گفتگو — فن، تہذیب اور آئینۂ باطن

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی 

گفتگو محض الفاظ کا ایک بے جان مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک فن ہے جو انسان کی سوچ، تربیت، اور اخلاقی معیار کو عیاں کرتا ہے۔ زبان کے ذریعے ادا ہونے والے الفاظ انسان کے باطن کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ایک خوشبو دار پھول کی مانند، عمدہ گفتگو سننے والے کے دل و دماغ کو مہکا دیتی ہے، جبکہ تلخ اور بے ربط کلام کانوں کو چبھتا اور دل کو زخمی کر دیتا ہے۔

فنِ گفتگو میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ انسان سنجیدگی، نرمی اور شائستگی کو اپنے کلام کا زیور بنائے۔ الفاظ وہی چنے جائیں جو دل میں جگہ بنائیں، نہ کہ زخم چھوڑ جائیں۔ ایک خوبصورت جملہ کبھی کبھی برسوں کی کدورت مٹا دیتا ہے، جبکہ ایک سخت لفظ برسوں کی محبت کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔

تہذیبِ گفتگو اس وقت پروان چڑھتی ہے جب انسان اپنی بات کو دوسرے کے مقام، حالات اور جذبات کے مطابق ڈھالے۔ ہر موقع اور ہر شخص کے لیے ایک ہی طرزِ کلام موزوں نہیں ہوتی۔ اہلِ علم کے ہاں گفتگو کو ادب کا درجہ حاصل ہے، کیونکہ یہ انسان کی علمی پختگی، شعور اور شخصیت کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ گفتگو میں انسان کا باطن جھلکتا ہے۔ جو دل نیک ہو، الفاظ بھی نیک نکلیں گے۔ جو دل میں کینہ، غرور اور تنگ نظری رکھتا ہو، اس کی زبان سے سختی اور تلخی ٹپکتی ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"(بخاری و مسلم)

الغرض، گفتگو محض بولنے کا عمل نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو انسان کے اخلاق، تربیت اور علم کا عکس پیش کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی زبان کو سنوارنا، الفاظ کو چننا اور کلام کو دلنشین بنانا چاہیے، تاکہ ہم نہ صرف اپنے خیالات کو بہتر انداز میں پیش کر سکیں بلکہ دوسروں کے دلوں میں اپنی محبت بھی قائم رکھ سکیں۔