الحمدللہ! کل مفتی سلمان ازہری حفظہ اللہ کا بیان سننے کا شرف حاصل ہوا۔ بیان میں انہوں نے دو ایسی باتوں کا ذکر کِیا، جنہیں سن کر دل دہل گیا اور کچھ دیر کے لیے مانو دماغ نے کام کرنا ہی بند کر دیا۔ اور وہ کیفیت ابھی تک باقی ہے۔


پہلی بات جو انہوں نے بتائی کہ ”دو بھائیوں نے اپنی بہن سے زنا کیا۔“ اللہ اکبر کبیرا ! سن کر روح کانپ گئی۔ اسلامی معاشرے میں ایسا ہونا بہت بڑی بات ہے۔ آخر یہاں تک نوبت

کیسے پہنچی؟ اس میں والدین کی بے توجہی شامل ہے۔ والدین اس قدر غافل ہو گئے ہیں کہ ان کے گھر میں کیا چل رہا ہے؟ کچھ مطلب ہی نہیں ہے۔ بس دنیا کمانے کے چکر میں سب کچھ بھول بیٹھے ہیں! نہ خود کی آخرت کی فکر باقی رہی اور نہ اپنے بچوں کی!


دوسری بات جو انہوں نے بتائی کہ چوتھی کلاس میں پڑھنے والے بچے کو اس کے دادا مفتی صاحب کے پاس لے کر آئے اور عرض کی کہ یہ بچہ نشہ کرتا ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا: اتنا چھوٹا بچا نشہ کیسے کر سکتا ہے اور کس طرح کا نشہ کرتا ہے؟ دادا نے کہا کہ بچے سے ہی پوچھ لیجیے۔ انہوں نے بچے سے پوچھا: بیٹے! آپ کیسا نشہ کرتے ہو؟ بچے نے کہا کہ چرس اور گانجا کا۔ مفتی صاحب نے اگلا سوال کیا کہ آپ کو یہ چیزیں کہاں سے ملتی ہیں؟ بچے نے جواب دیا: اسکول میں یہ سب مل جاتا ہے۔ اور اگر اسکول میں کسی دن نہ ملے تو اسکول کے باہر مل جاتا ہے۔


یہ دونوں باتیں بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ خدارا۔۔۔! اگر آج ہم نے اور آپ نے اپنے بچوں کی پرورش پر توجہ نہ دی، تو خدا نہ خواستہ کل کو یہی معاملات ہمارے گھر میں بھی ہو سکتے ہیں۔ اور بروز قیامت ان سب کا حساب و کتاب دینا بڑا مشکل ہو جائے گا۔ بچوں کی بے راہ روی اور گناہوں میں مبتلا ہونے کا سوال والدین سے بھی کیا جائے گا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِ عُمرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

”كُلُّكُمْ رَاعٍ فَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَالعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ“

(صحيح البخاري: 2554)


ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

”تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنے ماتحتوں کے بارے میں جواب دہ ہے؛ چنانچہ لوگوں کا امیر ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کى ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، غلام اپنے آقا کے مال کا ذمے دار ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس طرح تم میں سے ہر شخص ذمے دار ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔“


اللہ کے واسطے! اپنے بچوں کے ایمان و عقیدے اور جان کی حفاظت کی تدابیر اختیار کریں۔ اور اس کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ ”خود بھی علم دین حاصل کریں اور اپنی اولاد کو بھی دینی علم سے آراستہ کریں!“ ان کو اللہ تعالیٰ اور حضور تاجدار ختم نبوت ﷺ سے اتنا قریب کر دیں کہ اگر ان کی دنیا تباہ ہوتی ہے تو ہو جائے؛ لیکن وہ آخرت کی تباہی کو بالکل بھی برداشت نہ کریں!



اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!