جدید معاشرے میں ماں اور باپ کے حقوق کی اہمیت
✍🏻 از محمد عادل ارریاوی
________________________________
محترم قارئین آج ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں اس معاشرے میں ماں باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی ایک عام مشغلہ بن گیا ہے جب جب ایسے واقعات سامنے آتے ہیں دل روتا ہے کہ کیسے لوگ ہیں جو ماں باپ پر ہاتھ اٹھاتے ہیں کیا ان کی ضمیر مرچکی ہے؟ کاش ان کا ہاتھ شل ہوجاتا ہے ہمارے معاشرے میں بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ ماں کے حقوق باپ سے تین گنا اہم ہیں اس لئے کہ والدہ نے پرورش میں بہت زیادہ تکالیف اٹھائی ہیں کافی صعوبتیں برداشت کی ہیں مثلاً (1) صعوبت حمل (۲) صعوبت وضع حمل (۳) صعوبت رضاعت وغیرہ دو ڈھائی سال والدہ بچے کے ساتھ شب خیزی کرتی ہے اس کے بول و براز کو صاف کرتی ہے اس کو دن رات دودھ پلاتی ہے تو والدہ چونکہ ان تکالیف میں متفرد ہے باپ اس میں شریک نہیں ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تین بار اس کے حقوق اور اہمیت کا ذکر کیا شراح حدیث نے لکھا ہے تثلیث کا ذکر ان امور کی وجہ سے جو ماں کے ساتھ خاص ہیں یعنی حمل کی مشقت وضع حمل کی مشقت اور رضاعت کی مشقت لیکن راجح بات یہ ہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں اولاد کے لئے مساوی حیثیت رکھتے ہیں دونوں کی قدر و قیمت ایک ہے جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے تو رسول اللہ اللہ والدین کو ایک دوسرے پر ترجیح دینا نہیں چاہتے مگر یہاں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا تینوں بار اٹک کہنا سوال کرنے والے کے حالات کی وجہ سے تھا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیمار کو مرض کے مطابق نسخہ دیا کرتے تھے تو شاید کہ سائل اپنی ماں کے حقوق میں بے پرواہی کرتا تھا اس لئے اس کے تین بار سوال کرنے پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اٹک ارشاد فرمایا ہے اکثر لوگ والدہ (ماں) کو بے سر و سامان اور بے پر سان چھوڑ دیتے ہیں اس کا پوچھتے تک نہیں تو رسول اللہ نے اسی وجہ سے ماں کے ساتھ احسان کرنے پر زور زیادہ دیا ہے اور اہتمام کے ساتھ تینوں مرتبہ اُمُّكَ أُمُّكَ اُمُّكَ فرمایا۔
(سلامی معاشرہ کے لازمی خد و خال ۔ ص ۵۳)
موجودہ معاشرہ میں ماں کے ساتھ بے اعتنائی کرتے ہیں اس معاشرے میں بھی جب لڑکا شادی کر لیتا ہے تو پھر والدہ کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے لگتا ہے اور والد کے ساتھ جڑا رہتا ہے اس لئے کہ یہ باپ کا محتاج ہوتا ہے اس سے ڈرتا ہے باپ کے میراث اور اس کی دولت پر نظر ہوتی ہے اور یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ اگر باپ کے ساتھ زیادتی کی تو گھر سے نکال دے گا اگر گستاخی کی تو پیسے نہیں بھیجے گا تو ان ضروریات کے تحت باپ کی ناراضگی سے بچتا رہتا ہے خود غرضی کی وجہ سے نافرنی نہیں کرتا ماں چونکہ ضعیف البیان ہوتی ہیں اور صاحب کی بیگم صاحبہ گھر آئی ہوئی ہے تو اب ماں کی کیا اہمیت باقی ہے؟ دوسری طرف بیوی کا مطالبہ ہوتا ہے کہ اس کو ( ماں کو ) گھر سے نکالو آج کل تقریباً ہر گھر میں ساس اور بہو کا تنازع ہے ان کی آپس میں جنگ و جدل کا بازار گرم ہے بیٹا اکثر بیوی کا غلام ہوتا ہے تو وہ بیوی کے کہنے پر ماں پر ظلم و زیادتی کرتا ہے اس کے حقوق کو صحیح ادا نہیں کرتا تو رسول اللہ کو اندازہ تھا کہ یہ صحابی ماں کے حقوق کی ادائیگی میں سرد مہری سے کام لیتا ہے تو اس کے مرض اور بیماری کا یہی نسخہ تجویز کر دیا ہے۔
