الحمدللہ! امتِ محمدیہ ﷺ میں آج بھی مدارسِ اسلامیہ وہ چراغ ہیں جہاں قرآن و سنت کی خوش بو پھیلتی ہے، اور جہاں ختمِ بخاری شریف کی محافل روحوں کو سکون بخشتی ہیں۔ یہ وہ مناظر ہیں جنہیں دیکھ کر دل جھک جاتا ہے کہ دین ابھی زندہ ہے، ایمان ابھی سانس لے رہا ہے۔
مگر افسوس اسی روشنی کے بیچ کہیں کہیں ایک دھند چھا جاتی ہے۔ وہ دھند، جس میں علم تو ہے مگر حیا کی خوش بو مدھم پڑ جاتی ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض عالمات، بخاری شریف کے مقدس ختم کے موقع پر ہاتھوں میں گجرے پہن کر، کتابِ بخاری پر ہاتھ رکھ کر تصویریں بناتی ہیں، اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلا دیتی ہیں۔ جیسے علم کو زینت نہیں، زینت کو علم بنا دیا گیا ہو۔
اے دینی علم کی وارثو!
ذرا پلٹ کر دیکھو، تم نے جس کتاب سے علم لیا، اسی کے صفحات میں نبیِ کریم ﷺ کا یہ فرمان بھی تو پڑھا تھا:
الحیاءُ شُعبةٌ من الإيمان
(البخاری:9)
ترجمہ: حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔
پھر وہ حیا کہاں گئی؟
جس نے عورت کو معزز بنایا، جس نے فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو جنت کی سردار بنایا، جس نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو علم و وقار کا پیکر بنایا۔کیا وہی حیا آج کی عالمات کے ہاتھوں سے رخصت ہو گئی؟
یاد رکھو! عورت کا ہاتھ، عورت کی نگاہ، عورت کی ادا سب ستر میں داخل ہیں۔وہ ہاتھ جو بخاری شریف پر ٹکتے ہیں، وہ تصویر کے فریم میں نہیں، عبادت کے خلوص میں جچتے ہیں۔
اے علم کی بیٹیو! تمہارا علم تمہیں شہرت کے لیے نہیں دیا گیا، بلکہ امت کے دلوں کی اصلاح کے لیے عطا کیا گیا ہے۔تم وہ درخت ہو جن کے سایے میں نسلیں پنپتی ہیں۔تمہاری چال میں وقار،تمہاری زبان میں نرمی، تمہارے پردے میں عزت، اور تمہارے کردار میں اسلام کی بقا ہے۔
جب تم الحیاء شُعبۃ من الایمان کو اپنا شعار بنا لو گی، تو تمہارے ہاتھوں سے وہ نسلیں پروان چڑھیں گی جن کے سینوں میں عشقِ رسول ﷺ موجزن ہوگا۔ورنہ اگر علم، حیا سے خالی ہوجائے تو وہ روشنی نہیں،بلکہ آگ ہے۔ جو پہلے خود کو جلاتی ہے، پھر معاشرے کو۔
آج امت زوال میں ہے۔کیوں کہ علم، عمل سے جداہوگیاہے،عبادت،خلوص سے خالی ہو گئی ہے، اور حیا، فیشن کی نذر ہو گئی ہے۔مدارس کا احترام صرف درس دینے سے نہیں بڑھتا، بلکہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی جھلک دکھانے سے بڑھتا ہے۔
اے علم کی امانت دار بہنو!تمہاری انگلیوں میں اگر بخاری شریف کی خوش بو ہے تو تمہارے چہرے پر نورِ تقویٰ بھی ہونا چاہیے۔تمہارے انداز سے امت کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سادگی یاد آئے،تمہارے طرزِ گفتگو سے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حکمت جھلکے،تمہارے عمل سے خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا وقار نظر آئے۔
ختم بخاری ہو، ختم غوثیہ ہو، یا درسِ قرآن ہر اجتماع کا مقصد امت کی فلاح و بہبود ہونا چاہیے، نہ کہ دکھاوا یا واہ واہ۔ اگر تمہاری محفل سے ایک دل بھی گناہ سے تائب ہو جائے، تو وہی تمہارا سب سے بڑا اسٹیٹس ہے۔
یہ وقت علم کے تقدس کو بچانے کا ہے۔یہ وقت عورت کے مقام کو حیا کے تاج سے سنوارنے کا ہے۔یہ وقت امت کو وہی پیغام دینے کا ہے جو بخاری شریف کے ہر باب سے پھوٹتا ہے۔کہ علم بے غیر حیا، ایمان کے بے غیر روح کے مانند ہے۔
پس اُٹھو! اپنے پردے کو اپنا فخر بنا لو، اپنی سادگی کو اپنا زیور بنا لو، اور اپنے علم کو امت کی اصلاح کا ذریعہ بنا دو۔تب تمہاری محفلیں محض تقریبات نہیں رہیں گی، بلکہ وہ امت کی تقدیر بدلنے والے مدرسے بن جائیں گی۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں علم کے ساتھ حیا، شہرت کے بجائے اخلاص، اور ظاہری زینت کے بجائے باطنی نور عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