دولت اور عورت کا وقار حقیقت اور فریب
🖊️ محمد عادل ارریاوی
____________________________________
دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں کہ جو اس عالم کی بقا اس کی تعمیر و ترقی اور اس کی رونق میں ایک بڑے ستون کا درجہ رکھتی ہیں وہ دو چیزیں یہ ہیں (1) ایک عورت (2) دوسری دولت ۔ لیکن بعض اوقات یہی دو چیزیں دنیا میں فساد خون ریزی اور طرح طرح کے فتنوں کا سبب بھی بن جاتی ہیں فرق اتنا ہے کہ جب ان دونوں چیزوں کو اپنے اصل مقام اور مرکز و موقف پر رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے تو ایک مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو ہر قسم کی بے اعتدالی سے پاک ہوتا ہے اور اس میں ہر انسان کے حقوق کی رعایت ہوتی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج دنیا میں ان دونوں چیزوں کے استعمال میں مختلف قسم کی بے اعتدالیاں سامنے آرہی ہیں جس کی وجہ سے دنیا سخت پریشان ہے اور عورت و دولت کے حاصل کرنے اس کو بڑھانے اور ترقی دینے کے لیے نت نئے قانون تجویز کیے جارہے ہیں اور پوری دنیا میں ان دونوں چیزوں کی وجہ سے ایک بھونچال سا مچا ہوا ہے حقوق نسواں اور معاشی اصلاحات کے عنوانات سے دنیا میں مختلف ادارے قائم ہیں جو رات و دن اس موضوع پر اپنی صلاحیتوں کو خرچ کرنے اور مسائل کے حل ڈھونڈنے میں مصروفِ کار ہیں لیکن ان سب کا نتیجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ع: مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔ اسلام نے انسان کو جو نظام زندگی دیا ہے اس میں ان دونوں چیزوں کو اپنے اپنے صحیح مقام پر ایسا رکھا گیا ہے کہ ان کے فوائد و ثمرات زیادہ سے زیادہ حاصل ہوں اور فتنہ و فساد کا نام ونشان نہ رہے۔
(1) عورت:
جہاں تک عورت کا تعلق ہے تو اسلام نے عورت کے متعلق ایسے رہنما اصول پیش کیے ہیں کہ ان کو اختیار کرنے کے نتیجے میں عورت صحیح معنی میں عورت کہلائی جاسکتی ہے اور اس سے صحیح طریقے پر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور عورت معاشرے کی ترقی اور رونق کا باعث ہو سکتی ہے اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں عورت کی حیثیت گھریلو استعمال کی چیزوں سے زیادہ نہ تھی جانوروں کی طرح اسے خریدا اور بیچا جاتا تھا اسے اپنی شادی بیاہ میں کسی قسم کا اختیار نہ تھا بلکہ اس کے ذمہ دار اولیاء جس کے حوالے اُسے کر دیتے اُسے مجبوراً اُس کی تحویل میں جانا پڑتا عورت کو اپنے رشتہ داروں کی میراث میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا بلکہ عورت خود گھر یلو اشیاء کی طرح وراثت کا مال سمجھی جاتی تھی کیوں کہ اسے مردوں کی ملکیت سمجھا جاتا تھا اور وہ کسی چیز کی مالکہ نہیں سمجھی جاتی تھی۔
