*حلال رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہوتی لڑکی کی فریاد*

میں آج ایک ناول پڑھ کر رویا وہ غالباً پاکستان کی لڑکی کی لکھی ہوئی ہے،آج یہ ہمارے معاشرے کا بھی حصہ بن چکی ہے اور بہت سی لڑکیوں کو اس دلدل میں ڈھکیل کر والدین اور خاندان کے تمام افراد بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن یاد رکھنا اسلام نے بالغ ہونے کے فوراً بعد شادی کی اجازت دی ہے اگر بچے کوئی گناہ کریں گے تو اسکا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا ہوگا۔

اب ذرا ناول کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں اور بتائیں کہ جب لڑکیوں کی حالت یہ کردی جائے پھر وہ غلط قدم اٹھائے تو آپکو اعتراض کیوں؟

*حلال رشتے کے انتظار میں بیٹھی بوڑھی ہوتی لڑکی کی فریاد*

لڑکی بیان کرتی ہے میری عمر اس وقت 35 سال ہے میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی کیونکہ ہمارے خاندان کی رسم ہے کہ خاندان سے باہر رشتہ کرنا نیچ حرکت ہے،خاندان کے بڑے بوڑھے جب آپس میں بیٹھتے ہیں تو بڑے فخریہ انداز سے کہتے ہیں

کہ سات پشتوں سے اب تک ہم نے کبھی خاندان سے باہر رشتہ نہیں کیا

عمر کے 35ویں سال میں پہنچی ہوں

اب تک میرے لیئـــے خاندان سے کوئی رشتہ نہیں آیا جب کہ غیر خاندانوں سے کئی ایک رشتے آئے،لیکن مجال ہے

کہ میرے والدین یا بھائیوں نے کسی سے ہاں بھی کیا ہو،میرے دلی جذبات کبھی اس حدتک چلے جاتے ہیں کہ میں راتوں میں چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھاؤں اور دھاڑیں مار مار کر والدین سے کہوں کہ میرا گزارہ نہیں ہورہا خدارا میری شادی کرادیں

اگرچہ کسی کالے کلوٹے چور سے ہی صحیح،لیکن حیاء اور شرم کی وجہ چپ ہوجاتی ہوں۔

میں اندر سے گھٹ گھٹ کر زندہ نعش (لاش) بن گئی ہوں،شادی بیاہ وتقریبات میں جب اپنی ہمچولیوں کو اُن کے شوہروں کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھتی ہوں تو دل سے دردوں کی ٹیسیں اٹھتی ہیں،یا خدا ایسے پڑھے لکھـے جاہل ماں باپ کسی کو نہ دینا جو اپنی خاندان کے ریت ورسم کو نبھاکر اپنی بچوں کی زندگیاں برباد کردیں،کبھی خیال آتا ہـے کہ گھر سے بھاگ کر کسی کےساتھ منہ کالا کرکے واپس آکر والدین کے سامنے کھڑی ہوجاؤں کہ لو اب اچھی طرح نبھاؤ اپنے سات پشتوں کی رسم کبھی خیال آتا ہـے

کہ گھر سے بھاگ جاؤں اور کسی سے کہوں مجھے بیوی بنالو لیکن پھر خیال آتا ہے اگر کسی برے انسان کے ہتھے چڑھ گئی تو میرا کیا بنے گا،

میرے درد کو مسجد کا مولوی صاحب بھی جمعہ کے خطبے میں بیان نہیں کرتا۔

اے مولوی صاحب ذرا تم بھی سنو

رات کو جب ابا حضور اور اماں ایک کمرے میں سورہے ہوتے ہیں،بھائی اپنے اپنے کمروں میں بھابیوں کے ساتھ آرام کررہے ہوتـے ہیں، تب مجھ پر کیا گزرتی ہے،وہ صرف میں اکیلی ہی جانتی ہوں،اے حاکم وقت تو بھی سن لے فاروق اعظم کے زمانے میں رات کے وقت جب ایک عورت نے درد کے ساتھ یہ اشعار پڑھـے جن کا مفھوم یہ تھا:

(اگر خدا کا ڈر اور قیامت میں حساب دینے کا ڈر نہ ہوتا تو آج رات اس چارپائی کے کونوں میں ہل چل ہوتی)

(مطلب میں کسی کے ساتھ کچھ کررہی ہوتی)

فـــــاروق اعظم نے جب اشعار سنے تو تڑپ اٹھے اور ہر شوہر کے نام حکم نامہ جاری کیا کہ کوئی بھی شوہر اپنی بیوی سے تین مہینے سے زیادہ دور نہ رہے۔

