اک چراغ جو بجھ گیا
19 دسمبر، 2025
یہ دنیا دارِ فانی ہے ، یہاں کی ہر چیز کو فنا ہونا ہے ، یہاں کوئی ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آتا ، یہاں کسی کو دوام و ثبات حاصل نہیں ؛ بلکہ ایک نہ ایک دن سب کو جانا ہے ، اس دارِ فانی سے دارِ بقا اور ابدی زندگی کی طرف سب کو کوچ کرنا ہے ، اور سب آتے ہی ہیں جانے کے لیے، آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں ضرور بارِ الہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ تو کل ہماری باری ہے
لیکن جانے والوں میں کچھ ایسے ہوتے ہیں ،کہ ان کی جدائی پر دل کو یقین نہیں آتا ، وہ اپنے ساتھ نہ جانے کتنوں کی خوشی اور مسرت کو لے کر چلے جاتے ہیں ، ان کے جانے سے نہ جانے کتنوں کو یتیمی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے، وہ اپنے پیچھے اتنے گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں،کہ ان کو بھلانا کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا ؛ انہیں میں سے ایک عظیم شخصیت ، شیخ المشائخ، محبوب العلما والصلحا ،حضرت جی پیرِ زماں مولانا محمد ذوالفقار احمد نقشبندی علیہ الرحمہ کی تھی ، جو ایسے جدا ہوئے کہ ہزاروں آنکھوں کو نم اور لاکھوں انسانوں کو مغموم و محزون کر گئے ۔
جب حضرت کی وفات کی خبر پر نظر پڑی ، تو اپنی نگاہ پر یقین نہیں آیا ، دل نے کہا کہ شاید بصارت غلطی کر رہی ہے ، اور جھوٹی تسلیوں اور امیدوں کا سہارا لے کر اس پیغام کو باربار پڑھا کہ غلطی کی تلافی ہو جائے، جو نہ ہو سکی ، فوراً تصدیق کے لیے مختلف گروپوں اور متعدد چینلوں کو کھنگالنا شروع کیا ، بالآخر وکیلِ احناف حضرت مولانا محمدالیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی تحریر، اور حضرت جی کے خلیفۂ خاص حضرت مولا محمد سلمان بجنوری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے صوتی پیغام واٹسپ پر نشر ہوئے ۔ یقیناً اس خبر نے دل کو چیر کر رکھ دیا ، آنکھوں کو اشک بار کر دیا ، اور ایسا محسوس ہوا کہ گویا زبانیں گنگ ہو گئی ہوں ، اور پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی ہو ۔
حضرت جی کے انتقال پُرملال پر پوری امتِ مسلمہ، بالخصوص علما و طلبہ کا طبقہ یتیم ہو گیا، آج دار العلوم کے در و دیوار بھی ساکت ، اور اس کی فضا بھی مغموم ہے، جس نے بھی یہ خبر سنی ، اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی، اور پژمردگی کے آثار نمایاں ہوگئے ۔
بچھڑا اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
حضرت جی ؒ سے بندۂ ناچیز کو عقیدت و محبت صغرِسنی ہی سے تھی، حفظ کے بعد ایسے اساتذہ سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا، جو حضرت کے دستِ اقدس پر بیعت تھے ، یا حضرت کے عقیدت مندوں اور ان کے خوشہ چینوں میں شامل تھے ۔ دارالعلوم دیوبند میں داخلے کے بعد بھی حضرت کے خلفاء کی مجلسوں میں بارہا جانے کی سعادت حاصل ہوئی ، اور حضرت کے خدمات ، ان کے حسنِ اخلاق ، ان کے طرزِتکلم ، ان کی سادگی اور ان کی عاجزی و انکساری کے بارے میں باربار سننے کا موقع ملا ، جس کی وجہ سے ان کی عقیدت اور محبت میں مزید اضافہ ہوتا گیا، اس گناہ گار کو بالمشافہ ملاقات کی توفیق نہ مل سکی ؛ البتہ آپ کی تقریروں اور تحریروں سے استفادے کا خوب موقع ملا ، جس نے زندگی بدل ڈالی ، سوچنے اور غور و فکر کرنے کا الگ زاویہ عطا کیا ، اور درس و تکرار اور مطالعے و مذاکرے کے شوق کو مزید پروان چڑھایا ۔
آپ ؒ کی شخصیت ہمہ گیر و ہمہ جہت تھی ، آپ جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی خوب آشنا تھے، آپ سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم بزرگوں میں شمار کیے جاتے تھے، آپ ؒ کی تقریرات مغموم دلوں کے لیے راحت کا ساماں ہوتی تھیں ، آپؒ کی تحریرات گم گشتۂ راہ لوگوں کے لیے ہدایت کا منارہ تھیں ، آپؒ کے اشعار دلوں کی دنیا بدلنے کے لیے کافی تھے ، آپؒ کے خلفا کا وسیع سلسلہ برِ صغیر میں ہر جانب پھیلا ہوا ہے ، جو آپؒ کے علوم و افکار کی اشاعت و تبلیغ میں مصروف و منہمک ہیں ، آپ کے فیضان سے ہزاروں افراد نے فیض حاصل کیا ، ہزاروں تشنگان علوم نے اپنی پیاس بجھائی ، اور آپ کی نگاہِ ناز سے بہت سے لوگوں کی دنیا بدل گئی ۔
آپؒ کی وفات ایک عظیم حادثے سے کم نہیں ، اور آپ کا انتقال نہ صرف آپ کے محبین و مریدین کے لیے ایک ذاتی صدمہ ہے؛ بلکہ پوری امتِ مسلمہ بالخصوص سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان بھی ہے۔ اللہ آپ کے درجات کو بلند فرمائے ، اہل خانہ ، متعلقین ، منتسین، محبین اور تمام عقیدت رکھنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ، اور امت مسلمہ کو نعم البدل عطا فرمائے ۔آمین یارب العالمین ۔
*تیری مرقد پہ زماں اشکوں کی بارانی کرے*
*تیرے بحرِ فیض میں آقا فراوانی کرے*
*آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے*
*سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے*
✍️: محمد شاہد گڈاوی