آپ کے جانے کی خبر نے یوں محسوس کرایا جیسے کسی نے شور زدہ دنیا میں آخری ٹھہراؤ بھی ہم سے چھین لیا ہو۔ آپ اُن ہستیوں میں سے تھے جن کی موجودگی اعلان نہیں مانگتی تھی، جن کا ذکر خود دلوں میں جگہ بنا لیتا تھا اور جن کی خاموشی میں بھی تربیت کا پورا نظام بولتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے نہ دین کو مشکل بنایا، نہ خود کو مرکز رکھا بلکہ آپ نے بس دلوں کو اللہ کی طرف موڑا اور یہ وہ خدمت ہے جس کی قدر اکثر وقت پر نہیں کی جاتی۔ آپ کی مجلس میں بیٹھنے والا یہ سیکھ کر اٹھتا تھا کہ اصلاح کا راستہ نعروں سے نہیں بکہ اپنے نفس کو توڑنے سے کھلتا ہے اور نسبت کا حاصل آواز بلند کرنا نہیں بلکہ خود کو گم کر دینا ہے۔۔۔۔۔
آج آپ کا جسم ہم میں نہیں مگر وہ آنسو جو آپ کی صحبت میں بہے، وہ سجدے جو آپ کی نصیحت پر لمبے ہوئے اور وہ زندگیاں جو آپ کی رہنمائی سے بدلیں یہ سب گواہی دے رہے ہیں کہ آپ گئے نہیں بس نگاہوں سے اوجھل ہوئے ہیں۔ درد اس بات کا نہیں کہ آپ نے دنیا چھوڑ دی۔ درد تو اس بات کا ہے کہ ہم ایسے وقت میں رہ گئے ہیں جب سچے رہبر کم اور راستے دھندلے ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔۔
آہ اے شیخُ المشائخ!
آپ کی جدائی نے یہ احساس اور گہرا کر دیا ہے کہ کچھ لوگ اپنے زمانے کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے چراغ بن کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کے درجات بلند کرے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم آپ کی یاد کو صرف آنسو نہ بنائیں بلکہ ذمہ داری میں ڈھال سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*✍🏻 محمد پالن پوری*