*ایک مسلم لڑکی کا حجاب اور مکارِ اعظم کی مکاری*
یہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ ایک ذہنیت کا عکاس لمحہ ہے، ایک لمحہ جس نے طاقت کے نشے میں ڈوبی ہوئی سیاست کو بے نقاب کر دیا، اور ایک معصوم، باوقار مسلم بچی کے حجاب نے ضمیر عالم کو آئینہ دکھا دیا،حجاب جو محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایمان کی علامت، شناخت کی حفاظت اور عزت نفس کا حصار ہے،اسی حجاب پر ہاتھ ڈالنا دراصل عورت کے وقار، اس کی آزادی اور اس کے مذہبی حق پر حملہ ہے،جس ہاتھ کو آئین کی پاسداری، شہری آزادیوں کے تحفظ اور کمزوروں کے وقار کی حفاظت کرنی تھی، اسی ہاتھ کا بڑھ جانا اس بات کا اعلان ہے کہ جب اختیار اخلاق سے خالی ہو جائے تو وہ جبر بن جاتا ہے، ایک مسلم بچی جو اپنی محنت، اپنی قابلیت اور اپنے حیا دار تشخص کے ساتھ کھڑی تھی،اسے اس کے لباس تک محدود نہ سمجھا گیا، بلکہ اس کی ذاتی حدوں کو پامال کیا گیا، یہ رویہ صرف ناپسندیدہ نہیں، ناقابل قبول ہے،اور ہمارا مطالبہ ہے دار القضاء میں بیٹھے منصفوں سے اس پر کارروائی کی جائے اور اسکو منصب سے ہٹایا جائے۔یہاں سوال صرف حجاب کا نہیں، سوال رضامندی، احترام اور آزادی کا ہے،اگر کسی عورت کا لباس اس کی اپنی مرضی، اس کا عقیدہ اور اس کی شناخت ہے، تو کسی بھی حکمران، کسی بھی عہدے دار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس پر ہاتھ بڑھائے، جو حکومت عورت کے لباس پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت کرے، وہ دراصل اپنے اخلاقی جواز سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے،یہی وہ مقام ہے جہاں ناجائز حکومت کی پہچان ہوتی ہے،جب اقتدار عوامی خدمت کے بجائے تضحیک کا ذریعہ بن جائے،جب طاقت تحفظ کے بجائے تحکم میں ڈھل جائے،جب آئین کی روح کے بجائے انا کی تسکین کو ترجیح دی جائے،تو سمجھ لیجیے کہ وہ حکومت اپنے وجود کے اخلاقی ستون خود گرا چکی ہے۔مسلم لڑکی کا حجاب آج خاموشی سے چیخ رہا ہے، یہ چیخ نفرت کی نہیں، انصاف کی ہے، یہ چیخ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مذہبی آزادی کوئی رعایت نہیں، بنیادی حق ہے، کہ عورت کا وقار کسی کی تفریح یا طاقت کے اظہار کا میدان نہیں،اور یہ کہ عزت چھیننے سے نہیں، دینے سے قائم ہوتی ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے افعال پر واضح جواب دہی ہو، محض رسمی بیانات نہیں، معافی محض لفظوں میں نہیں، عمل میں نظر آئے، اور یہ پیغام پوری قوت سے دیا جائے کہ عورت کی عزت، مذہبی آزادی اور شخصی حدود ناقابل سودے بازی ہیں،میری بہنوں یاد رکھنا،حجاب کمزوری نہیں، وقار ہے،خاموشی بے بسی نہیں صبر ہے،اور جو حجاب کو چھیڑتا ہے، وہ دراصل انسانیت کے پردے نوچتا ہے، قومیں اسی دن سربلند ہوتی ہیں جس دن وہ کمزور کے وقار کی حفاظت کرنا سیکھ لیتی ہیں۔
میں واضح اور دو ٹوک الفاظ میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں،کہ ہم اپنی عزت و ناموس کو داؤ پر لگانے سے قطعی گریز نہیں کریں گے، یہ عزت ہمیں وراثت میں ملی کہ ہم اسے خاموشی سے چھن جانے نہیں دیں گے، یہ غیرت ہمیں عطا کی گئی ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں، اگر کسی نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مسلمان عورت کے حجاب، اس کے وقار اور اس کی شناخت کے ساتھ کھیل کر وقتی طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے، تو وہ شدید غلط فہمی میں مبتلا ہے۔
ہم نے صبر کو ہمیشہ اپنا شعار بنایا ہے، مگر یہ صبر بے حسی نہیں، ہم نے خاموشی اختیار کی ہے، مگر یہ کمزوری نہیں، اگر اس طرح کی حماقت دوبارہ کی گئی، اگر کسی بھی مسلمان بیٹی، بہن یا ماں کی عزت و ناموس پر پھر ہاتھ بڑھایا گیا، تو ہم اپنی عزت کی قیمت پر خاموش نہیں رہیں گے، ہم ہر وہ راستہ اختیار کریں گے جو آئین، قانون اور اخلاق ہمیں دیتا ہے، اور دنیا کو بتا دیں گے کہ مسلمان عورت کا وقار سرخ لکیر ہے، جسے پار کرنے کی اجازت کسی کو نہیں۔
دار القضاء میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ نتیش کمار کو آئین ہند کے مطابق سزا دلائیں جو ہمیں ہمارا آئین اجازت بھی دیتا ہے،اور پڑھائیں آئین ہند کا وہ قانون جس میں لکھا گیا ہے کہ ہر مذہب والے کو اپنے مذہب پر چلنے کا پورا اختیار ہے، اور اس طرح کرنے والے ہر مجرم کو جیل سلاخوں میں ڈالا جائے آئین ہند کے مطابق،اور منصب سے برطرف کیا جائے کیونکہ جب ایک سی ایم ہی ایسا کرے گا تو یہ قوم کس کے آگے اپنا لہو تلاش کرے گی،بالفور نتیش کمار پر مقدمہ درج کرکے اسے سزا دلائی جائے۔
اللہ کریم مسلمانوں کو حامی و ناصر ہو اور تمام فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*