تحریر: شفیق الرحمن
وقت افراد اور اقوام کا سرمایہ ہے۔
ترقی کی وہ راہیں جو سرمایہ کے ٹھیک استعمال کی بدولت طے ہو سکتی ہیں ، ان اقوام کی راہ گزر بن سکتی ہیں، جو اس قیمتی دولت کو صحیح استعمال کرتے ہیں۔فرد معاشرے کا حصہ ہے ، اور افراد ہی کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر ہوتی ہے ، کسی قوم کی ترقی کی پہلی علامت یہ ہے کہ اس کے افراد ضیاع وقت کی آفت کا شکار نہ ہو جائیں۔
مشہور ہے کہ کسی شخص نے ہارون الرشید کے دربار میں حیرت انگیز کرتب دکھایا تو ہارون الرشید نے حکم دیا کہ اس
،شخص کو دس دینار دیے جائیں
اور دس کوڑے لگائے جائیں ، حاضرین نے اس عجیب و غریب انعام کی وجہ پوچھی تو ہارون الرشید نے کہا دس دینار اس شخص کی ذہانت کا انعام ہے ، اور دس کوڑے اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے قیمتی وقت کو ایسے کام میں صرف
کیا جس کا دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں۔
عامر بن عبدالقیس کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے کسی نے ایک مرتبہ بات کرنا چاہی ، تو فرمانے لگے سورج کی گردش روک دو تو تم سے بات کرنے کے لیے وقت نکالوں گا۔
داؤد طائی روٹی کے بجائے چورا استعمال کرتے تھے ، اور یہ فرماتے تھے دونوں کے استعمال میں کافی فرق ہے ، روٹی کھانے چبانے میں کافی وقت لگ جاتا ہے ، جبکہ چورے کے استعمال سے اتنا وقت بچ نکل آتا ہے جس میں پچاس آیات تلاوت کی
جا سکتی ہیں۔
! معزز قارئین
جنہوں نے اپنے وقت کی قدر کی وقت نے ان کی
،عظمت کو ثریا ستارے تک پہنچا دیا
وقت کی قدر کیجئے وقت آپ کی قدر کرے گا۔