نام کتاب: ایام اسیری۔
مؤلف: مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی۔۔
تعداد صفحات:٢٠٠
ناشر: کتب خانہ الاحرار لدھیانہ۔
سن اشاعت:٢٠٢١
تاثرات: 👇
زیر نظر کتاب "ایام اسیری" حضرت مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی(موجودہ شاہی امام پنجاب) کی تالیف ہے جس کو انہوں نے اپنے ایام اسیری میں قلم بند کرنا شروع کیا تھا. ابتدا میں قادیانیت کا مختصر تعارف پیش کر کے تحریک احرار کے اغراض و مقاصد کو نہایت ہی انوکھے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔اس کے بعد سلسلہ شروع ہوتا ہے اپنے ایام قید و بند میں رونما ہونے والے واقعات کو بیان کرنے کا جن کو پڑھ کر دل یہ کہتا ہے کہ آج بھی اسیران مالٹا کی تاریخ کو دہرانے والے زندہ ہیں۔اس تصنیف کا اغاز جیل میں ہوا۔یہ تحریریں ایک بے قصور قیدی، جھوٹے مقدمے میں پھنسائے جانے والے نوجوان کی ہیں جو کہ ایک منفرد انداز رکھتی ہیں۔دوران مطالعہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب قاری کے سامنے ہو رہا ہے۔اسیری کا وہ منظر قابل ذکر ہے جب ایک ماں اپنے لخت جگر کو اس طرح پیش کرتی ہے کہ صحابیات(رضي الله عنهن) کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔اور جب ایک باپ اپنے نور نظر کو اس طرح تسلی دیتا ہے کہ وہ ابھی گیا اور ابھی ایا۔اور رہائی کا بھی وہ منظر قابل ذکر ہے۔جب ایک مرد مجاہد غازی بن کر پہلے سے زیادہ جذبہ ؤ ہمت لے کر لوٹتا ہے گویا کہ وہ نوجوان زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے۔۔
"ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری۔
جواں مردکی ضربت غازیانہ"
اور وہ منظر بھی ناقابل فراموش ہے جب اہل اسلام کا ایک ا ازدحام دیوانہ وار امڈ اتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سرگوشی کر رہا ہو۔
"اے مرد حر اگر یہ سب تو نے اپنے اور ہمارے روحانی پیشوا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برداشت کیا ہے تو پھر
"قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے۔۔
دہر میں عشق محمد سے اجالا کردے۔۔

راقم السطور: محمد شعیب،مالیری،پنجابی۔
شریک ہفتم (ثانیہ)