جہیز ایک رسم جو گھروں کی خوشیاں نگل رہی ہے
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_____________________________________
محترم قارئین آج ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں شادی جیسی پاک اور مقدس سنت کو بھی دکھاوے مقابلے اور اسراف نے آلودہ کر دیا ہے جہیز جو کبھی محبت کا ایک چھوٹا سا تحفہ ہوتا تھا آج ایک ایسی لعنت بن چکا ہے جس نے ہزاروں گھروں کی خوشیاں نگل لی ہیں افسوس کہ آج شادی سے پہلے کردار تربیت دینداری اور اخلاق کے بجائے سامان ماپا جاتا ہے لڑکی کی عزت اور اس کے گھر والوں کی وقعت اس کی دین داری سے نہیں بلکہ لائے جانے والے فرنیچر گاڑی مہنگے سامان اور روپے سے جانی جاتی ہے۔
میری ایک کزن تھی وہ مجھے ایک دفعہ بتا رہی تھی جب ان کی شادی ہوئی تو گھر والوں نے جہیز کے نام پر بےشمار سامان دیا لیکن اس کے باوجود ان کے سسرال والے لڑکے کی ماں بہنیں اور بھابھیاں ہر وقت طعنے دیتی رہیں کہ فلاں چیز نہیں دی یہ کمی رہ گئی وہ کمی رہ گئی معمولی سی بات کو بھی کئی کئی بار دہراتیں اور کوستی رہتیں مجھے اس رویّے پر بےحد تعجب ہوا کہ ماں باپ اپنی بیٹی کو اٹھارہ بیس سال تک محبت سے پالتے ہیں اسے ناز و نعم سے بڑا کرتے ہیں پھر اسے ایک ایسے شخص کے حوالے کر دیتے ہیں جسے وہ کبھی جانتی بھی نہیں تھی اور جب وہ بیٹی اپنے نئے گھر میں قدم رکھتی ہے تو وہاں اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
مروجہ جہیز میں جو خرابیاں ہمارے معاشرے میں پھیل رہی ہیں ان میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ نو جوان اور ان کے گھر والے دولت مند گھرانوں کی لڑکیوں کے پیچھے لگے رہتے ہیں وہ لڑکیوں کے اخلاق و کردار کو نہیں دیکھتے بلکہ صرف ان کی دولت کو دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں مفت خوری وغیرہ جیسی بہت سی اخلاقی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں دوسری خرابی یہ ہے کہ جہیز چونکہ لڑکی کی شادی کیلئے ایک لازمی شرط سمجھا جاتا ہے اس لئے لڑکی کا شوہر اور اس کے گھر والے جہیز پر نظر رکھتے ہیں اور لڑکے والے گویا اسے اپنا حق سمجھتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ جہیز کی امیدیں باندھتے ہیں اگر ان کی یہ توقعات پوری نہ ہوں تو لڑکی کو طعنے دے دے کر اس کی زندگی کو اس کیلئے جہنم بنا دیتے ہیں۔ تیسری خرابی یہ ہے کی لڑکی کے ماں باپ اور گھر کے دیگر افراد لڑکی کی اخلاقی اصلاح و تربیت کے بجائے اس کی شادی کے لئے جائز وناجائز طریقوں سے مال جمع کرنے میں مشغول ہوتے ہیں ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اگر ہماری لڑکی زیادہ جہیز لے کر جائے گی تو شوہر کے دل میں محبت بڑھے گی حالانکہ یہ خیال غلط ہے کیونکہ جس محبت کی بنیاد مال و دولت یا حسن ہو وہ زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتی کچی محبت اخلاق و کردار سے پیدا ہوتی ہے لہٰذا اپنی بیٹی کو شوہر کے حقوق بتلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اس کی فرمانبردار رہے اس کی عزت و احترام کرے اس کی خوشی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھے اور جائز باتوں و کاموں سے اسے خوش رکھے ہر وقت اس کے آرام و راحت کی فکر کرے اور اس سے ایسی فرمائش نہ کرے جو اس کے لئے بارگراں ہو اور اس کے ساتھ محبت سے پیش آیا کرے گھر میں آتے ہی اس کے سامنے ایسی بات نہ رکھے جس سے وہ تردد اور فکر میں مبتلا ہو جائے اور کھانا پینا اس کے لئے زہر بن جائے بلکہ ایسے اوقات میں ایسی باتیں کریں جس سے وہ خوش ہو اس کے والدین کے ساتھ اچھا رویہ اور اچھا سلوک کرے تا کہ اس کا شوہر بھی خوش ہو اور اس کا شوہر اور اس کے والدین اسے دعائیں دیں۔