بلکہ اگر کوئی چیز عورت کی ملکیت ہوتی بھی تو اس کے شوہر کو یہ اختیار ہوتا تھا کہ وہ اس کی چیز کو جہاں چاہے اور جیسے چاہے استعمال کر ڈالے عورت کو پوچھنے اور باز پرس کرنے کا بھی اختیار نہ تھا حد یہ ہے کہ یورپ کے وہ ملک جو آج دنیا کے سب سے زیادہ متمدن اور حقوق نسواں و آزادیٔ نسواں کے علم بردار سمجھے جاتے ہیں اُن میں بعض لوگ اس حد کو پہنچے ہوئے تھے کہ عورت کے انسان ہونے کو بھی تسلیم نہیں کرتے تھے بلکہ اسے جانوروں کا درجہ دیتے تھے۔ اسی طرح اسلام سے پہلے عورت کا دین اور مذہب سے بھی کوئی تعلق نہ تھا نہ اس کو عبادت کے قابل سمجھا جاتا نہ جنت کے، حتی کہ روما کی بعض مجلسوں میں آپس کے مشورے سے یہ طے کیا گیا تھا کہ عورت ایک نا پاک جانور ہے جس میں انسانیت والی روح نہیں اور انکے یہاں باپ کے لیے اپنی لڑکی کا قتل بلکہ قبر میں زندہ دفن کر دینا بھی جائز سمجھا جاتا تھا اور مزید یہ کہ ایسا کرنے والے باپ کی معاشرے میں مزید عزت کی جاتی تھی۔
بعض قوموں میں یہ بھی تھا کہ اگر کوئی عورت کو قتل کر دے تو بدلے میں اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا اور نہ ہی خون بہا اور اگر شوہر مر جائے تو اس کی زندہ بیوی کو بھی اس کے ساتھ جلا دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے 586 عیسوی میں فرانس نے عورت پر یہ احسان کیا کہ بہت لمبے مشوروں اور طویل بحث و مباحثہ کے بعد یہ قرارداد پاس کی عورت ہے تو انسان مگر وہ صرف مرد کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔
الغرض دنیا اور اس میں رہنے والی اقوام و مذاہب نے عورت کے ساتھ وہ سلوک اور برتاؤ کیا ہوا تھا کہ جسے سُن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس بے چاری مخلوق کے لیے نہ عقل کا استعمال کیا جاتا اور نہ عدل و انصاف سے کام لیا جاتا تھا۔
عورت کے ان مظلومانہ حالات میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا دین عطا فر مایا جس نے دنیا کی آنکھیں کھول دی، انسان کو انسان کی قدر کرنا سکھلایا عدل وانصاف کا قانون جاری کیا جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر لازم کیے اسی طرح عورتوں کے حقوق بھی مردوں پر لازم کیے عورت کو آزاد اور خود مختار بنایا وہ اپنی جان اور مال کی ایسی ہی مالک قرار دی گئی جیسے مرد اپنی جان اور مال کے مالک ہیں، کوئی شخص خواہ باپ دادا ہی ہو بالغ عورت کو کسی شخص کے ساتھ نکاح پر مجبور نہیں کرسکتا اور اگر بغیر عورت کی اجازت کے نکاح کر دیا گیا تو وہ نکاح اس عورت کی اجازت پر موقوف رکھا گیا اور اگر وہ عورت اس نکاح کو نا منظور کر دے تو ایسے نکاح کو باطل قرار دیا گیا۔
چنانچہ اس کے مال میں کسی مرد کو بغیر اس کی رضا واجازت کے کسی قسم کے تصرف کا کوئی حق نہیں چھوڑا گیا، شوہر کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد عدت گزار کر وہ خود مختار ہے جہاں چاہے نکاح کرے کوئی اس پر جبر نہیں کر سکتا اپنے رشتہ داروں کی میراث میں عورت کو بھی ایسا ہی حصہ دار بنایا گیا جیسا کہ مردوں کو عورت پر خرچ کرنے اور اس کے راضی اور خوش رکھنے کو اسلام میں ایک عبادت قرار دیا گیا حتی کہ جو حقوق شوہر پر اپنی بیوی کے لازم ہوتے ہیں اگر شوہر ان کو ادا نہیں کرتا تو عورت اسلامی عدالت کے ذریعے اپنے حقوق کا شوہر سے مطالبہ کر سکتی ہے جس کے بعد اسلامی عدالت شوہر کو اس کے حقوق ادا کرنے پر مجبور کرے گی۔ اسلام کا اعتدال دیکھیے کہ جیسے اسلام نے عورت کو ظلم سے نجات دلائی اسی طرح اسے کھلے مہار بھی نہیں چھوڑا بلکہ اسے مردوں کی نگرانی اور سر پرستی میں رکھا اور اس کی تمام ضروریات زندگی کی ذمہ داری مرد پر ڈالی عورت پر یہ لازم کرنا کہ وہ اپنے گزارے اور معاش کا خود بند و بست کرے عورت کی حق تلفی اور اس پر ظلم و زیادتی ہے۔
