آن لائن تعلیم: ایک مؤثر وسیلہ، بشرطِ تربیت
✒️مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
ہر عمل کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں اور کچھ وسائل، جہاں مقاصد اصل اور وسائل ان کے تابع ہوتے ہیں۔ تعلیم و تربیت انسان کی سب سے بڑی ضرورت اور اصل مقصد ہے، جبکہ اس کے حصول کے ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی کو درسگاہ یا مدرسہ میں جا کر علم حاصل کرنے کی سہولت میسر آئے تو یہ بلاشبہ زیادہ مؤثر اور باعثِ برکت طریقہ ہے۔ تاہم آج کے دور میں کثرتِ مشاغل، روزگار کی مصروفیات، مسافت کی دشواریاں اور عالمی سطح پر تیز رفتار روابط نے آن لائن تعلیم کو ایک مضبوط اور رائج وسیلہ بنا دیا ہے۔
آن لائن تعلیم کے نمایاں فوائد:
دنیا کے کسی بھی کونے سے مستند اساتذہ تک رسائی ممکن ہے۔
محدود وقت رکھنے والے افراد اپنے شیڈول کے مطابق تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
تعلیمی اخراجات میں بچت اور سہولت۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف آن لائن ذرائع سے مطالعہ، ریسرچ اور علمی مواد تک فوری رسائی۔
ایسے افراد جو بیرونِ ملک یا دور دراز مقامات پر ہیں، وہ بھی تعلیم و تربیت سے محروم نہیں رہتے۔
لیکن یہ بات ملحوظ رکھنی ضروری ہے کہ آن لائن تعلیم محض علم کے نقوش ذہن تک منتقل کرنے کا نام نہ بن جائے، بلکہ ساتھ ساتھ تربیت، اخلاقی رہنمائی اور روحانی اصلاح کا پہلو بھی قائم رہے۔ اس کے لئے اساتذہ اور طلبہ دونوں کو آن لائن تعلیم کے آداب اور شرعی حدود و قیود کو سمجھ کر اس کا اہتمام کرنا ہوگا۔
گویا آن لائن تعلیم کو اگر مقصد نہیں بلکہ وسیلہ سمجھتے ہوئے اختیار کیا جائے اور اس کے ساتھ تربیت کا اہتمام کیا جائے، تو یہ وقت کی ایک بڑی ضرورت بھی ہے اور ایک عظیم نعمت بھی۔
واللہ اعلم بالصواب