ میں عریضہ پیش کرنے لگے اور کہنے لگے اے خدا اگر میرے وجود پر انگلی اٹھائی جاتی مجھےگوارا تھا، میری ذات کو برا بھلا کہا جاتا مجھے گوارا تھا،میرے گھر کو مسمار کر دیا جاتا مجھے گوارا تھا، میرے وجود سے خون کا ایک ایک قطرہ نکال لیا جاتا مجھے گوارا تھا،میرے بچوں کے خون کا ایک ایک قطرہ لے لیا جاتا مجھے گوارا تھا، لیکن کوئی تیری ذات پر انگلی اٹھائے،کوئی نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کو برا بھلا کہے،کوئی اسلام پر انگشت دراز کرے،کوئی قرآن عظیم کو جھوٹا ثابت کرنے کی بات کہے مجھے گورا نہیں، اور آج اے خدا ظالم تیری ذات پر انگلی اٹھا رہے ہیں، تیری نبی کی عظمت کو گھٹانا چاہتے ہیں، تیرے قرآن کو جھوٹا ثابت کرنے کی باتیں کر رہے ہیں،اے اللہ تو اپنے بندے کی مدد فرما اسی دعا کو کرتے کرتے 39 دن پورے ہو گئے کوئی جواب نہیں ملا بالآخر وہ چالیسواں دن آیا،فجر کی نماز کے بعد ڈاکٹر یحیٰ اللہ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کر رہے تھے ایک عالم صاحب آئے اور کہنے لگے ڈاکٹر یحیٰ کیا مسئلہ کیوں پریشان ہو تب انہوں نے بتایا ہوسپیٹل میں دو بچے پیدا ہوئے ہیں اب مجھ سے مطالبہ کیا گیا ہے اگر واقعی تمہارا اسلام سچا ہے اور قرآن میں ماضی حال مستقبل تمام چیزوں کا ذکر ہے تو بتاؤ ان دو بچوں کا ذکر کہاں ہے،چالیس دن کی مہلت لی تھی آج آخری دن ہے ہوسپیٹل میں حاضر ہو کر جواب دینا ہے اور جواب ملا نہیں ہے عالم صاحب نے کہا بس اتنی سی بات، کہاں ہاں یہی مسئلہ ہے عالم صاحب نے کہا قرآن اٹھاو سوال کا جواب قرآن سے ہم دیں گے، قرآن اٹھایا اور ہوسپیٹل پہنچ گئے وہاں وہ مکار ڈاکٹر یحیٰ کو دیکھ کر ٹھٹھہ کرنے لگے،اور کہنے لگے ڈاکٹر یحیٰ جواب لے آئے یا نہیں، ڈاکٹر یحیٰ نے کہا الحمد للہ میں جواب لے آیا ہوں۔عالم صاحب اور ڈاکٹر صاحب یہودی ڈاکٹرز کے سامنے بیٹھے سوال پوچھا سوال کیا ہے،کہا کہ دو بچے پیدا ہوئے ہیں ایک لڑکی اور ایک لڑکا دونوں میں پتہ یہ نہیں چل رہا ہے کس کے لڑکا اور کس کے لڑکی ہے، اب آپ قرآن سے بتاو کس کے لیے لڑکی ہے اور کس کا لڑکا ہے،عالم صاحب گویا ہوئے سوال پورا ہو گیا آپکا ڈاکٹرز نے کہا ہاں جواب عنایت فرمائیں، عالم صاحب نے کہا قرآن پاک یہ آپکے سامنے موجود ہے سورۃ النساء آیت نمبر گیارہ پارہ نمبر چار اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے(يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ) ترجمہ:اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، محل استشہاد(لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ) مرد کے لیے عورت کا دو گنا ہے۔ڈاکٹرز کہنے لگے ہم نہیں سمجھے اسکا مطلب کیا ہوا فرمایا قرآن کا فیصلہ یہ ہے،تمہاری زبان میں قرآن کہنا یہ چاہتا ہے کہ دونوں ماؤں کے دودھ کو چیک کیا جائے جس ماں کے دودھ میں وٹامن زیادہ ہوں اسکو بیٹا دے دیا جائے اور جس کے دودھ میں وٹامن کم پائے جائیں اسکو لڑکی دے جائے، اب دونوں عورتوں کے دودھ کو منگا کر چیک کیا گیا مشینوں میں رکھا گیا تو ایک ماں کے دودھ میں 350+ وٹامن پائے گئے اور ایک ماں کے دودھ میں 200+ وٹامن پائے گئے عالم صاحب نے کہا اب قرآن کا فیصلہ یہ ہے کہ جسکے دودھ میں وٹامن زیادہ پائے گئے ہیں اسکو بیٹا دے دیا جائے اور جس کے دودھ میں وٹامن کم پائے جائیں اسکو بیٹی دے دی جائے،یہودی ڈاکٹرز حیران رہ گئے اور کہنے پر مجبور ہو گئے واقعی اگر کوئی سچا مذہب ہے تو وہ مذہب اسلام ہے،کوئی سچی کتاب ہے تو قرآن عظیم ہے اور سچے نبی ہیں تو وہ پیغمبر اسلامﷺ ہیں اب ہمیں کلمہ پڑھا دیجیے اور اسلام میں داخل کر لیجیے،سبحٰن اللہ سبحٰن اللہ،اے قرآن تیری عظمت پے قربان،اے سچے رسول آپکی رسالت پے قربان،اے اسلام تیری حقانیت پے قربان۔مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداء تیرے
نـہ مـٹـا ہـے نـہ مـٹے گا کـبـھـی چـرچـا تـیـرا۔
اللہ کریم ہمیں مذہب اسلام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور بے حساب کتاب مغفرت فرمائے،اللّهم ثبّت اقدامنا على الاسلام، اللّهم ثبّت قلوبنا على الايمان،آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*