ایک یادگار ملاقات حضرت مولانا مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب 

✍🏻 محمد عادل ارریاوی 
_________________________________
محترم قارئین آج دارالعلوم وقف دیوبند میں منعقدہ سیمینار میں شرکت کے بعد واپسی پر جب ہم مسجدِ رشید کے پاس پہنچے تو ایک ساتھی کا فون آیا جس نے یہ خوش خبری دی کہ حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب دامت برکاتہم استاذ مظاہر علوم سہارنپور بھی اس سیمینار میں شریک ہوئے ہیں یہ خبر سنتے ہی دل خوشی سے جھوم اٹھا اس لیے کہ ایک طویل عرصے سے میری دلی تمنا تھی کہ حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل ہو مگر مختلف اسباب کی بنا پر یہ آرزو پوری نہیں ہو پارہی تھی تین دن قبل میں مظاہر علوم سہارنپور حضرت کی زیارت و ملاقات کے لیے حاضر ہوا تھا مگر معلوم ہوا کہ حضرت اس وقت سفر میں ہیں اس محرومی نے دل میں ایک خلش سی پیدا کر دی تھی مگر آج اچانک حضرت کی دیوبند میں موجودگی کی خبر سن کر خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی میں نے فوراً حضرت کو فون کیا حضرت نے نہایت شفقت کے ساتھ دریافت فرمایا کہ آپ اس وقت کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ اعظمی منزل کے پاس مسجد رشید کے گیٹ پر موجود ہوں حضرت نے فرمایا آپ وہیں انتظار کریں میں دو منٹ میں آ رہا ہوں یہ دو منٹ میرے لیے کسی طویل ساعت سے کم نہ تھے دل بےتابی سے اس لمحے کا منتظر تھا الحمدللہ مقررہ وقت میں حضرت بنفسِ نفیس تشریف لے آئے ملاقات ہوئی سلام و دعا کا شرف حاصل ہوا حضرت کی سادگی شفقت اور اپنائیت نے دل موہ لیا اس کے بعد حضرت مجھے اپنے ایک رفیق کے پاس لے گئے اور نہایت محبت کے ساتھ ایک قیمتی ٹوپی بطورِ ہدیہ عنایت فرمائی چند قیمتی نصیحتیں ارشاد فرمائیں اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازا جو میرے لیے دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہیں چائے نوشی کے بعد دوبارہ سلام و دعا ہوئی اور حضرت نے مظاہر علوم سہارنپور تشریف لانے کا فرمایا حضرت کی اس شفقت اور توجہ نے میرے دل پر ایک خوبصورت اثر چھوڑا یہ ملاقات میرے لیے ایک یادگار لمحہ بن گئی جسے میں زندگی بھر فراموش نہیں کر سکتا۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم کو ہمیشہ صحت عافیت عزت اور درازیِ عمر عطا فرمائے ان کے علم و عمل میں برکت دے اور ہمیں ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے 
آمین یا رب العالمین۔