عورت کی ساخت اس کی گھریلو ذمہ داریاں اور اولاد کی تربیت کا عظیم الشان کام جو فطرتا اسی کے لائق ہے اور وہی اس کے بوجھ کو اُٹھا سکتی ہے مزید کسی ذمہ داری کو عورت پر ڈالنے کی اجازت نہیں دیتی اس کے علاوہ مردوں کی قیادت اور نگرانی سے نکل کر عورت پورے انسانی معاشرے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے جس سے دنیا میں فساد خون ریزی اور طرح طرح کے فتنے پیدا ہونا لازمی اور روزمرہ کا مشاہدہ ہے اس لیے قرآن مجید میں جہاں مردوں پر عورتوں کے حقوق بیان ہوئے ہیں وہاں یہ بھی ارشاد ہے: وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ( یعنی مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے)۔ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ:۔ (مرد عورتوں کے نگراں اور ذمہ دار ہیں)۔ مگر جس طرح اسلام سے پہلے کے زمانہ جاہلیت میں دنیا کی قومیں اس غلطی کا شکار تھیں کہ عورتوں کو ایک گھریلو سامان اور چوپائے کی حیثیت میں رکھا ہوا تھا اسی طرح اسلام پھیلنے کے بعد اس کے زمانہ انحطاط میں ایک اور جاہلیت کا دور شروع ہوا اس میں پہلی غلطی کا رد عمل اس کے بالمقابل اور مخالف دوسری غلطی کی صورت میں کیا جا رہا ہے کہ عورتوں پر مردوں کی قیادت اور نگرانی سے بھی چھٹکارا حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں بے حیائی، بے غیرتی اور فحاشی عام ہوگئی دنیا جھگڑوں اور فساد کا گھر بن گئی،قتل وخون ریزی کی اتنی کثرت ہو گئی کہ اسلام سے پہلے کی جاہلیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ آج کی حکومتیں دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے آئے روز نئے قانون بناتی ہیں اس کے لیے نئے نئے ادارے قائم کرتی ہیں اور کروڑوں روپے اُن پر خرچ کرتی ہیں لیکن فتنے جس چشمے سے پھوٹ رہے ہیں اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ اگر آج کوئی خالی الذہن اور انصاف و اعتدال پسند کمیشن اس تحقیق کے لیے قائم کیا جائے کہ فساد و خون ریزی اور باہمی جنگ و جدل کے اسباب کی تحقیق کرے تو خیال یہ ہے کہ ایسے جرائم کا سبب عورت اور اس کی بے مہار آزادی نکلے گا مگر آج کی دنیا میں نفس پرستی کے غلبے نے بڑے بڑے حکماء کی آنکھوں کو خیرہ کیا ہوا ہے نفسانی خواہشات کے خلاف کسی دوا کو گوارا نہیں کیا جاتا اس وقت عالم کفر کی طرف سے حقوق نسواں و آزادی نسواں کا عنوان لگا کر عورت کو شتر بے مہار کی طرح کھلا چھوڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جن سے متاثر ہو کر بعض سادہ لوح مسلمان ان کی اندھی تقلید کیے جارہے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اپنے گھر یعنی اسلام میں عورت کے حقوق کا کتنا تحفظ کیا گیا ہے اور اسلام نے عورت کو صحیح معنی میں عورت اور گھر کی ملکہ کا عہدہ دیا ہے۔
2 دولت ۔
