!خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
✍️ :-ایم یو صدیقی
مشہور عالم ربانی، محبوب العلماء و الصلحاء ،صاحب زہد و تقوی شیخ طریقت اور سلسلۂ اولیاء کا ایک روشن ماه تاب حضرت مولانا حافظ پیر ذو الفقار احمد صاحب نقشبندی مجددیؒ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے،جوار رحمت میں چلی گئی۔ انا للَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔ اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا!
انتقال کی خبر سن کر لمحے بھر کے لیے دل آمادہ نہیں ہوا لیکن پیہم تصدیقات و اطلاعات نے ماننے پر مجبور ہی کر دیا۔ اگرچہ حضرت شیخ پڑوس کے ملک کے باشندے تھے لیکن خدا تعالی نے ان کے اندر جو صفات ودیعت کی تھیں ان کی وجہ سے وہ صرف اپنے ملک کے ہی باشندوں کے دلوں میں نہیں بستے تھے بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں انسان کی محبت و عقیدت کا محور تھے۔ کیونکہ حضرت مولانا دین حق کے عظیم اور بے لوث داعی تھے اس کے علاوہ مرحوم ان چننده علماء ،صلحائے اُمت اور داعیان حق کے سلسلے کی کڑی تھے، جنھیں صرف بر صغیر کے ہی عوام و خواص میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں یکساں مقبولیت اور اعتماد واستناد حاصل تھا وہ اس وقت خلق خدا کی دینی آرزوؤں کا مرکز علمائے عظام کی جائے امید، دعاة و مصلحین، نیز اتباع سنت، دین کی عمل تعلیمات کے حصول، عقیدے کی درستگی اور تعلق مع اللہ کی مضبوطی اور استحکام کی لگن اور تڑپ رکھنے والوں کا وہ مرجع تھے۔ اسی لیے ان کے اٹھ جانے سے جہاں ان کے بے شمار محبین ومتعلقین غمزدہ ہیں وہیں ہم جیسے کروڑوں غائبانہ محبت رکھنے والے بھی افسوس کے آنسو بہا رہے ہیں کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ہمارے سروں سے سعادت و خوش بختی کا ایک ایسا گھنیرا سایہ اٹھ گیا ہے جو توفیق خداوندی سے ہمیں مادیت کی تیز آندھی، دنیا سے غیر معمولی وابستگی اور روز بروز سر اُبھارنے والے اُن ڈھیر سارے فتنوں کے طوفان بلا خیز کی اذیت رساں ٹھنڈک اور آگ برساتی دھوپ سے بچائے رکھتا تھا۔
بہرحال مختصر یہ کہ وہ عالم یکتانہ اور داعی یگانہ تھے نیز ان سب کے علاوہ وہ ایک مصنف بے بدل بھی تھے جنہوں نے اپنے تابناک قلم سے علم و عرفان کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان کی تصنیفات کی تعداد بیس سے زائد ہے جن میں تفسیر، حدیث، سیرتِ نبویؐ، سیرتِ صحابہؓ، خواتینِ اسلام کے کارنامے اور تصوف جیسے اہم موضوعات پر وقیع علمی تحقیقات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے عصرِ حاضر کے فکری و سماجی مسائل پر بھی گہرے تجزیے اور بصیرت افروز مباحث قلم بند کیے۔ ان کی تصانیف میں "مغفرت کی شرطیں" "حیا اور پاک دامنی" "اہلِ دل کو تڑپا دینے والے واقعات" "عشقِ رسولؐ" "زادِ حرم" اور "نوائے عشق"جیسی کتابیں عوام و خواص میں بے حد مقبول اور ہدایت و تاثیر کے اعتبار سے منفرد مقام رکھتی ہیں۔ خود راقم الحروف نے اوپر ذکر کردہ تمام کتابوں کو حرفاً ، حرفاً پڑھا۔ چنانچہ ان کی تحریروں کی سب سے نمایاں خصوصیت جو سامنے آئی وہ یہ ہے کہ وہ رکاکت، عامیانہ پن اور تصنع سے یکسر پاک ہیں۔ انہوں نے اسلام کی تعلیمات اور دعوت کو اس قدر رواں، سلیس اور عام فہم زبان میں پیش کیا کہ اہلِ علم کے لیے وہ گہرے معانی رکھتی ہیں جبکہ مجھ جیسے عام قارئین کے لیے وہ دل میں اتر جانے والی تاثیر سے معمور ہیں۔
میں نے دسیوں اہل قلم کو پڑھا اور ان کے اسلوب کا تجزیہ کیا لیکن حضرت کا اسلوب ان سب سے جداگانہ نظر آیا کیونکہ حضرت کے اسلوب میں ادبی حسن و لطافت تو ضرور تھی مگر الفاظ کی پھول جھڑتی شوکت یا بناوٹی ژولیدگی کہیں نظر نہیں آئی۔ اور یوں محسوس ہوا کہ مصنف نے ہر لفظ کو دل سے محسوس کرکے، ہر جملے کو پرکھ اور تول کر تحریر میں جگہ دی ہے۔ شیخ کی زبان میں ایسی توازن و اعتدال کی کیفیت کا احساس ہوا کہ جیسے گویا انہوں نے عوام و خواص کی ایک مجلس میں اپنے خیالات کو پیش کیا ہو اور جب سب کے دل و دماغ نے اسے محسوس کر لیا ہو تب ہی انہوں نے قلم کو آخری شکل دی ہو۔
سچ میں مجھے اس وقت داغ دہلوی کا وہ مصرعہ یاد آرہا ہے کہ
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں!
دعا ھیکہ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کو اپنی فردوس بریں میں داخل فرمائے، ان کے اہل خانہ ، رشتے داروں ، محبین ، متعارفین، رفقا، خلفا اور عقیدت مندوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