اظفر منصور

ندوۃ العلماء لکھنؤ

تحریریں اور کتابیں بھی آنکھوں کو غیرت دلاتی ہیں کہ وہ روئیں اور اس قدر زار و نزار روئیں کہ آنسو رخسار پر موتی کی مانند نمایاں اور ستاروں کی طرح چمکنے لگیں یہ احساس اس وقت پیدا ہوا جب ہم اپنی تعلیمی زندگی کے بالکل ابتدائی مرحلہ یعنی حفظ میں تھے، اور جس شخصیت کی کتاب نے صرف رلایا نہیں تھا بلکہ زندگی میں ایک انقلاب برپا کیا تھا آج صد حیف کہ ہم انہیں مرحوم لکھ رہے ہیں، اس دور قحط الرجال میں جس شخصیت پر نظریں بار بار رشک آمیز لہجوں میں دیکھا کرتی تھیں آج انہیں کی اطلاع وفات سے جسم پر لرزاں طاری ہے، غم فردا ستا رہا ہے، اپنی محرومی قسمت بیکل کئے جا رہی ہے، کیا دلآویز شخصیت تھی حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی مجددی (رحمتہ اللہ علیہ) کی۔ چہرہ پر ہویدا تجلی باری، صوت میں سلفی حلاوت، الفاظ و جمل میں نبوی کرامت کا بلا مبالغہ آپ پیکر تھے۔

سلوک و احسان اور تصوف و طریقت کے امین و پاسدار حضرت جی سے ہمارے کئی اساتذہ و متعلقین بیعت و ارادت کا تعلق رکھتے ہیں اس نسبت سے قوی امید تھی کہ آپ کا تذکرہ ہم باحیات و عالمی شخصیت کے طور پر سالنامہ پرچہ "الاصلاح" کے خصوصی شمارہ "سلوک و احسان اور ندوۃ العلماء" میں کریں گے، مگر افسوس ائے فرشتہ اجل! تمہارے انتخاب نے ہماری تمناؤں کا قتل کیا، حاصل ہونے والی خوبی قسمت چرائی، اور مقدر کا ستارہ ایسا ہلایا کہ ہم قابل رحم و تعزیت ٹہرے۔