جہاں تک دوسری چیز یعنی دولت کا تعلق ہے تو دولت بھی ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے چنانچہ پوری دنیا کی اجتماعی معیشت سے لے کر ایک فرد کی نجی زندگی تک سب کو ہی اس سے واسطہ پڑتا ہے اس وجہ سے آج کی دنیا کے دفاتر میں سب سے اہم چیز معاشی مسائل و معاملات کو سمجھا جاتا ہے اور دولت کے استعمال سے دنیا کی ہر قوم بحث کرتی ہے، اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کی اس بارے میں رہنمائی کی ہے، اسلام نے دولت حاصل کرنے کے ذرائع اور خرچ کرنے کے طریقے اور تقسیم دولت کا ایسا عادلانہ نظام پیش کیا ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی اور اسلام کا معاشی نظام ہی اصل اور صحیح معاشی نظام کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ اسلامی اور غیر اسلامی نظام ہائے معیشت کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ غیر اسلامی معیشت کا بنیادی مسئلہ اور انتہائی کامیابی صرف دنیا کی ترقی ہے جب کہ اسلامی معیشت میں یہ چیزیں ضمنا تو شامل ہیں لیکن انسان کی زندگی کا اصل مقصد اور مسئلہ نہیں کیوں کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ اس مال و دولت کا اصل مالک در حقیقت اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انسان کو بھی اس مال و دولت کی ایک درجہ میں ملکیت دی ہے لہذا اس مال و دولت کے اصل مالک کی رضا مندی اور اس کے حکم کے مطابق ہی اسے استعمال کیا جائے۔ اس کے برخلاف غیر اسلامی معیشت کے نظاموں میں زیادہ مشہور دو نظام رہا ہے ایک سرمایہ داری اور ایک اشتراکیت یہ دونوں نظام باہم متضاد اور افراط و تفریط پر مبنی ہیں اشتراکی نظام نے تو پچھلی صدی میں اپنا دم خم دکھا کر اور انسانیت کی مٹی پلید کر کے آج خود اپنے مرکز سوویت روس میں دم توڑ دیا ہے ان باطل نظاموں کے مقابلے میں اسلامی نظام غایت درجہ معتدل اور افراط اور تفریط کے ٹھیک درمیان میں ہے جو عقلی اور فطری اصولوں پر مبنی ہے سرمایہ دارانہ نظام سے مراد ایسا نظام ہے جس کی بنیاد آزاد اور خود مختار ملکیت پر ہے جس نے جو کمایا وہی اُس دولت کا حق دار ہے کسی دوسرے حتی کہ حکومت اور مذہب کا بھی اس دولت میں کوئی حق نہیں، بلا امتیاز حلال و حرام اور بلا فرق جائز و نا جائز جس طرح ممکن ہو مال و دولت کو جمع کر لیا جائے اور مال و زر کی طاقت سے جس قدر زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کیا جاسکے وہ حاصل کر لیا جائے اور اس نفع میں سے مزدور کو جتنا کم سے کم دیا جا سکے اتنا ہی کم دیا جائے تاکہ سرمایہ دار کی حکومت اور برتری مزدور پر قائم رہے اور مزدور کسی وقت سرمایہ دار کے شکنجے سے نہ نکل سکے۔ اور اس نظام کی تمام تر بنیاد سود پر قائم ہے، تمام غیر اسلامی بینک اسی سودی کاروبار کے لیے ہیں اور غیر محدود سرمایہ کی فراہمی اس نظام کا ہدف رہتی ہے جو جس قدر سرمایہ کا مالک ہے وہ اسی درجے کا سردار ہے اور مزدور اس کے سامنے مجبور اور لاچار ہیں، اس لیے کہ یہ طبقہ تمام وسائل آمدنی اور ذرائع معاش پر قابض ہے، اس لیے غریب اس کے سامنے لاچار ہوگئے، اس نظام میں تحصیل دولت کے لیے کسی قسم کی مذہبی اور اخلاقی پابندی نہیں سود ہو یا قمار ہو یعنی جو ہو جس طرح دولت حاصل کر سکو کرتے رہو۔ جس طرح یہ گروہ تحصیل دولت میں مذہبی اور اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہے اسی طرح وہ خرچ کرنے میں بھی مذہبی اور اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہے جس طرح چاہو کھاؤ اور اپنی عیش و عشرت کے لیے جس طرح چاہو اڑاؤ کسی کو دخل اندازی کا اختیار نہیں۔
دوسری طرف اشتراکیت یا سوشلزم در اصل سرمایہ دارانہ نظام کی بالکل ضد ہے ، جب غرباء سرمایہ داری نظام کے ظلم اور تشدد سے تنگ آگئے اور دیکھا کہ سرمایہ دار تو ہر اعتبار سے خود مختار ہیں اور بے چارے مزدور بے بس اور بالکل مجبور اور لاچار تو وہ سرمایہ داری سے اس قدر متنفر اور بے زار ہوئے کہ سرمایہ داری سے انتقام کے لیے ایک نیا نظام قائم کیا جس کا نام اشتراکیت رکھا اور جوشِ عداوت و نفرت میں انفرادی اور شخصی ملکیت کو ممنوع قرار دیا اور اس کے ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا یہ اشتراکیت کا پہلا اصول ہوا۔
اور پھر دوسرا اصول یہ قائم کیا کہ ملک کی دولت مساوی طور پر تقسیم ہونی چاہیے اور کسی فرد کو بھی دولت پر خودمختارانہ تصرف کا کوئی حق باقی نہ رہنا چاہیے ملکی آمدنی کے تمام وسائل خواہ وہ صنعت و حرفت سے متعلق ہوں یا زراعت سے وہ سب حکومت کی ملکیت تصور کیے جائیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے جھوٹ اور ہر مکر و فریب سب کو جائز قرار دیا جائے۔
الغرض اشتراکیت کے دو اصول سب سے اہم ہیں ایک یہ کہ ذاتی ملکیت کوئی چیز نہیں اشتراکیت کا مقصد یہ ہے کہ ملک سے انفرادی ملکیت کا خاتمہ کر دیا جائے اور اجتماعی ملکیت قائم کر دی جائے اور آج کل کی اصطلاح میں اس کا نام قومی ملکیت اور قومی خزانہ ہی ملک کا رزاق ہے۔ یہ اشتراکی نظام ملک کے تمام افراد کی املاک پر قبضہ کر کے ریاست اور حکومت کو سب سے بڑا سرمایہ دار بنا دیتا ہے، ایک اژدھا جو چھوٹے سانپوں کو نگل کر بڑا سانپ بن جاتا ہے۔
اشتراکی نظام کا دوسرا اصول یہ ہے کہ ملک کی دولت تمام اہلِ ملک پر برابر تقسیم ہونی چاہیے کسی کو کسی قسم کا امتیاز حاصل نہیں ہونا چاہیے معاشی لحاظ سے تمام افراد ملک میں مساوات ہونی چاہیے ۔
اسلامی نظام ۔
اسلامی نظام اس افراط اور تفریط کے درمیان ایک معتدل راہ ہے اسلام شخصی اور انفرادی ملکیتوں کو جائز اور معتبر بناتا ہے اور واجب الاحترام قرار دیتا ہے اور دوسروں کی ملکیت میں تعدی اور دست درازی کو حرام قرار دیتا ہے جیسا کہ قرآن وحدیث ذاتی ملکیت کے احکام سے بھرے پڑے ہیں۔
اسلام نے شخصی اور ذاتی ملکیت کو جائز اور معتبر قرار دیا مگر مال و دولت پر حقوق و فرائض بھی عاید کیے ہیں۔
اسلام سرمایہ دارانہ نظام کی طرح ملکیت مطلقہ کی اجازت نہیں دیتا کہ مالک پر کوئی زکوٰۃ اور عشر اور کسی قسم کا کوئی فریضہ عاید نہ ہو اور مالک کو بالکل اختیار ہو کہ اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرے۔ پس یا درکھیے جب تک عورت اور دولت کے اصل مالک اور خالق کے پیش کردہ اور طے کیے ہوئے اُصول کو اختیار نہیں کیا جائے گا کبھی بھی ان دونوں چیزوں کے اصل منافع اور فوائد حاصل نہیں کیے جاسکیں گے اور باطل نظاموں کے زیر سایہ انسانیت پستی رہے گی۔
اللہ ربّ العزت تمام امت مسلمہ کی مکمل حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین۔