ماہِ ربیع الاول وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت بھی ہوئی اور اسی مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصالِ مبارک بھی ہوا۔ بلاشبہ یہ مہینہ خوشی اور غم دونوں کا حامل ہے۔
یہ مہینہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دنیا میں تشریف آوری، آپ کی امت کے لیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام اور بے پایاں رحمت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت پر بے شمار احسانات فرمائے، جن کا حق ادا کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی ان کا شمار کیا جا سکتا ہے۔ پھر بھی اپنی ناقص قلم سے کچھ تحریر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مدد فرمائے۔ آمین
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
مَن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله (النساء: 80)
"جس نے رسول کی اطاعت کی، یقیناً اس نے اللہ کی اطاعت کی۔"
گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس اُمت کے لیے ہدایت عطا کرنے اور راہِ حق کی طرف بلانے کے لیے بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کو گمراہی کے راستے سے نکال کر صراطِ مستقیم پر گامزن کریں۔
جس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے امتیوں یہ پیغام دیا کہ: "اے میرے اُمتیو! میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ برصغیر میں بڑے بڑے فتنے ظاہر ہوئے۔ کوئی نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور کوئی امام مہدی ہونے کا۔
گزشتہ سو سالوں کے اندر اندر کئی بڑے فتنے پیدا ہوئے، اور اس سے قبل بھی ایسے فتنے اٹھے، مگر ان کی آوازیں محدود حلقوں تک ہی رہیں۔ لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ ایسے باطل دعووں کو ماننے والے ہزاروں کی تعداد میں مل جاتے ہیں اور مزید نشر ہوتا جا رہا ہے ۔ کئی معصوم لوگ ان کے دجل و مکر و فریب میں پھنس چکے ہیں۔
خواہ وہ فتنے شکیل بن حنیف کے ہوں یا قادیانیت کے، آج ہزاروں لوگ ان فتنوں میں غرق ہیں۔ اگر ہم انہیں سچائی کی راہ بھی دکھائیں اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بھی پیش کریں تو یہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ وجہ صاف ہے کہ ان معصوموں کے ذہن کو پہلے تشکیل و تخریب کے ذریعے اپنے قبضے میں لے لیا جاتا ہے، اور پھر ان کا اس گرفت سے نکلنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔ اللہ ہمیں ایسے فتنوں سے اپنی پناہ عطا فرمائے۔ آمین
میں اس مقدس مہینے میں اپنے تمام احباب سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ خدارا! اپنے ایمان کی حفاظت کیجیے، اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کیجیے۔ ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہر وقت موجود ہے، اور بسا اوقات انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ ایمان اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو دینی مدارس، خانقاہوں اور دینی مجالس سے جوڑے رکھیں، اور ہمیشہ اپنے علماء کرام سے تعلق و ربط قائم رکھیں۔ یاد رکھیے! علماء سے دوری دراصل دین سے دوری ہے۔ یہی علماء آپ کے درمیان انبیاء کے وارث بن کر آئے ہیں، تاکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین آپ تک پہنچا سکیں۔
اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین یارب۔
قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (161)
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (162)
لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
الأنعَام (163)
✍🏻 از: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ
خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)
وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