جــب کھــیل عبـــــادت بــن جــائــے

اظفــــر منصـــــــور 
نـــدوۃ العلــــــماء لکــــــھنؤ 

 ہمارے اعضاءوجوارح سے صادر ہونے والے اعمال و افعال پر خیر و شر کا حکم لگانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نےایک اصول بیان فرمایا جس میں ہماری تمام نقل و حرکت کو ’’ نیت ‘‘ کے حسن و قبح کے ساتھ مقید کر دیا، کہ اگر ہماری نیت صادق ہے تو ہماری نماز و روزہ کیا دیگر دنیاوی مصروفیات بھی عبادت بن کر نامہ اعمال میں جگہ بنا لے گی۔ اس امت پر اللہ کا یہ بڑا احسان ہے کہ ہمیں خالص عبادت پر ماجور نہ بنا کر پوری دنیا کو ہی مرقع عبادت بنا دیا ہے، شرط بس یہ ہے کہ ہماری نیت کا مقصود بگاڑ و فساد کے بجائے محض رضائے باری اور اصلاح حال و دل ہو۔ اگرنیت کا احسن ہونا ثابت ہو جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت کیا ہماری ریاضت بھی عبادت بن جائے گی، لیکن گر فتور نیت کا ہلکا سا بھی کوئی عنصر پایا گیا تو وہ عبادات بجائے یہ کہ ہمارے لئے نجات کا ذریعہ بنیں وبال جان ہی بن جائیں گی۔ 
 چنانچہ دنیا کو عبادت بنانے کا ہنر حاصل ہونا بھی ایک طرح کا اعزاز ہے اور بلا مبالغہ یہ اعزاز ہم نے اپنے ساتھیوں کو حاصل ہوتے دیکھا ہے۔ جس میں ان کا کرکٹ کا ٹورنامنٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ عبادت بن کر ابھرا ہے، جس کا مشاہدہ میری طرح تمام اہل ذوق نے کیا کہ 7 نومبر کوجب کرکٹ ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا تو عام روش و طریقے سے ہٹ کر مہمانوں کی موجودگی میں شرکاء نے یہ حلف لیا کہ ان کا یہ کھیل نہ صرف ایک روایت کی تکمیل کرے گا بلکہ باہمی الفت و اخوت، تعاون و اتحاد، ہمدردی و غمخواری کو ہر ممکن طریقہ سے فروغ دے گا، ایسے حالات میں جبکہ جذبات غالب ہوتے ہیں، اختلاف کا صرف اندیشہ نہیں ہوتا بلکہ یقین ہوتا ہے تعاون و اتحاد اور رفع نزاع کی عملی تصویر پیش کرنے کا تصور کر لینا ہے ایک طرح سے کامیاب و کامران نوجوانوں کی پہچان ہے، اور الحمدللہ ایسے نوجوان ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے ہیں، ٹورنامنٹ مرحلہ وار ایک مہینے تک چلتا رہا مگر سوئے اخلاق و عمل کا ایک تبصرہ بھی کانوں سے نہیں ٹکرایا، اسی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ بیٹنگ کرنے والے ساتھی کے بلے پر طوعاً و کرہاً جب گیند لگتی ہوگی تو اس سے اٹھنے والی صدا شیطان میں دخیل ہو کر ایک کرب و بلا کی آمیزش کرتی ہوگی اور ایسا لگنا بالکل بھی برا نہیں ہے کہ یہاں کھیل صرف ایک کھیل نہیں بلکہ مجسم عبادت ہے، جس میں اوقات کی پابندی، الفاظ و تعبیرات کے استعمالات میں احتیاط، حمایت و عدم حمایت میں اخلاص کے ساتھ ایک صالح وجود کے سارے اوصاف جمع ہو کر نئی تحریک و قوت اور قابل فخر و اعتناء ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اور اس طرح یہ کھیل کھیل کے زمرے سے نکل کر قلب و جسم کو معطر کر جاتا ہے۔ 
کھیلنے والوں (افراد کمیٹی) کی اداؤں نے ہمیں اس وقت بہت متاثر کیا جب مخصوص نشستوں پر اساتذہ کرام جلوہ افروز تھے، اور فاتح و مفتوح دونوں ٹیموں کے شرکاء تقسیم انعامات کے لیے صف بندی کر رہے تھے، بعد ازیں ایک خوش لباس صاحب کاغذ لئے کھڑے ہوئے حمد و ثنا پیش کی، ایسے موقع پر جب کہ کھیل کے انعامات تقسیم ہونے ہیں، خوشی و جذبات سر چڑھ کر بول رہے ہیں، طلباء کا جم غفیر موجود ہے، کالر اونچے ہو رہے ہیں، منتظمین نے یہ منظر پیش کر کے جی خوش کر دیا اور اسی وقت ذہن نے میری توجہ اپنی جانب کھینچتے ہوئے کہا کہ "دیکھو جب کھیل عبادت بن جاتا ہے تو ایسا ہی روح پرور منظر سامنے آتا ہے" پھر ناظم تقریب نے صدر نشست کو مدعو کیا، انہوں نے تمام کی حوصلہ افزائی کی اور وہی باتیں دہرائی کہ ہمارے اوپر رب کا یہ احسان ہے کہ ہمارے لیے کھیل میں بھی اجر کو شامل فرما دیا۔ اس لیے بچو! صالح مقصد کے ساتھ صحت و تندرستی کے خیال کے ساتھ اور اخوت و مساوات کو فروغ دیتے ہوئے کھیلو نیز نماز کا بہت خیال رکھو۔ چند منٹ تقسیم انعامات میں گئے پھر ناظم تقریب نے دعائیہ کلمات پر ایک ایسی روایت کی تکمیل کی جس سے رب ضرور راضی ہوگا اور ان شاءاللہ اس کا فائدہ ہم سب اپنی زندگیوں میں محسوس کریں گے۔