*۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب حالات مضمحل ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔*

بنت محمد شاکر اللہ قریشی


ہاں کبھی حالات مضمحل ہوجاتے ہیں' دل کی کشتیاں بے کنار ہوجاتی ہیں ،عقل و خرد تذبذب میں غرق ہوجاتے ہیں' دل اپنی دھڑکن کا بوجھ اٹھانے سے تھکنے لگتا ہے آنکھوں کے عقب میں وہ ساون ٹہر جاتا ہے جو برسنے سے بھی انکاری ہو اور رکنے سے بھی ایسے میں یوں لگتا ہے کہ امید کی شاخ پر بیٹھے ہوۓ خوابوں کے پرندے ایک ایک کرکے اڑان بھول گۓ ہوں ۔تدبیریں ناکام لگتی ہے ذرائع مسدود اور راستے بند معلوم ہوتے ہیں ۔

زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ نظر آتی ہے اور رنج و الم سے دم گھٹنے لگتا ہے ۔

ایسے میں آپ مضطرب و رنجور اور پژمردہ دل نہ ہو امیدیں متزلزل نہ ہوں ۔

یہ دنیا ہے دنیاۓ دوں حوادث گوناگوں مصائب بو قلموں ،جگر خراش اور سینہ پاش مشاہدات اور محیر العقول واقعات کی آماجگاہ ہے جس میں ہر روز ،ہر ساعت ،ہر لحظہ ،اور ہر آن ہر ایک انسان کو بلا تفریق مراتب و مذاھب اور بغیر نیک و بد ایسے ایسے لرزہ خیز و عبرت انگیز و حسرت آمیز مناظر اور عجیب و غریب ناگہانی اور غیر متوقع حالات و حوادث پیش آتے ہیں کہ جن کے دیکھتے ہوۓ اعتقادی طور پر تو مصلحت خداوندی خیال کرکے انسان خاموش ہوجاتا ہے ورنہ انکی حقیقت کو سمجھنے میں عقل انسانی دنگ ان کے دفعیہ میں پاۓ تدبیر لنگ اور ہوش و خرد کا قافیہ تنگ ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

*وَاِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ ۚ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ يُصِيبُ بِهٖ مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔*

جب اُس ربِّ کریم کی مشیت کا پہرہ دل کے گرد قائم ہو جائے تو پھر تکلیفوں کے بیچ بھی ایک ان دیکھا سہارا محسوس ہوتا ہے، کیونکہ جس ضرر کو وہ چاہے تو کوئی ٹال نہیں سکتا، اور جس خیر کو وہ روانہ کرے تو کوئی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ ہر فضل اُس کے اذن سے بہتا ہے، اور ہر آزمائش بھی اسی کی حکمت کے پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔

اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے ایک جملے میں یوں گویا مجسم کر دیا:

*الدنیا سِجْنُ المؤمنِ وَجَنَّةُ الكافر۔*

امام احمد بن حنبل رح سے پوچھا گیا کہ آرام کب ملیگا؟؟؟

بولے جب تم اپنا پاؤں جنت میں رکھو گے تب۔ جنت سے پہلے سکون و راحت کہاں، دنیا تو حادثات، المیوں، فتنوں، اور آفتوں کی جگہ ہے۔ بیماری مایوسی حزن و یاس یہاں کے نشان امتیاز ہے بقول شاعر : دنیا کی فطرت میں کدورت پڑی ہے پھر تم اسے کدورتوں اور مصیبتوں سے خالی کیوں دیکھنا چاہتے ہو؟؟

دنیا امتحان گاہ نہ ہوتی تو یہاں بیماریاں اور کدورت نہ ہوتیں یہاں انبیاء اور صلحاء کا رہنا دشوار نہ ہوتا۔ آدم علیہ السلام نے دنیا سے جانے تک تکلیفیں اٹھائ ، نوح علیہ السلام کو ان کی قوم نے جھٹلایا اور ٹھٹھا کرتی رہی، ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا گیا، لخت جگر کو ذبح کرنے کا حکم آیا، یعقوب علیہ السلام روتے رہے حتی کہ بینائ چلی گئی، موسی علیہ السلام کو فرعون کا ظلم و ستم برداشت کرنا پڑا ان کی قوم نے ایذا پہنچائی عیسی علیہ السلام نے غربت و عسرت کی زندگی گزاری ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فقر کے سخت امتحان سے گزرنا پڑا،

