تحریر:سیدخلیل احمد 

بدعنوانی ایک ایسا سماجی ناسور ہے جو
ریاستی نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

یہ صرف رشوت ستانی تک محدود نہیں بلکہ
اختیارات کے ناجائز استعمال
اقربا پروری اور انصاف کی پامالی کی ہر صورت اس کے دائرے میں آتی ہے۔

بدعنوانی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ آہستہ آہستہ معاشرے میں ناانصافی کو معمول بنا دیتی ہے۔

بدعنوان نظام میں اہل اور دیانت دار افراد پیچھے رہ جاتے ہیں جبکہ نااہل اور بددیانت عناصر فیصلہ ساز بن جاتے ہیں۔

نتیجتاً ترقی کے لیے مختص وسائل چند مخصوص طبقوں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور عام شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہو جاتا ہے۔
جب ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے تو معاشرہ بے یقینی اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

بدعنوانی کے خاتمے کے لیے محض قوانین کا ہونا کافی نہیں،
بلکہ ان پر بلاامتیاز عمل درآمد ناگزیر ہے۔،
 ،شفافیت
مؤثر احتساب ،اور اخلاقی اقدار کا فروغ ہی اس ناسور کے خلاف مضبوط ڈھال ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر ہم واقعی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ایمانداری اور دیانت کے ساتھ ادا کرنا ہوگی، کیونکہ قوموں کی اصلاح کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہوتا ہے۔