✍🏻 محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ملک جب اپنی گنگا جمنا فضا میں سانس لیتا ہے تو اس کی ہوا میں ایک سوال ہمیشہ معلق رہتا ہے کہ وطن کی محبت کا پیمانہ آخر کس نے طے کیا ہے؟ وندے ماترم کے متعلق ہونے والی حالیہ ہنگامہ آرائی بھی اسی سوال کا ایک شوریدہ باب ہے جیسے قوم کی وفاداری کا ترازو اب صرف ایک ترانہ بن گیا ہو۔ حالانکہ دستور ہند کی روح، اس کے صفحات کی سیاہی، اس کی دفعات کی معنویت سب پکار پکار کر بتا رہی ہیں کہ حب الوطنی کو جبر کے سانچے میں قید نہیں کیا جا سکتا، ضمیر کی آزادی پر کسی نعرے کا پہرہ نہیں بٹھایا جا سکتا اور کسی گیت کی تلاوت یا عدم تلاوت کو محبت وطن کا معیار بنانا آئین کی عظمت کے چہرے پر گرد ڈالنے کے مترادف ہے۔ مگر سیاست کے بازار میں کون آئین کی پکار سنتا ہے؟ یہی آ کر تاریخ اپنے اوراق الٹتی ہے اور ہمیں دکھاتی ہے کہ تحریک آزادی کے سینہ چاک رہنماؤں ( مولانا حسرت موہانی، مولانا شبلی، مولانا ابوالکلام آزاد ) نے وندے ماترم کے مذہبی پہلو پر اپنے علمی استدلال رکھے تھے مگر وطن سے ان کی محبت ایسی خالص کہ اس مٹی کے لیے جان لٹانا بھی ان کے نزدیک عبادت سے کم نہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم سرزمین کی حفاظت کے لیے آخری سانس تک کھڑے ہیں مگر عبادت صرف اللہ کی ہوگی۔ یہی اصولی محبت مسلمانوں کا ورثہ ہے جو غیرتِ ایمانی کی دھار بھی رکھتی ہے اور وطن کی محبت کی حرارت بھی اور یہی وہ نکتہ ہے جسے دستور ساز کمیٹی نے بھی محسوس کیا کہ گیت کے بعض حصوں میں مادری پوجا کا عقیدہ شامل ہے اس لیے صرف ابتدائی دو بندوں کو قومی گیت کا درجہ دیا گیا اور کسی شہری پر اسے لازمی نہ ٹھہرایا گیا مگر آج کے سیاسی شور میں یہ حقیقت کون سننے کو تیار ہے کہ سپریم کورٹ بھی واضح کر چکا ہے کہ کسی کو قومی گیت یا ترانہ پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جب تک احترام برقرار رہے۔ مگر قوم کو بانٹنے والوں کو بھلا انصاف اور آئین کی کب پروا ہے؟ وہ تو ایسے نعرے تراشتے ہیں جیسے ملک کی محبت کا ٹھیکہ انہی کے پاس ہو۔۔۔۔
وندے ماترم پر بحث کا اصل جوہر یہی ہے کہ اختلاف عبادت کے اصول سے ہے، وطن سے نہیں۔ عقیدہ اپنی جگہ محفوظ اور وطن اپنی جگہ محترم اور مسلمان جب لا الٰہ الا اللہ کہتا ہے تو اسی توحید کی روشنی میں اپنی سرزمین کی حفاظت بھی ایمان سمجھتا ہے۔ اس لیے عقل و انصاف کی آواز یہی کہتی ہے کہ اس گیت کا احترام اپنی جگہ مگر اسے وفاداری کی کسوٹی بنانا ملک کی فکری بنیادوں کو کمزور کرنا ہے۔ کیونکہ جمہوریت اختلاف سے بنتی ہے اور حب الوطنی اس خاموش جذبے سے جو دلوں میں جاگتا ہے نعروں کے دباؤ سے نہیں اور عقلاء کی آراء میں اس وقت ملک کو نعرہ پرستی سے نہیں اصول پسندی سے بچانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ مٹی ہم سب کیhttps://whatsapp.com/channel/0029Vb6ClOvDuMRbbKrnXM3B مشترکہ سانسوں کی خوشبو سے آباد رہے۔۔۔۔۔

محمد پالن پوری