کتاب حضرات القدس پر ایک نظر۔
پس منظر مطالعہ۔۔۔واضح رہے کہ احقر کے اس کتاب کے مطالعہ کا ایک پس منظر ہے ۔۔
ہوا کچھ یوں کہ احقر ششماہی کی تعطیلات میں اپنے وطن پنجاب میں تھا والد گرامی نے موقع غنیمت جانا اور مجھ کو حضرت مجدد کے مزار پر لے گئے اس سے قبل کبھی بھی احقر کا وہاں جانا نہیں ہوا تھا لیکن اکابرین سے آستانۂ احمدیہ کے متعلق سنا اور پڑا ضرور تھا جس کی وجہ سے احقر کی شدید خواہش تھی کہ اس مرد با صفا کی ارام گاہ پر جائے اور بچشم خویش اس لازوال کرم کا مشاہدہ کرے جو بارگاہ ذوالجلال سے حضرت مجدد پر ہوا جیسے جیسے- جیسے مسافت کم ہوتی گئی شوق اتنا ہی فراواں ہوتا گیا آخر کار دو گھنٹے کے شدید انتظار کے بعد گاڑی آستانۂ احمدیہ کے صدر دروازے پر رکی اندر داخلے کے بعد ضروریات سے فارغ ہو کر ہم لوگ شیخ مجدد کی لحد کی طرف چل دیے ۔۔ مقبرے میں ہم لوگ جیسے ہی داخل ہوئے تو عجیب و غریب منظر تھا طلباءوعلماء اور عوام کی کثرت تھی اور سب فاتحہ پڑھنے میں مشغول تھے دیکھا دیکھی میں نے بھی فاتحہ پڑھی فاتحہ کے بعد عجیب و غریب کیفیت دل کی تھی ۔اک نظر شیخ مجدد کی لحد کی طرف دیکھا تو مطلع انوار معلوم ہوئی۔الفاظ اس بابرکت جگہ کی روحانیت بیان کرنے سے قاصر ہیں۔۔ کسی زمانے میں ڈاکٹر علامہ اقبال بھی اس فقیر غیور کی ارامگاہ پر حاضر ہوئے تھے انہوں نے اس جگہ کی روحانیت کو درج ذیل اشعار میں بیان کیا ہے
"حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر۔۔وہ خاک کے ہے زیر فلک مطلع انوار۔۔
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے۔اس خاک میں ہے پوشیدہ وہ صاحب اسرار۔۔
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے اگے۔جس کے نفس گرم سے ہے گرمئ احرار
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباں۔اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار۔
کی عرض میں نے عطا فقر ہو مجھ کو۔۔آنکھیں میری بینا ہیں ولیکن نہیں بیدار"
الغرض اس مرد با صفا کو پڑھنے کا شوق اور زیادہ ہو گیا گھر واپسی کے بعد میں اس تلاش میں جٹ گیا کہ کوئی کتاب حضرت کے حالات پر مل جائے بالآخر بہت تلاش و جستجو کے بعد والد گرامی کی کتابوں میں سے ایک پرانی اور بوسیدہ کتاب ہاتھ لگی دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ 30 سے 40 سال پرانا نسخہ ہے۔ اور اوراق اتنے خستہ ہو چکے تھے کہ ہاتھ میں لیتے ہی ٹوٹنے لگتے تھے اور پوری کتاب کرم خوردہ ہو چکی تھی لیکن الفاظ والا حصہ سالم تھا اور قابل مطالعہ معلوم ہوتا تھا یہ کتاب تھی "حضرات القدس" جس کو شیخ بدرالدین سرہندی نے اپنے شیخ حضرت مجدد الف ثانی احمد سرہندی رحمہ اللہ کے حالات پر لکھا تھا ذیل میں اسی کتاب پر تبصرہ پیش کیا جاتا ہے:
تبصرہ
نام کتاب"۔حضرات القدس فی مقامات الاکابر النقشبندیہ و درجاتِ الاعیان الاحمدیہ " المعروف بحضرات القدس
اصل زبان۔فارسی
مترجم۔ڈاکٹر مصطفی خان سابق صدر سندھ یونیورسٹی۔
تبصرہ۔۔۔
