حصول علم دین کی راہ میں کبھی کبھار ایسے اوقات بھی آتے ہیں کہ ذہن کام کرنا ہی بند کر دیتا ہے۔ کوئی کتاب، کوئی سبق، سب دماغ سے اوپر جا رہا ہوتا ہے۔ کچھ بھی سمجھ نہیں آتا ہے۔


ایسے حالات میں طلبہ یا طالبات یہی سوچتے ہیں کہ ہم کمزور ہیں، ہمارا ذہن کمزور ہے۔ ہم سے کچھ نہیں یاد ہوتا ہے۔ کوئی بھی سبق سمچھ نہیں آتا ہے۔ اور اس طرح وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔



جان عالم حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

”مَنْ يُرِدِ اﷲُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ“

( مسلم مشکوٰۃ: 32)

ترجمہ: ”اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔“


اس حدیث شریف میں غور و فکر کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ رب جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ اللہ اکبر کبیرا!


کبھی آپ نے غور کِیا کہ کیا آپ خود سے علم دین حاصل کر رہی / رہے ہیں؟ کیا آپ اپنے والدین کے کہنے پر علم دین حاصل کر رہی/ رہے ہیں؟ یا پھر آپ اپنے اساتذہ کرام کے کہنے پر علم دین حاصل کر رہی/ رہے ہیں ؟


نہیں نہیں! ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ رب نے آپ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا، تبھی تو آپ کو چنا۔ سارے جہان کے مالک و مولیٰ نے آپ کو چنا ہے اور جس کو رب العالمین نے چنا ہو، وہ کمزور کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کا ذہن کمزور کیسے ہو سکتا ہے؟ ہاں بر وقت سمجھ نہیں آتا ہے؛ لیکن کچھ دنوں بعد اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے تو سمجھ بھی آ جاتا ہے.



عزیز طلبہ و طالبات! اپنے آپ کو کبھی بھی کمزور نہ سمجھیں، اور کبھی بھی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔ مشکلیں تو سبھی کو Face کرنی پڑتی ہیں۔ ان مشکلوں سے نکالنے والا بھی ہمارا رب ہے۔ ہم اپنی جانب سے خوب محنت و مشقت کریں۔ اسباق سمجھنے کے لیے اپنے رہنما و اساتذہ کی طرف رجوع کریں. ان شاء اللہ! آپ کو کامیابی ملے گی۔


رب تبارک و تعالیٰ سے خوب دعائیں کریں اور علم دین کے سفر کو جاری رکھنے کی پوری کوشش کریں؛ کیوں کہ کوشش کرنا بندوں کا کام ہے، اور کامیابی رب العالمین عطا فرمانے والا ہے۔


رب العالمین سے دعا ہے کہ سبھی طلبہ و طالبات کے علم دین کے سفر کو آسان فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین و نبی الملاحمﷺ