فاقہ و تشنگی کی سلگتی آزمائشوں سے گزرے

اہلِ وطن کی عداوت کے تلخ گھونٹ نگلے محبوب چہروں کے بدلتے تیوروں کا زہر چکھا سرزمینِ الفت کی چھاؤں سے محروم کر دیے گئےدل کے ٹکڑوں سے جدائی کی تلوار جھیلی۔

اور دنیا کے مرغوب سامان سے ہاتھ دھو کر، صبر و رضا کی شاہراہ اختیار فرمائی۔اور ان کے علاوہ اور بھی انبیاء ، صلحاء نے اذیتیں اٹھائی ان کا ذکر طولانی ہے ۔ دنیا کی لذت میں مومن کا حق بہت کم ہے شاعر کہتا ہے۔

*دنیا ہے سکھ سے خالی دکھ چار سو بھرا ہے*

*غم کے سوا سوچو تو کیا دھرا ہے ۔*


یہ مشیت کا فیصلہ ہے کہ یہاں گرم سرد خیر و شر دونوں ہوں۔ پوری پوری خوشی اور خیر جنت میں ہی میسر ہوگی۔

قلم سوکھ چکا صحیفے اٹھا لۓ گۓ۔ معاملہ طۓ پاگیا تقدیر لکھی جا چکی وہی ہمیں پہنچا جو ہمارے لۓ لکھا ہے۔ جو ہوا وہ ٹلنے والا نہیں تھا جس سے ہم بچ گۓ وہ لاحق ہونے والا نہیں تھا ۔

*لکھا کب مٹے کلک تقدیر کا۔۔۔*

آپ یوں سوچے کہ کہ کیا معاملہ اپنی آخری سرحد تک طے نہیں ہوچکا؟ پھر آپ کیوں ان بدلتے حالات سے دل شکستہ ہوکر زمانے کی روانی کو تھام لینے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا واقعی سورج کو قید کیا جاسکتا ہے، یا گھڑی کی سوئیاں کبھی الٹا سفر اختیار کرتی ہیں؟ اور کیا وقت اپنی گذشتہ دہلیز پر دوبارہ پلٹ آتا ہے؟

کیا نہر اپنا رخ موڑ کر چشمے کی طرف پلٹتی ہے، یا دریا اپنے منبع میں سمٹنے پر آمادہ ہوا ہے؟ کیا سورج مطلع کے دامن میں دوبارہ وہیں ٹھہر سکتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا؟ اور کیا بچے کو ماں کے پیٹ میں، دودھ کو تھنوں میں، یا آنسو کو آنکھ کی دہلیز پر واپس لایا جاسکتا ہے؟

جب ہوا کا سفر ہمیشہ آگے ہوتا ہے، پانی کا بہاؤ ہمیشہ اگلی سمت کو رہنمائی دیتا ہے، اور کارواں ہمیشہ بڑھتے قدموں کا تعارف کراتا ہے تو کیا آپ اس اٹل سنتِ حیات سے بغاوت چاہتے ہیں؟

پھر کیا یہی مناسب نہیں کہ آپ قضاۓ الٰہی کی طرف جھک کر اس آسودگی کو محسوس کریں جس میں خواہشیں ماتحت اور سکینت فاتح ہوکر ابھرتی ہے؟ کیا اسی جھکاؤ میں دل کو وہ ٹھہراؤ نہیں ملتا جو کسی اور سمت میں میسر نہیں؟

مصیبت زدوں کی تسلی کے لۓ امام شافعی رح سے یہ منقول ہے فرمایا :