زیر نظر کتاب حضرات القدس شیخ بدرالدین سرہندی کی کاوش ہے۔۔جو شیخ مجدد الف ثانی کے اجل خلفاء میں سے ہیں۔۔علامہ ہاشم کشمی نے اپنی کتاب زبدۃ المقامات میں ان کا تذکرہ حضرت مجدد الف ثانی کے خلفاء کی فہرست میں کیا ہے وہاں ان کے حالات دیکھے جا سکتے ہیں یہ کتاب گیارویں صدی ھ۔ میں فارسی میں لکھی گئی تھی اور اس کا ترجمہ ڈاکٹر مصطفی خان نے کیا ہے جو سندھ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سابق صدر تھے اس ترجمے کو391 صفحات پر دہلی سے "دانش پبلشنگ"کمپنی نے 1991 میں شائع کیا تھا اور وہی ایڈیشن راقم الحروف کے زیر مطالعہ رہا ہے اس کتاب کا موضوع اور مقصد حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے مختلف واقعات پر روشنی ڈالنا ہے اسی کے ضمن میں شیخ کے خلفاء کا بھی مختصرا تذکرہ کر دیا گیا ہے اس کتاب میں اس بات کا التزام کیا گیا ہے کہ اس کے پہلے دفتر میں خلفائے راشدین کے مختصر حالات لکھنے کے بعد حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے لے کر حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ تک تمام نقشبندیہ بزرگوں کے حالات درج کیے ہیں اور دوسرے دفتر میں حضرت مجدد کے حالات ہیں اسی دفتر دوم کے اخر میں مصنف نے اپنی روحانی تربیت کے حصول کی تفصیل دی ہے اور "ذکر مؤلف کتاب" کا عنوان لگا کر 25 صفحات میں اپنے حالات بتائے ہیں جن میں تربیت, واقعات, اور حضرت مجدد کے شیخ بدر الدین کو لکھے جانے والے مکتوبات کا ذکر ہے. اس کتاب میں تصوف اور فلسفے کے متعلق بہت ہی نادرونایاب اور قیمتی بحثیں موجود ہیں خاص طور پر حضرت مجدد کا نظریۂ وحدۃ الشہود
جس کو ہم زمانہ دراز سے سنتے چلے آ رہے ہیں اس کتاب میں بالتفصیل ذکر کیا گیا ہے اور حضرت کے مکتوبات کے ذریعے خوب واضح کیا گیا ہے اور ابن العربی رحمہ اللہ کے وحدۃ الوجود کے نظریے کا کافی اور شافی رد کیا گیا ہے اور آخر میں حضرت مجدد نے ابن عربی کے متعلق یہی نتیجہ نکالا ہے کہ ان کو قبول کرنے والا بھی خطرے میں ہے اور ان کا منکر بھی خطرے میں ہے یعنی شیخ اکبر کو تو قبول کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی شطحیات کو قبول نہیں کیا جا سکتا اس کے بعد عنوان لگا کر 55 صفحات میں حضرت مجدد کی100 کرامات ذکر کی گئی ہیں جن میں سے 95 تو ان کی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں اور پانچ ان کی وفات سے متعلق ہیں بطور مثال ایک کا ذکر کرتا ہوں۔۔
مصنف فرماتے ہیں:
" اپ کے استانہ عالیہ کے معتقدین میں سے ایک شخص اپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا بیٹا بیمار ہے اور کچھ نذر بھی پیش کرنی چاہی اور بیٹے کی صحت کے لیے دعا کی درخواست کی اپ نے وہ نذر قبول نہیں فرمائی انہوں نے بہت کچھ التجا کی لے لیکن وہ قبول نہ ہوئی حالانکہ اپ نذر قبول کر لیا کرتے تھے تمام اصحاب کو یقین ہو گیا کہ نذر کا قبول نہ کرنا اس وجہ سے ہے کہ وہ لڑکا مر جائے گا چنانچہ یہی ہوا اور اسی شام وہ فوت ہو گیا"
