بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ

ایک عہد، ایک خوشبو، ایک زندہ صدا

کچھ لوگ تاریخ میں تاریخ بن کر نہیں آتے،
وہ دلوں میں اترتے ہیں…
اور جب رخصت ہوتے ہیں تو دل تاریخ بن جاتے ہیں۔

حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ
انہی لوگوں میں سے تھے۔

وہ جب بولتے تھے تو آواز نہیں، اثر نکلتا تھا،
اور جب خاموش رہتے تھے تو دل بولنے لگتے تھے۔
ان کی زندگی شور سے خالی،
اور معنویت سے لبریز تھی۔

ولادت: 
یکم اپریل 1953ء
جھنگ کی زمین نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا
جس کے نصیب میں دنیا کی چکاچوند نہیں،
بلکہ دلوں کی اصلاح لکھی تھی۔

ایک ایسا بچہ
جس کے اردگرد قرآن کی تلاوت تھی،
ماں کی دعا تھی،
اور باپ کی خاموش دینداری تھی۔


جوانی: دنیا میں رہ کر دنیا سے بے رغبتی
تعلیم حاصل کی،
دنیا کا ہنر سیکھا،
انجینئر بنے،
مگر دل کہیں اور لگا ہوا تھا۔

وہ دل
جو مشینوں کی آواز میں بھی
اللہ کو تلاش کرتا تھا۔

چالیس برس کی عمر میں
اچانک ایسا موڑ آیا
کہ دنیا کی ذمہ داریاں
دل کی پیاس بجھانے سے قاصر لگیں۔

تب انہوں نے وہ فیصلہ کیا
جسے دنیا جنون کہتی ہے
اور آسمان قرب کہہ کر قبول کرتا ہے۔


تصوف کی راہ: شریعت کے سائے میں طریقت

حضرت کا تصوف
نہ وجد کا شور تھا
نہ کرامت کا کاروبار۔

وہ کہتے تھے:

> “جو شریعت کے بغیر طریقت کی بات کرے
وہ اپنے نفس کا پیر ہے،
اور جو شریعت میں رہ کر دل کو بدل لے
وہ اللہ کا دوست ہے۔”


سلسلہ نقشبندیہ میں
ان کا مقام
تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن
اور سنت کی سخت پابندی تھا۔

ذکر ہو تو خاموش،
مجلس ہو تو باوقار،
اور تربیت ہو تو آنکھوں کے آنسوؤں کے ساتھ۔

نصیحت آمیز لمحات: جو زندگی بن گئے

ایک نوجوان رو رہا تھا،
گناہوں سے ٹوٹا ہوا۔
حضرت نے فرمایا:
> “بیٹا!
اللہ سے شرمندگی
گناہ سے بڑی عبادت ہے۔”


ایک شخص نے پوچھا:
“حضرت! دل سخت ہے، کیا کروں؟”
فرمایا:
> “کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو،
دل پگھل جائے گا۔”

ایک مرید نے عرض کیا:
“حضرت! میں بار بار گرتا ہوں۔”

مسکرا کر فرمایا:
> “گرنا مسئلہ نہیں،
نہ اٹھنا مسئلہ ہے۔
اللہ گرتوں کو نہیں چھوڑتا،
اکڑنے والوں کو چھوڑ دیتا ہے۔”

خانقاہ: جہاں نفس ٹوٹتا اور دل جڑتا تھا

ان کی خانقاہ
نہ ہجوم کی جگہ تھی
نہ نعروں کی۔
وہاں
خاموش آنسو بہتے تھے،
دل جھکتے تھے،
اور نفس ہارا کرتا تھا۔

حضرت کہتے تھے:
> “میرا کام تمہیں مرید بنانا نہیں،
تمہیں بندہ بنانا ہے۔”


وفات: 
14 دسمبر 2025ء
ایک خاموش دن
مگر امت کے دلوں میں شور۔

وہ جو لوگوں کو موت یاد دلاتے تھے
خود موت کے پردے میں چلے گئے۔
نہ کوئی شور،
نہ کوئی ڈراما،
بس ایک سانس
جو ذکر پر ختم ہوئی۔

بعد از وصال: زندہ رہنے کا ہنر
حضرت چلے گئے
مگر:
ان کی باتیں زندہ ہیں
ان کی دعائیں زندہ ہیں
ان کی تربیت زندہ ہے
اور وہ دل زندہ ہیں
جو انہوں نے اللہ سے جوڑ دیے۔

یہی اولیاء کی پہچان ہے
کہ وہ مر کر بھی
دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

آخری دعاء 
اے اللہ!
ہم گواہی دیتے ہیں
کہ تیرے اس بندے نے
ہمیں تیری یاد دی۔

تو بھی اسے
اپنی خاص قربت عطا فرما،
اس کی قبر کو
جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا،
اور ہمیں
ان کے چھوڑے ہوئے راستے پر
سچائی کے ساتھ چلنے کی توفیق دے۔آمین

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

مفتی محمد ابراہیم غفاری 
مہتمم مدرسہ ابوذر غفاری رضی الله عنه

https://chat.whatsapp.com/HVmBQOsLVRYBHRGbA1EiGr