شادیوں کا موسم چل رہا ہے۔ ہر طرف شادیاں ہی شادیاں ہو رہی ہیں، اور ان کو یادگار بنانے کی ہر ممکن کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ بھر چاہے "حرام کام" ہی کیوں نہ کرنے پڑیں۔ رات 12.30 اچانک سے آنکھ کھلی، ایسا لگا کہ دھماکہ ہوا ہے۔ جب اٹھ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ”بارات“ آئی ہے۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ دنیا کی پہلی شادی ہو رہی ہے۔ D.J. کی آواز اتنی بلند کہ دل دہل رہے تھے۔ جانور تک ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ ایسا شور شرابہ اور دھمال مچا رکھا تھا، جیسے آسمان سر پہ آٹھا لیں گے۔ نہ کسی بیمار کی فکر، نہ کسی بچے کی فکر اور نہ ہی بوڑھوں کا خیال۔ بس اپنی ہی دھن اور اپنا ہی راگ۔
یہ کسی غیر مسلم کی نہیں؛ بلکہ مسلمانوں کی بارات کا منظر ہے۔ ایسا طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا تھا کہ آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گئے، کہ کہیں رب کا عذاب نہ نازل ہو جائے، اور اپنی بے بسی پر بھی رونا آ رہا تھا کہ رب کی نافرمانی ہو رہی ہے اور ہم کچھہ کر بھی نہیں پا رہے ہیں۔
کیا ایسے کاموں سے رب کی رضا حاصل ہوگی یا ناراضگی؟ کیا اس سے جان عالم حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہوگی یا پھر ناراضگی؟ کیا اس سے لوگوں کے دلوں سے دعائیں نکلیں گی یا بد دعائیں ؟ کوئی فکر نہیں۔
آپ نکاح کریں؛ لیکن سادگی کے ساتھ۔ جائز طریقوں سے اپنی شادیوں کو یادگار بھی بنائیں۔ جس سے رب العالمین کی رضا، حضور تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی بھی حاصل ہو اور لوگوں کی دعائیں بھی ملیں۔ اور آپ کی آنے والی زندگی خوشیوں سے بھر جائے۔
رب تبارک و تعالیٰ مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے آمین یا رب العالمین۔