اسی طرح حضرت کے عجیب و غریب مکاشفات کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے جن کی تعداد 56 ہے اور 19 صفحات میں بیان کیے گئے ہیں اسی مقام پر پہنچ کر احقر کو سب سے زیادہ احتیاط اور دقت نظر کی ضرورت پیش ائی اور یہ خیال آیا کہ اگر حضرت مجدد چودویں صدی میں ان مکاشفات کو ذکر کرتے تو خان (احمد رضا خان صاحب بریلوی) کا بے احتیاط قلم چل چکا ہوتا۔اور اپ خان کے اس شعر۔
(کلک رضا ہے خنجر خون خوار برقبار ) کی زد میں اگئے ہوتے۔اور الغیاذ باللہ۔بریلوی اینڈ کمپنی میں اکفر الکفار کے طور پر جانے جاتے کیونکہ کاٹ چھانٹ کر کے ان مکاشفات کو اکابرین دیوبند کی عبارات سے زیادہ سخت بنایا جا سکتا ہے انہی مکاشفات میں سے ایک کو بطور مثال ذکر کرتا ہوں۔۔۔
مکاشفہ نمبر 42 کو بیان کرتے ہوئے مصنف فرماتے ہیں:
۔"اپ کا یہ دستور تھا کہ فجر کی نماز کے بعد جماعت کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھتے تھے اور دعا کے بعد مراقبے میں مشغول ہو جاتے تھے ایک مرتبہ عرفہ کی صبح کو فجر کی نماز کا سلام پھیرنے کے بعد آپ قبلہ رو ہی بیٹھے رہے یہاں تک کہ آفتاب بلند ہو گیا اس کے بعد اپ نے مراقبے سے سر اٹھایا اور فرمایا کہ آج مجھے زیارت کعبہ کا شوق پیدا ہوا اور حرم پاک کا اشتیاق پیدا ہوا تو میں نے دیکھا کہ یکایک خود کعبہ میرے طواف کے لیے آیا اور میرے گرد گھومنے لگا تعجب ہے کہ ارباب کشف اس سے غافل رہے ورنہ وہ خود اس وقت میرے گرد گھومتے اور میرا طواف کرتے"
دوران مطالعہ یہی وہ مقام تھا جب احقر نے پسینے کے اثار محسوس کیے اور بارگاہ خداوندی میں یہ دعا کی کہ اے رب ذوالجلال میرے ذہن اور خیالات کو حضرت مجدد کے متعلق بے قابو ہونے سے بچا لینا کہیں ایسا نہ ہو کہ میری زبان جلد باز واقع ہو جائے اور میں بروز قیامت"من استخف بالعلماء خسر الدين"کا مصداق نظر آؤں۔۔ خلاصہ یہ کہ اس مقام کو پڑھنے کے لیے انتہائی محتاط ذہن اور بیدار مغز درکار ہیں جہاں تک بات حضرات القدس کی زبان کی ہے تو وہ بہت ہی سادہ ہے البتہ بعض مقامات پر کچھ تسامحات پائے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کتابت کی غلطی ہو. مثلا حضرت مجدد کے تیسرے فرزند ارجمند (حضرت خواجہ معصوم رحمہ اللہ )کی تاریخی ولادت 1009 ہجری لکھی گئی ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ 1007ہجری میں پیدا ہوئے تھے زبدۃ المقامات اور مبدأ ومعاد میں بھی یہی لکھا ہے اور مترجم نے بھی حاشیے میں اس کی نشاندہی کی ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس کتاب میں علمی اور قیمتی نادر بحثوں کے با وصف بعض مقامات ایسے بھی ہیں جن کو پڑھنے کے لیے نہایت ہی محتاط ذہن کی ضرورت ہے ہر کس و ناکس ان مقامات سے خاموش ہو کر نہیں گزر سکتا جب تلک مدد الہی شامل حال نہ ہو اور بعض مقامات میں جو تسامحات پائے جاتے ہیں۔۔ کسی دلیل کےنہ ہونے کی وجہ سے ان کا معاملہ مخدوش ہے ایا کہ یہ مصنف کے قلم کی جلد بازی ہے یا کاتب سے سہو ہوا ہے لہذا السکوت اولی۔۔۔۔۔۔۔
راقم الحروف: محمد شعیب مالیری۔پنجابی۔شریک ہفتم ثانیہ