خلاصہ یہ کہ اپنی بیٹی وغیرہ کے لئے جہیز کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے اخلاق سنوارنے اور اس کو دیندار بنانے کی ضرورت ہے لیکن جہیز کی لعنت نے معاملے کو بالکل الٹ دیا ہے
چوتھی خرابی یہ ہے کی مروجہ جہیز ایک معاشرتی دباؤ اور معاشرتی جبر بن چکا ہے اگر کوئی لڑکی کو بالکل کوئی جہیز نہ دے یا کم دے تو اس کی وجہ سے لڑکی کی ماں باپ اور اس کے گھرانے والوں کو مطعون کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے لڑکی کو بھی طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں اسی وجہ سے لڑکیوں والے حلال و حرام کی تمیز کے بغیر رشوت اور نا جائز ذرائع سے مال اکٹھا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنی لڑکیوں کے جہیز کا بندو بست کر سکیں اور بہت سے غریب لوگ قرض لے کر اپنی بیٹیوں کے لئے جہیز کا بارگراں اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس ملعون جہیز کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں بغیر نکاح کے بوڑھی ہو جاتی ہیں اور اکثر گھرانے لڑکیوں کا بار جہیز نہ اٹھانے اور شرم و حیاء کی وجہ سے اپنے جگر گوشوں کے لئے موت پر راضی ہوتے ہیں اور بہت سے خوشحال لوگ اپنی بیٹیوں کے بیاہنے کی وجہ سے کنگال ہو جاتے ہیں لہذا جن علاقوں میں یہ قبیح رسم موجود ہے اس کو ختم کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے ۔ اس قبیح رسم کا علاج ذیل میں بیان کردہ طریقوں سے کیا جائے علماء واعظین اور خطیبوں کو چاہئے کہ وہ اپنی تحریر وتقریر اور وعظ و نصیحت کے ذریعے اس بری رسم کے خلاف مسلسل لوگوں کی ذہن سازی کی کوشش کریں اور اس کے خلاف ایسی فضا تیار کریں کہ لوگ مروجہ جہیز کو عار اور باعث ذلت سمجھیں اور وہ اس بات کو جان لیں کہ جو جہیز محض شرما شرمی کی وجہ سے دے دیا جاتا ہے اس کا استعمال ہمارے لئے حلال نہیں بلکہ حرام ہے اس گندی بد بودار رسم کو ختم کرنے کیلئے ایسے نوجوانوں کو تیار کریں کہ وہ اعلان کریں کہ ہم جہیز اور لڑکی والوں کے گھر کا کوئی سامان نہیں لیں گے اگر وہ دینا بھی چاہیں ہم اسے ہرگز نہیں لیں گے۔ ایسے معاشرے جہاں اس رسم بد کا رواج ہو اس میں اگر کوئی ماں باپ اپنی بیٹی کو زیادہ مقدار میں تحائف دینا چاہے تو ان کو چاہئے کہ وہ اس کو شادی کے وقت نہ دیں بلکہ شادی کے بعد وقفے وقفے سے تھوڑا تھوڑا کر کے دے دیا کریں اور وہ بھی ایسا خفیہ دیں کہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہو اگر شادی کے وقت ہی کوئی چیز دینی ہو تو وہ معمولی بھی ہونی چاہئے اور خفیہ بھی تا کہ آپ کا یہ عمل غریب لوگوں کی شادیوں میں رکاوٹ نہ بن جائیں۔
جہیز نہ کبھی شرط تھا نہ ہے نہ کبھی ہوگا شادی کی کامیابی نہ فریج سے ہوتی ہے نہ گاڑی سے نہ مہنگے مہنگے سامانوں سے بلکہ باہمی محبت احترام بردباری اور دین داری سے ہوتی ہے ہمیں اپنی بیٹیوں کو چمکتے برتنوں سے زیادہ چمکتا کردار بھاری فرنیچر سے بڑھ کر مضبوط ایمان اور مہنگے تحائف سے زیادہ قیمتی اخلاق دینا ہوگا۔
آج عہد کریں کہ لڑکیوں کو سامان نہیں عزت تحفظ اور کردار دیں گے۔ عہد کریں کہ جہیز کے نام پر کسی کا گھر برباد نہیں ہونے دیں گے عہد کریں کہ اس لعنتی رسم کو ختم کرنے کے لیے آج سے مہم کا آغاز کریں گے جب معاشرہ کھڑا ہو جاتا ہے تو رسمیں خود گر جاتی ہیں۔
اللہ ربّ العزت ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین