بچھڑا کچھ اس طرح کہ رت ہی بدل گئ
وہ اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا ۔۔
کہاں سے شروع کروں ؟کہاں پر ختم کروں ؟ رنج و الم کی گھٹا دل پر ایسی چھائ ہے کہ جذبات سوگ میں ہیں !
خیالات کا گھر اجڑگیا ۔کہ اج وہ رونق محفل نہ رہا۔میرے الفاظ میں اتنی وسعت نہیں کہ اس حادثے کے درد کو اپنے اندر سمو سکیں۔۔زباں خاموش ہے۔ قلم دم توڑ رہا ہے۔۔۔ آخر غم سے کانپتے ہوئے
یہ ہاتھ کہاں تک لکھ سکتے ہیں؟میری حیات میں دنیائے تصوف کو آج تک ایسا گرہن نہیں لگا جیسا اج لگا ہے ..دل بار بار یہی پوچھتا ہے کہ کیا ان جیسا متقی, متواضع دوبارہ ائے گا ؟کیا ان کے بعد ان جیسا "(و عبادالرحمن الذين يمشون علی الارض هونا")کامصداق ابھر کر سامنے ائے گا ؟جب جواب نفی میں اتا ہے تو دل کسی کونے میں بیٹھ کر خون کے انسو رونے لگتا ہے ..وہ مرد با صفا جب اپنی مجالس میں بولتا تھا تو منہ سے پھول جھڑتے تھے اور محسوس ہوتا تھا کہ دل کے اوپر جمی گرد اہستہ اہستہ جھڑ رہی ہو ...سکوت ایسا رکھتا تھا کہ تقریر بھی فدا ہو جاتی تھی ...سنت نبوی اور ان کی حیات لازم و ملزوم بن چکے تھے ...اج خانقاہیں یتیم ہو گئی ہیں دلوں کی دنیا میں خلا سا محسوس ہو رہا ہے .
مگر اے دل! رو کر بھی دیکھ لے، آنسو بہا کر بھی دیکھ لے—اولیاء کے جانے سے ان کا مشن ختم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے پیچھے ایسی شمعیں چھوڑ جاتے ہیں جو صدیوں تک اندھیروں کو مات دیتی رہتی ہیں۔ حضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب نقشبندیؒ بھی ہمیں ذکر، فکر، اخلاص اور سنت کی ایسی امانت دے گئے ہیں جسے اگر تھام لیا جائے تو راستہ کبھی گم نہیں ہوتا۔
اے اللہ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ تیرا یہ بندہ تیرے ذکر میں جیا، تیرے دین کے لیے جیا، اور تیری ہی طرف لوٹ گیا۔ اے ربِ کریم! ان کی مغفرت فرما، درجات بلند فرما، ان کے فیوض و برکات کو جاری و ساری فرما، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین ...
محمد شعیب مالیری ....