قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو انسان کی ہدایت، اصلاح اور کامیابی کا پورا راستہ اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ ہر مسلمان بچپن میں اس کتابِ مقدس کی تلاوت سیکھتا ہے۔ گھروں میں نور پھیلتا ہے، ماں باپ خوشی محسوس کرتے ہیں، استاد محنت کرتے ہیں، اور بچے قرآن کے حروف پہچاننے سے لے کر مکمل ناظرہ تک سفر طے کرتے ہیں۔
مگر افسوس! بہت سے لوگ بڑے ہو کر اس کتابِ ہدایت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ نہ تلاوت کا معمول رہتا ہے، نہ سمجھنے اور عمل کرنے کی فکر۔ کچھ لوگ تو مہینوں اور سالوں تک قرآن کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔ یہ ایسی غفلت ہے جس پر دل روتا ہے۔
قرآن سے دوری — ایک بڑا خسارہ
قرآن سے دور رہنے والا شخص دراصل اپنی زندگی کی سب سے بڑی برکت کو چھوڑ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا
(الفرقان: 30)
ترجمۂ کنز الایمان
اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرالیا۔
یہ آیت ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو قرآن کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا اس نعمتِ عظمیٰ سے خود کو محروم کر لیتے ہیں۔
قرآن چھوڑ دینا گناہ کیوں ہے؟
قرآن پڑھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
یہ اللہ کا پیغام ہے جسے چھوڑنا اس سے بے رغبتی ہے۔
قرآن کو چھوڑنے سے دل سخت ہو جاتا ہے، گناہوں کی طرف جھکاؤ بڑھ جاتا ہے۔
گھر سے برکتیں اُٹھ جاتی ہیں۔
زندگی بے سکون ہو جاتی ہے، کیونکہ اصل سکون قرآن سے ملتا ہے۔
احادیث میں قرآن سے رابطہ رکھنے کی ترغیب:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
خیرکم من تعلم القرآن وعلّمه
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
(صحیح بخاری)
اسی طرح فرمایا:
"اقرؤوا القرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعًا لأصحابه"
قرآن پڑھا کرو، یقیناً یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا۔
(صحیح مسلم)
جو قرآن چھوڑ دیتا ہے، وہ اس شفاعت اور برکت سے محروم رہ جاتا ہے۔
قرآن کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟
مصروفیات کا بہانہ
زندگی کی دوڑ میں انسان اپنے رب کے کلام سے غافل ہو جاتا ہے۔
عملی تربیت کا نہ ہونا
بچپن میں صرف ناظرہ پڑھایا جاتا ہے، مگر قرآن کی محبت دل میں نہیں بٹھائی جاتی۔
گناہوں کی کثرت
گناہ دل کو قرآن سے بیزار کر دیتے ہیں۔
سستی اور غفلت
انسان اہم ترین کام کو بھی معمولی سمجھ بیٹھتا ہے۔
قرآن سے تعلق دوبارہ جوڑنے کا طریقہ
روزانہ صرف 5 منٹ تلاوت کا معمول بنائیں۔
ایک چھوٹا سا رکوع یا چند آیات پڑھ لیں۔
اگر تجوید بھول گئی ہے تو دوبارہ سیکھیں، بالکل کوئی شرمندگی نہیں۔
ہر دن کم از کم ایک آیت کی تفسیر یا ترجمہ ضرور پڑھیں۔
گھر میں ایک وقفہ قرآن کے لیے مخصوص کریں۔
بچوں کو صرف پڑھانا نہیں بلکہ قرآن کی محبت دل میں ڈالنا بھی ضروری ہے۔
وہ لوگ خوش نصیب ہیں
جو بڑے ہو کر بھی قرآن سے اپنا رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ قرآن ان کے دل کو منور کرتا ہے، گھر میں نور پھیلاتا ہے، زندگی میں آسانیاں پیدا کرتا ہے، اور قبر میں روشنی بن جاتا ہے۔
قرآن ہمارے رب کا پیغام ہے۔ بچپن میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ عمر بھر قرآن سے جڑے رہیں۔
جو لوگ قرآن چھوڑ بیٹھے ہیں، وہ آج ہی اس نورانی راستے کی طرف واپس آئیں۔
یہ کتاب برکت ہے، ہدایت ہے، سکون ہے، شفاء ہے، زندگی ہے۔
اللہ ہمیں قرآن سے جڑی ہوئی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر نازیہ فاطمہ بنت عبد الرحیم سکندری مہر