گردش زمانہ کو اپنا کام کرنے دو، جو تقدیر ہو اس پر راضی رہو۔

ایک شعر کا مفہوم ہے کہ کتنے ہی نامساعد حالات تمہیں گھیر لیتے ہیں جن کو تم پسند نہیں کرتے حالانکہ اللہ نے ان میں خیر رکھا ہے؟ کتنی ہی مرتبہ ہم موت سے ڈرتے ہیں لیکن موت نہیں آتی، کتنی ہی بار ہم سمجھتے ہیں بس اب خاتمہ ہوا چاہتا ہے لیکن وہ دعوۃ جدیدہ، قوت اور استمرار ثابت ہوتی ہے؟ کتنی ہی بار ہمارے راستے بند اور رسیاں کٹ جاتی ہیں۔ آفاق تاریک ہوجاتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ فتح و نصرت، اچھی خبر اور بشارت آجاتی ہے۔

*کہ دو اللہ ہی ہے جو تم کو ہر کرب و بلاء سے نجات دیتا ہے۔*

آپ اس امر سے اتفاق کر لیں کہ شدائد و آلام یہ قہر خداوندی نہیں نعمت خداوندی ہے

یہ زندگی کی علامت ہے ۔ بقا کے لۓ آگ پانی ہوا مٹی کی طرح بنیادی عنصر ہے۔ اس سے نہ کھبرائں ۔

ہر تخریب اپنے اندر تعمیری پہلو رکھتی ہے

ہستی کا جوہر ہی مشکلات کی تپش میں گوندھا گیا ہے۔ صرف اس لۓ کہ انسان کو اتنا مضبوط اور اتنا بلند ارادہ بنایا جاۓ کہ وہ زندگی کی سخت سے سخت پریشانی کا بھی مردانہ وار مقابلہ کر سکے۔ اور زمین پر اپنے آپ کو خدا کا صحیح خلیفہ ثابت کر سکے۔

کسی شاعر نے کہا ہے کہ

*تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب*

*یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے ۔*

ذہین و ہوشیار نقصان کو فائدہ میں بدل لیتا ہے جب کہ جاہل غبی ایک مصیبت کو دو آفتیں بنا دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ مکہ سے نکالے گئے تو مدینہ میں مملکت قائم فرمادی کہ جس نے آج تک تاریخ کو انگشت بدنداں کر رکھا ہے۔ احمد بن حنبل رح کو جیل میں ڈالا گیا، کو ڑے لگاۓ گۓ تو وہ اہل سنت کے امام بن گۓ، ابن تیمیہ رح گرفتار کۓ گۓ جیل سے جب چھوٹے تو ان کے ساتھ زبردست علم تھا۔ سرخشی کو اندھے کنویں میں بند کردیا گیا تو دو جلدوں میں فقہ کی کتاب لکھدی۔ ابن الاثیر رح کو گھر میں بٹھا دیا گیا تو انہوں نے جامع الاصول اور النہایہ لکھیں جو علم حدیث کی بہترین و مفید ترین کتابیں ہیں۔

ابن الجوزی رح کو بغداد سے نکال دیا گیا تو انہوں نے قرأت سبعہ کی تجوید تیار کردی۔

مالک ابن الریب کو بخار چڑھا، جو ان کا مرض الموت ثابت ہوا تو اس نے وہ زبردست قصیدہ لکھا جو عباسی شعراء کے پورے پورے دیوانوں کی برابری کرتا ہے۔ ابو ذیب الہذلی کے بیٹے مرگۓ تو اس نے ان کا وہ شاہکار مرثیہ کہا کہ ایک زمانہ مبہوت ہوکر سنتا رہ گیا، لوگ حیران رہ گۓ، تاریخ نے داد دی۔

ان سب شخصیات کی زندگیاں اس حقیقت کا اعلان کرتی ہیں کہ آزمائشیں جب اہلِ یقین کے دروازے پر دستک دیتی ہیں، تو ان کے قدم لرزتے نہیں، بلکہ ان کا توکّل مزید گہرا، ان کی نگاہ آخرت کی طرف اور بھی روشن ہو جاتی ہے۔ دنیا انہیں قید کرتی ہے مگر وہ اپنے رب کی وسعتوں میں آزاد ہو جاتے ہیں۔ جسم بے بس ہوتا ہے مگر روح اپنے مقصد کی پرواز میں اور بلند۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے کبھی ان کے صبر پر تعجب کیا، کبھی ان کے حوصلے پر اور کبھی ان کے علم کے سمندر پر۔ گویا انکے دلوں کے نہاں خانوں سے ایک خاموش ندا یوں اٹھتی ہو کہ.....

*چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے*

*اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے*

سزاوار اخذ بات یہی ہے کہ آپ کے ہموم غموم حقیر چیزوں کے لۓ نہ ہوں۔دنیا اس سے بہت حقیر تر ہے کہ اس پر غم کیا جاۓ۔ زندگی کی راحت، سعادت اور آرام اس میں ہے کہ آپ کی نظر فانی چیزوں سے ہٹ جاۓ ۔ اولو العزم شخصیات کا شیوہ یہی رہا ہے کہ بس انکو آخرت کی دھن ہوتی تھی۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ۔

*”تم میں سے بعض لوگ دنیا چاہتے ہیں بعض آخرت “*

صالحین میں سے ایک بزرگ کو شیر کے پنجرے میں پھینک دیا گیا لیکن اللہ نے انکو بچا لیا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ آپ اس وقت کیا سوچ رہے تھے؟؟ کہنے لگے میں شیر کے لعاب کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ کیا وہ پاک ہے یا ناپاک؟؟ علماء نے اس سلسلہ میں کیا کہا ہے؟؟ سمندر میں ایک کشتی پلٹ گئ ایک عابد و زاہد پانی میں گر پڑا تو اپنے اعضاء کو وضو کے مانند دھونے لگا، ناک میں پانی ڈالا، کلی کی، سمندر نے اسے نکال پھینکا وہ بچ گیا اس بارے میں اس سے پوچھا گیا تو کہا کہ موت سے پہلے میں طہارت کے لۓ وضو کرنا چاہتا تھا۔ ایک بزرگ کا مقولہ ہے کہ: تم بس ایک ہی دھن اپنے اوپر طاری کرلو… اللہ سے ملاقات، آخرت اور اس کے سامنے کھڑے ہونے کی دھن۔ جس دن تمہارے سامنے ہر چیز کھول دی جائے گی اور کوئی چیز چھپی نہیں رہے گی، اُس دن ہی پتا چلے گا کہ کس نے حقیقی کامیابی کو اپنایا اور کس نے فانی دنیا کو اپنی آرزو بنا لیا۔


اور جب منزلِ آخرت ہی اصل مقصود ٹھہری، تو پھر یہاں کی ہر فکر ،عہدے، مناصب، شہرت، سونا چاندی، اولاد اور گھر بار، سب اس کے مقابلہ میں بے حقیقت ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے سامنے وہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اس کی اصل قیمت کیا ہے؟ دنیاوی زیب و زینت یا وہ روشن صفات جو مصائب کی بھٹی میں کندن بن کر ابھرتی ہیں؟ خوش بخت وہی ہے جو حقیقت کو سمجھ لے، اپنے فرائض کا شعور حاصل کرلے، اور اس پاکیزہ عظمت کو پا لے جو کردار اور نیت کی صداقت سے جنم لیتی ہے۔ جو شخص خواہشات کے بندھنوں سے آزاد ہو کر خیر کے راستے کا مسافر بنتا ہے، وہی دراصل مبارک ہے، وہی دنیا میں بھی کامیاب اور آخرت میں بھی سرخرو ہوتا ہے، کیونکہ اس نے اپنی قیمت پہچان کر زندگی کا رخ اُس سمت موڑ دیا جہاں سے دلوں میں روشنی اترتی ہے۔

جب انسان اپنی اصل قیمت پہچان لیتا ہے اور اپنے نفس کو راہِ حق کا مسافر بنا دیتا ہے، تو پھر اس کے وجود سے خیر کے چشمے پھوٹتے ہیں، اُس کی ذات خود نہیں بلکہ دوسروں کے لیے باعثِ رحمت بن جاتی ہے۔ تب وہ صرف اپنے لیے نہیں جیتا، بلکہ دلوں کو سہارا اور روحوں کو زندگی دینے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

