تمسخر: ایک ناپسندیدہ اور حرام سماجی رویّہ
✒️ مفتی محمدتسلیم الدین المحمودی
دنیا میں انسانی معاشرت، تعلقات اور اخلاقیات کا حسن تبھی باقی رہتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کی عزت کریں، ان کے جذبات کا لحاظ رکھیں اور اختلاف کے باوجود ادب اور تحمل کا دامن تھامے رہیں۔ مگر بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں "مذاق اُڑانا" ایک معمول بنتا جا رہا ہے — ایسا معمول جسے اکثر لوگ "مزاح" یا "تفریح" سمجھ کر انجام دیتے ہیں، حالانکہ قرآن کریم نے اسے واضح طور پر حرام قرار دیا ہے۔
سورۂ حجرات میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ"
"اے ایمان والو! کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اُڑائے، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔" (الحجرات: 11)
یہ آیت نہایت واضح ہے: مذاق اُڑانا ایمان والوں کا شایانِ شان نہیں۔ یہاں قوم سے مراد گروہ، جماعت، فرد یا طبقہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی کی بھی تضحیک، چاہے وہ فرد ہو یا جماعت، دینی تعلیمات کے خلاف ہے۔
علامہ ابن کثیرؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ نے دوسروں کا مذاق اُڑانے سے روکا ہے، کیونکہ اس میں کسی کو حقیر جاننے کا جذبہ شامل ہوتا ہے، اور یہ عمل سراسر حرام ہے۔"
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں:
"اکثر اختلافات کے بعد فریقین ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے لگتے ہیں۔ ایک معمولی بات کو بنیاد بنا کر دوسرے کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ممکن ہے وہی شخص اللہ کے نزدیک بہتر ہو۔"
ہمارے معاشرے میں اگر ہم دھیان سے دیکھیں تو تمسخر، استہزاء اور طنز کا چلن ہر طبقے میں عام ہو چکا ہے۔
تعلیمی اداروں میں کمزور طلباء کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔
دفاتر میں نئے یا کم تجربہ کار ملازمین کی تضحیک کی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر مخصوص افراد، فقہ، جماعت یا قوم کا مذاق اُڑانا ایک "ٹرینڈ" بن چکا ہے۔
گھروں میں چھوٹے بہن بھائیوں یا گھریلو ملازمین کو کمتر سمجھا جاتا ہے اور ان پر طنز کیا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے یہ سب کچھ "مزاح" اور "ہنسی مذاق" کے نام پر کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے پیچھے ایک تکبرانہ ذہنیت چھپی ہوتی ہے — ایک ایسا ذہن جو خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے۔
تمسخر کا اصل سبب تکبر ہے۔ جب انسان خود کو دوسرے سے بہتر سمجھنے لگتا ہے، تو وہ دوسروں کو ہلکا، کمتر اور مذاق کے لائق محسوس کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر."
"وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رتی برابر بھی تکبر ہو۔" (صحیح مسلم)
تکبر صرف یہ نہیں کہ انسان مال یا عہدے کی بنیاد پر خود کو بڑا سمجھے، بلکہ یہ بھی تکبر ہے کہ کوئی کسی کو حقیر جانے اور اس کا مذاق بنائے۔
آج کے دور میں کسی کی "قدرتی برتری" کا پیمانہ شہرت، مال، عہدہ اور لباس بن چکا ہے۔ جن کے پاس یہ چیزیں ہوں، ان کا مزاج بلند، اور جن کے پاس نہ ہوں، ان کو نیچا دکھایا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ"
"اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔" (الحجرات: 13)
لہٰذا کسی کی ظاہری حالت کو دیکھ کر مذاق اُڑانا بصیرت کی کمی اور روحانی اندھا پن ہے۔
ایسا شخص جو دنیا میں کسی مخلص بندے کا صرف اس لیے مذاق اُڑاتا رہا کہ وہ شہرت، مال یا عہدے سے خالی تھا، قیامت کے دن سخت شرمندگی کا سامنا کرے گا۔ اس دن اصل برتری کا معیار نہ دکهائی دینے والی نیکی اور باطنی عظمت ہوگی، اور مذاق اُڑانے والا حسرت کے ساتھ اپنے عمل پر نادم ہوگا۔
مذاق اُڑانا، تمسخر، استہزاء — یہ سب محض معاشرتی برائیاں نہیں بلکہ دینی اعتبار سے ممنوع اور حرام عمل ہیں۔
یہ عمل فرد کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے، معاشرتی فاصلے بڑھاتا ہے، دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے اور تکبر کو فروغ دیتا ہے۔
ہمیں بحیثیت مسلمان ان باتوں کو سوچنا ہوگا:
کہیں میرا مزاح کسی کی دل آزاری کا سبب تو نہیں؟
کہیں میری زبان کسی مخلص انسان کی عزت پر ضرب تو نہیں لگا رہی؟
کیا میں کسی کو محض دنیاوی کمیوں کی بنیاد پر حقیر تو نہیں سمجھ رہا؟
اگر جواب ہاں میں ہے، تو ہمیں توبہ کرنی چاہیے اور اپنے رویوں کو قرآنی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