ماں باپ کے مابین فرق نہیں کرنا چاہیے اگر والدہ بچے کی پیدائش حمل اور اس کی رضاعت کے شدائد میں منفرد ہے تو باپ دوسری مشقتوں اور محنتوں میں منفرد ہوتا ہے بچوں کی ماں سے شادی کرنے کیلئے کئی سالہا سال تک محنت مزدوری اور مشقتیں برداشت کرتا ہے گھر بار سے کئی سالوں تک باہر سعودیہ دوبئی اور یورپی ممالک میں سفر کی مصیبتیں برداشت کرتا ہے بعض علاقوں میں تو عورتیں فروخت کی جاتی ہیں تو یہ مرد ہزاروں لاکھوں کی فراہمی کے لئے سالہا سال محنت کرتا رہا شادی ہوگئی تو دو دن بعد بیوی نے گھر کے نان و نفقہ کا مطالبہ شروع کیا تو بچارا مسرور شهر یعنی ایک ماہ کی لذت بھی صحیح طریقے سے نہیں پاسکا اللہ خیر کرے اس معاشرہ میں نہ جانے کیسے کیسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کچھ لوگ تو حد ہی پار کردیتے ہیں اپنے ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم میں رکھ دیتے ہیں سال میں ایک دو دفعہ ملنے جاتے ہیں اور کچھ تو کبھی نہیں ملتے ایک ماں باپ جو اپنی اولاد کیلئے نہ جانے کیسی کیسی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اور جب یہی بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو ماں باپ ان کو بوجھ لگنے لگتا ہے ۔واقعہ
اس پر ایک واقعہ یاد آگیا کہ ایک مرتبہ جناب قاری حنیف صاحب اپنی تقریر میں بیان فرمارہے تھے کہ ایک لڑکا تھا ایک دن وہ اپنے والد محترم کی گود میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کے سامنے ٹیوب ویل پر ایک کو بیٹھا ہوا تھا وہ بچہ اپنے والد صاحب سے پوچھتا ہے کہ ابا ٹیوب ویل پر کیا ہے؟ والد نے کہا کہ بیٹا کوا ہے پھر پوچھتا ہے کہ ابا کالا کیا ہے؟ تو اس کے والد نے سمجھا کر کہا کہ بیٹا یہ کوا ہے یہ کالا ہوتا ہے یہ کائیں کائیں کرتا اور بولتا ہے جب کچھ عرصہ گزر گیا اور اس کا والد بوڑھا ہو گیا اور بینائی کم ہوئی تو اتفاق سے اسے کچھ کالا نظر آیا اورسوچنے لگا کہ آخر کیا چیز ہے؟ وہ اپنے بیٹے سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ وہ کہتا ہے کہ بڈھا دکھتا نہیں ہے کہ کو ا ہے اتنے میں اس کے بوڑھے باپ کو خیال آجاتا ہے اور آنکھ سے آنسو جاری ہو جاتا ہے اور کہنے لگتا ہے بیٹا ہائے افسوس کہ تم نے اپنے بچپنے کی زندگی کو بھلا دیا یہ کوئی دور کی بات نہیں ہے آج ہم میں یہ صفت نہ پائی جاتی ہو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محفوظ فرمائے آمین ۔ شعر
اے رات تو مجھے میری ماں کی طرح گود میں لےلے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
اللہ ربّ العزت ہمیں والدین کا قدر داں بنائے ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم رکھے آمین یارب العالمین