*کاش کہ* ہم وہ ستارے بن جائیں جو بھٹکے ہوئے مسافر کو راہ دکھائیں، وہ بہار بن جائیں جو سوکھے درختوں میں نئی کونپلیں نکالیں، وہ جملے بن جائیں جن سے لوگوں کے دل جیت لیے جائیں، وہ لہجہ بن جائیں جس سے لوگوں کو انس ملے، وہ رویہ اختیار کریں جس سے لوگ رحمت پائیں، وہ گھر بن جائیں جس میں لوگ سکون کی سانس لیں، وہ پناہ گاہ بن جائیں جس میں لوگ محفوظ رہیں، وہ تکیہ بن جائیں جو لوگوں کے آنسوؤں سے تر ہو جائے، وہ کھلا آسمان بن جائیں جس کی طرف مصیبت زدگان کی نگاہیں اٹھیں، اور وہ سبزہ زار بن جائیں جو اداس روح کو نشاط و انبساط دے۔

آخری بات یہی ہے کہ کمالِ سیرت یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو ایسی مُحکَم استقامت پر متمکّن کرے جہاں شخصی آلام و اضطرابات اُس کے عزم و تدبیر میں کسی نوع کے خلل کا باعث نہ ہوں، اور اُس کے افعال رفاہِ غیر، اعانتِ خلق اور منفعتِ عامّہ کے منہج پر منسّق رہیں۔ یہی جوہرِ اخلاق تعلیمِ نبوی کے اُصولِ اوّلیہ میں شمار ہوتا ہے، چنانچہ سیّدُالانام ﷺ نے فرمایا:

*وَاللّٰهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ۔*

یعنی جب تک بندہ اعانتِ اخوان میں مصروف رہے، ربّانی معونت اُس کے شاملِ حال رہتی ہے۔

اس قاعدۂ نبوی سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص حدودِ ذات سے متجاوز ہو کر خدمتِ خلق کے وسیع دائرے میں داخل ہوتا ہے، اُس کے لیے تائیدِ الٰہی کا تسلسل برقرار رہتا ہے، اور اُس کا ہر فعلِ خیر ایک دائمی سعادت اور ربانی التفات کا مستحق ٹھہرتا ہے۔یہ بات قطعی درست ہے کہ انسان کے لیے نیک الفاظ کہنا یا لکھنا نسبتاً آسان ہے، لیکن انہیں عملی جامہ پہنانا انتہائی دشوار اور لطیف مرحلوں سے عبارت ہے۔ اسی لیے ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی محدود طاقت، فکری کمزوریوں اور نفسانی کمزوریوں کو پہچانے اور ربِّ کریم کے سامنے عاجزی و انکساری کے ساتھ سر جھکائے۔ اسی عاجزی کے لمحوں میں دل کی گہرائیوں سے دعا کرے، اعلیٰ اخلاقی صفات کی طلب میں، تاکہ قول و فعل میں ہم آہنگی قائم ہو اور اخلاقی بلندی اُس کی ذات کا لازمی حصہ بن جائے۔

کون ہے جسے پریشان حال پکارے اور مصیبت زدہ فریاد کریں ،کائنات اس کی طرف جھکے ،ساری مخلوق جس سے مانگے،زبانوں پر اس کا ذکر ہو دلوں میں وہ گھر کرے؟؟؟وہ اللہ ہے صرف اللہ ۔

انسان کے حاجات چاہے دنیاوی ہوں یا اخروی، اللہ کی مدد و توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے دعا کے فضائل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: الدعاء مخ العبادۃ، اور کہیں اسے رحمت کی کنجی، کہیں مومن کا ہتھیار، اور کہیں اشرف العبادۃ قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی متعدد مقامات پر اپنے بندوں کو مانگنے کا حکم دیا اور وعدہ فرمایا کہ وہ سمیع و مجیب ہے۔


ہم پر آپ پر سب پر فرض ہے کہ آسانی و ترشی سختی اور تنگی آخروی حاجت یا دنیاوی حاجت اسی کو پکاریں، اسی سے مانگے

اسی کے سامنے گڑگڑائں اس کا وسیلہ چاہیں

اسی کی چوکھٹ پر سر جھکائں، روئیں مانگے

اس کے ہو جائیں۔


*عطّارؔ ہو، رومیؔ ہو، رازیؔ ہو، غزالیؔ ہو*

*کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحَرگاہی۔*


اللہ تعالی ہم تمام کو توفیق عمل مقدر فرمائىں۔ آمین