زندگیٔ متوسطین: ایک مسلسل معرکۂ حیات

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی

زندگیِ متوسطین — یہ وہ خاموش کارزار ہے جہاں ہر صبح اُمید کی دبیز دھند میں لپٹی، مجبوریوں کی گٹھڑی کاندھوں پہ اٹھائے، انسان تقدیر کی سنگلاخ راہوں پر پاپیادہ گامزن نظر آتا ہے۔ معاشرتی مد و جزر میں پِسا ہوا، وہ نہ تو افلاس کی انتہاؤں میں شامل ہوتا ہے اور نہ ہی آسودگی کے محلّات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یوں گویا وہ زندگی کے دَرمیان میں لٹکا ہوا ایسا پنچھی ہے جس کے پر تو ہیں، مگر پرواز کی وسعت میسر نہیں۔

متوسط طبقہ — یہ وہ مخلوقِ خموشاں ہے جو اپنی خواہشات کو "ضرورت" کا جامہ پہنا کر الماریوں میں دفن کر دیتا ہے۔ جن کے خواب کبھی اسکول کی فیس، کبھی بیماری کی دوائی، اور کبھی معاشی طوفانوں کے تھپیڑوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ جن کی زندگی ایک مسلسل "وجودی کشمکش" (Existential Crisis) کا نام ہے، جہاں صبح کی چائے اور رات کی نیند کے درمیان کئی معرکے سر کیے جاتے ہیں۔

ان کے اذہان میں "بے سروسامانی" کی لکیریں، دل میں "تحملِ ناچاری" کی گونج، اور آنکھوں میں "فردا کی اُمید" کی چمک موجود رہتی ہے۔ ان کے لیے عیشِ زندگی محض ایک "فلسفیانہ مفروضہ" ہے جسے وہ حسرتوں کے طاق پر رکھ کر، پیہم "تقدیر کی فرعونیت" کے سامنے سرنگوں ہو جاتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو "تدبیر" اور "تقدیر" کے مابین پنڈولم کی مانند جھولتے رہتے ہیں۔ جن کے ارمان، مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفانوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔ جو مہذب نظر آتے ہیں مگر اندر سے "شکست خوردہ" ہوتے ہیں۔ جو مسکراتے ہیں، مگر وہ مسکراہٹ "مصنوعی تسکین" کا ایک چولا ہوتی ہے، جس کے پیچھے آہیں، آنسو، اضطراب اور بےچینی کا ایک بحرِ ناپیدا کنار پوشیدہ ہوتا ہے۔

ان کی زندگی ایک مسلسل جہدِ مسلسل ہے — نہ ختم ہونے والی ریاضت، ایک مدھم سی آس کی شمع جسے ہر لمحہ تند و تیز ہواؤں سے بچانا پڑتا ہے۔ ان کی داستان سننے والا کوئی نہیں، لکھنے والا کوئی نہیں، مگر ان کی خامشی میں ایک جہانِ معنی پوشیدہ ہے۔ ان کے چہروں پر اگرچہ تھکن، مایوسی اور شکستگی کے آثار ہوتے ہیں، مگر دل میں پھر بھی "یقینِ محکم" کا دیا فروزاں رہتا ہے۔

یہی وہ طبقہ ہے جو قوموں کی ریڑھ کی ہڈی کہلاتا ہے، مگر تاریخ میں کہیں حاشیے پر بھی جگہ نہیں پاتا۔ ان کی "خدمت"، "قربانی"، اور "صبرو استقامت" کا تذکرہ نہ تو قومی ترانوں میں ملتا ہے، نہ ہی مملکت کے ایوانوں میں۔

اور پھر بھی۔۔۔پھر بھی وہ جیتے ہیں، ہنستے ہیں، اُمید کرتے ہیں — اس آس پر کہ شاید کل کا سورج "تقدیر کے سفاک نوشتوں" کو مٹا کر، ایک نئی صبح لے آئے،

جہاں اُن کے بچے وہ خواب پورے کریں جو انہوں نے اپنی نیندوں میں دفن کر دیے تھے۔