اے حاکم وقت، اے میرے ابا حضور،

اے میرے ملک کے مفتی اعظم،

اے میرے محلے کی مسجد کے امام صاحب،اے میرے شہر کے پیر صاحب میں کس کے ہاتھوں اپنا لہو تلاش کروں؟کون میرے درد کو سمجھے گا؟

میری 35 سال کی عمر گزر گئی

لیکن میرے ابا کی اب بھی وہی رٹ ہےکہ میں اپنی بچی کی شادی خاندان سے باہر ہرگز نہیں کروں گا،

اے اللہ تو گواہ ہے بے شک تونے میرے لیئے بہت سے اچھے رشتے بھیجے لیکن میرے گھر والوں نے وہ رشتے خود ہی ٹھکرا دیئے اب کچھ سال بعد میرا ابا تسبیح پکڑ کر یہی کہے گا کہ بچی کا نصیب ہی ایسا تھا،

اے لوگوں:مجھے بتاؤ کوئی شخص تیار کھانا نہ کھائے اور بولے تقدیر میں ایسا تھا تو وہ پاگل ہے یا عقلمند؟

اللہ پاک نوالے منہ میں ڈلوائے کیا ؟

یونہی اس مثال کو سامنے رکھ کر سوچیں کہ میرے اور میرے جیسی کئی اوروں کیلیئے اللہ نے اچھے رشتے بھیجے،لیکن والدین نـے یا بعض نے خود ہی ٹھکرا دیئے اب کہتے پھرتے ہیں کہ جی نصیب ہی میں کچھ ایسا تھا۔

خدارہ اپنی بچیوں پر رحم کھائیں

میں نے اکثر لوگوں کے گھر اپاہج معذور بچے دیکھے ہیں جو خاندان در خاندان شادی کے نتیجے میں پیدا ہوتے،باز آجائیں ایسے رسومات سے جس کا ہمـارے اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

*کچھ سوالات خاندانی کی رٹ لگانے والے سفہاء سے؟*

(1)پورے قرآن و حدیث میں کہیں دکھائیں کہ اللہ اور اسکے رسول نے خاندان یا قوم کے بارے میں کہا ہو کہ شادی خاندان میں ہونا فرض ہے؟

(2)اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالغ ہونے کے بعد شادی کا حکم دیا ہے پوچھنا یہ ہے تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ اللہ کے نبی؟(3)اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے (انما المؤمنون إخوة )مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، تو کسی مسلمان کو آپ غیر کیسے کہ سکتے ہیں؟

(4)ایک آیت کریمہ کا مفہوم(ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تم اپنی پہچان کر سکو اور اللہ کے نزدیک اعلی متقی لوگ ہیں) تو قوم کی بنیاد پر کسی کو اعلی یا ادنی کہنے والے تم کون ہوتے ہو؟

(5)اگر کسی کو اپنی قوم اپنے حسب و نسب پر غرور ہونے لگے اور باقی قوموں کو وہ ذلیل سمجھنے لگے تو کبھی پڑھنا حجۃ الوداع کے موقع پر بیان کیا ہوا وہ خطبہ جس میں اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں اور کسی عجمی کس عربی پر فضیلت نہیں،کوئی کسی اعلی حسب نسب کی بنا پر اعلٰی نہیں،اور جان لینا آپکی اور آپکی قوم کی کیا حیثیت ہے عند اللہ و رسولہ۔

میں معذرت خواہ رہوں گا اگر کسی کو بری لگے تو اور اس میں زیادتی نہیں کی گئی بلکہ اسی ناول کا ترجمہ کیا ہوں،اور کچھ کچھ ایڈ کر دیا ہوں، جو بھی مجھے اچھا لگتا ہے میں لکھ ڈالتا ہوں صرف اسلئے کہ تاکہ قوم کے اندر سدھار آ جائے،اور فقط سوالات کیا ہوں اپنی جانب سے۔

میرے سوالات اپنی جگہ مسلم ہیں میں جوابات کا منتظر رہوں گا اور پوچھنا چاہوں گا قوم اور خاندان کی رٹ لگانے والے لوگوں سے کیا اللہ کے نبی ﷺنے بہت انصار صحابہ اور بہت مہاجر صحابہ اور مختلف قبائل سے ایک دوسرے کی شادیاں نہیں کرائیں، یاد رکھو اسلام میں صرف ایک چیز کا امتیاز ہے کہ لڑکا لڑکی مسلمان ہو اسکے علاوہ کوئی دوسرا نہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ اسلام میں لڑکا اور لڑکی دونوں کو معیار دیا ہے اور اپنی پسند سے شادی کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔



*✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️*