محتاجی کی زنجیر اور حق گوئی کی خاموشی
✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
محتاجی صرف روٹی، کپڑا اور مکان کی کمی کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش زہر ہے جو انسان کی سوچ، ضمیر اور زبان کو آہستہ آہستہ مفلوج کر دیتا ہے۔ جب انسان کو اپنی روزی روٹی کے لیے دوسروں کا محتاج ہونا پڑے، تو وہ سچ بولنے کی طاقت کھو بیٹھتا ہے۔ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی جرأت گونگی ہو جاتی ہے۔
ہمارا معاشرہ بھی آج اسی المیے کا شکار ہے۔ استاد ہو یا طالب علم، ملازم ہو یا افسر، عالم ہو یا عام فرد— جب وہ اپنی ضروریات کے لیے کسی طاقتور کے در پر جھک جاتا ہے، تو اس کے ضمیر کی آواز دب جاتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ غلط ہے، لیکن زبان سے کچھ نہیں کہتا۔ اسے اپنی عزت، مقام یا تنخواہ کا خوف روک لیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ظالم دن بہ دن طاقتور ہوتا جا رہا ہے اور مظلوم دن بہ دن خاموش۔ کیونکہ سچ کہنے والے محتاج ہو چکے ہیں، اور محتاج زبان کھولنے سے ڈرتے ہیں۔
اسلام نے ہمیں سکھایا کہ "افضل جہاد، ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے"۔ لیکن آج کلمۂ حق صرف کتابوں میں رہ گیا ہے، عمل میں نہیں۔ سچ بولنے والے یا تو نکال دیے جاتے ہیں یا دیوار سے لگا دیے جاتے ہیں۔
کاش! ہم ایسی خودداری، غیرت اور حلال روزی کی کوشش کریں کہ ہمیں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ کیونکہ جس دن انسان کی روزی اس کے ضمیر سے زیادہ اہم ہو جائے، اُس دن وہ اپنی زبان بیچ دیتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوانوں کو، طلباء کو اور عوام الناس کو صرف علم نہیں بلکہ جراتِ اظہار، خودداری اور قناعت بھی سکھائیں۔ تاکہ ایک نیا معاشرہ تشکیل پائے، جہاں محتاجی نہیں، خودداری بولے — اور ہر شخص غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کی ہمت رکھے۔