بیٹھے ہیں سربزم جو ناکام محبت
بدنام محبت ہیں یہ بدنام محبت
آغاز محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا
انجام محبت ہےیہ انجام محبت
چاہت ہو مودت ہو یا ہو عشق وغیرہ
ہیں کتنے معانی ترے اے نام محبت
جی بھرتا نہیں ہے مرا دوچار سبو سے
اے ساقی! بلا اور پلا جام محبت
ہوجائےگی الفت تمھیں پھر سارے جہاں سے
اے لوگو ! سنو غور سے پیغام محبت
لاکھوں ہیں جو اس راہ میں ناکام ہوۓ ہیں
اک میں ہی نہیں دہر میں ناکام محبت
عبیداللہ صندل