بسم الله الرحمن الرحيم
افلاک رو رہے ہیں، زمین بھی اداس ہے,
آنسو بہا رہی ہے فضا تیری موت پر,
جیسے گرا ہو کوہِ گراں مجھ پہ ٹوٹ کر,
کوئی گیا ہے آج یوں دنیا سے روٹھ کر,
دل دھک سے ہو کے رہ گیا سنتے ہی یہ خبر,
تم چل دیے ہو آج ہمیں تنہا چھوڑ کر,
یہ محض چند اشعار نہیں، بلکہ اس کربناک لمحے کی ترجمانی ہیں جس میں آج پوری دنیا خاموش، دل گرفتہ اور سوگوار نظر آتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا زمانہ ٹھٹھک گیا ہو، سانسیں رُک سی گئی ہوں، اور اہلِ دل کے دلوں پر غم کا پہاڑ آن ٹوٹا ہو۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا نے ایک ایسی انمول ہستی کو کھو دیا جس کی موجودگی دلوں کے لیے ڈھارس، روحوں کے لیے سکون اور نگاہوں کے لیے روشنی ہوا کرتی تھی۔
آج ہر سمت اداسی کی دبیز چادر تنی ہوئی ہے۔ دل بے چین ہیں، آنکھیں اشکبار ہیں اور زبانیں ذکرِ خیر میں لرزاں۔ اس غم کی وجہ وہ عظیم المرتبت شخصیت ہے جنہوں نے اپنی محبت، شفقت اور حکمت سے لاکھوں دلوں پر راج کیا۔ وہ دلوں کے حاکم بھی تھے اور دلوں کے تاجور بھی۔ ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ اجڑی ہوئی دلوں کی بستیاں آباد ہو جایا کرتی تھیں، اور بھٹکی ہوئی روحوں کو راہِ منزل مل جایا کرتی تھی۔
وہ تھے محبوبُ العلماء، محبوبُ العالمین اور محبوبِ ربُ العالمین؛ شیخِ طریقت، طریقۂ چشتیہ و نقشبندیہ کے تاج، ہم سب کے مرشد و رہنما، پیرِ کامل حضرت مولانا ذوالفقار نقشبندیؒ۔ ایک ایسی باکمال ہستی جن کی ذات سراپا خیر، جن کا وجود سراپا رحمت اور جن کی صحبت سراپا فیض تھی۔ ان کی نگاہِ کرم دلوں کے زنگ دھو دیتی تھی اور ان کی دعاؤں سے زندگیوں کی سمت بدل جایا کرتی تھی۔
آج وہ عظیم مرشد ہم سب کو، اہلِ دل کو اور پوری دنیا کو یتیم چھوڑ کر، خداوندِ باری تعالیٰ کے بلاوے پر لبیک کہتے ہوئے اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی جدائی نے قلوب میں ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جسے الفاظ میں سمیٹنا دشوار ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی کوہِ گراں ٹوٹ کر سینے پر آ گرا ہو اور دل دھک سے رہ گیا ہو۔
بے شک یہ فراق ناقابلِ برداشت ہے، مگر اہلِ ایمان کے لیے یہی تسلی کافی ہے کہ وہ ایک پاکیزہ زندگی گزار کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے۔ ان کا فیض، ان کی تعلیمات اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
آخر میں ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا ذوالفقار نقشبندیؒ کے درجات بلند فرمائے، ان کے مرقد کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔
✍️ امداداللّٰہ جلیلی